Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 38 of 168

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ فرماتے تھے،

’’اگر لوگ اپنے معاملات میں درست رہتے تو میں کسی کو فتویٰ نہ دیتا۔ مجھے اس سے بڑھ کر کوئی خوف نہیں کہ میں اپنے کسی فتویٰ کی وجہ سے کہیں دوزخ میں نہ چلاجاؤں ۔ اس لئے میں فتویٰ دینے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہوں اور ﷲتعالیٰ کے خوف سے ڈرتا ہوں ‘‘۔

ایک روز امامِ اعظم رحمہ ﷲ کہیں جا رہے تھے کہ لاعلمی میں آپ کا پاؤں ایک لڑکے کے پاؤں پر آگیا۔ اس لڑکے نے کہا، اے شیخ ! کیا تم قیامت کے روز خدا کے انتقام سے نہیں ڈرتے؟ آپ نے یہ بات سنی تو غش کھا کر گرگئے۔ کچھ دیر بعد ہوش آیا تو مسعر بن کدام رحمہ ﷲ نے عرض کی، اس لڑکے کی بات نے آپ کے دل پر اتنا عظیم اثر کیا؟ آپ نے فرمایا، ’’ کیا عجب کہ اس کی آواز غیبی ہدایت ہو‘‘۔

آپ کے دل میں خوفِ خدا اس قدر تھا کہ ایک مرتبہ کسی شخص سے گفتگو فرما رہے تھے کہ اس شخص نے کہا، خدا سے ڈرو۔ یہ سننا تھا کہ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کا چہرہ زرد پڑگیا، سر جھکا لیا اور فرمایا، خدا تمہیں جزا دے، ہر وقت لوگوں کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی انہیں خدا کی یاد دلائے۔

ایک روز امام نے فجر کی نماز میں یہ آیت پڑھی جس کا ترجمہ یہ ہے،

’’اور ہرگز ﷲ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے‘‘

تو آپ لرز گئے اور کپکپی طاری ہو گئی۔ آپ کی اس کیفیت کو لوگوں نے محسوس کرلیا۔ امامِ اعظم رحمہ ﷲ کو جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا توآپ فرماتے، یہ مشکل میرے کسی گناہ کی وجہ سے ہے تو آپ ﷲتعالیٰ سے مغفرت چاہتے اور وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کرتے اور استغفار کرتے تو مسئلہ حل ہوجاتا۔ آپ فرماتے ، مجھے خوشی ہوئی کیونکہ مجھے امید ہے کہ رب تعالیٰ میری توبہ قبول فرمائے گا۔

اس بات کی اطلاع حضرت فضیل بن عیاض رحمہ ﷲ کو ہوئی تو بہت روئے اور فرمایا، ’’ﷲتعالیٰ امام ابوحنیفہ پر رحم فرمائے، یہ بصیرت ان کے گناہوں کی کمی کی وجہ سے ہے جبکہ دوسرے لوگوں کو یہ بیداری حاصل نہیں ہوتی کیونکہ وہ گناہوں میں مستغرق ہوتے ہیں ‘‘۔

فضیل بن دکین رحمہ ﷲ فرماتے ہیں،

’’میں نے تابعین وغیرہ کی ایک جماعت کو دیکھا تو کسی کو امام ابوحنیفہ رحمہ ﷲ سے اچھی طرح نماز پڑھتے ہوئے نہ پایا۔ آپ نماز شروع کرنے سے پہلے روپڑتے اور دعا فرماتے تو دیکھنے والا کہتا، واقعی خدا سے ڈرنے والے یہی ہیں‘‘۔ امام ابن حجرشافعی رحمہ ﷲاپنی طویل گفتگو کے اختتام پر فرماتے ہیں ، ’’رات کو جب آپ نماز ادا فرماتے تو چٹائی پر آپ کے آنسوؤں کے گرنے کی آواز اس طرح آتی جس طرح بارش کے قطرے گرتے ہیں ۔ رونے کا اثر آپ کی آنکھوں اور رخساروں پر نظر آتا تھا۔ پس ﷲتعالیٰ ان پر رحمت فرمائے اور ان سے راضی ہو‘‘۔

زہد و تقویٰ: حضرت عبدﷲ بن مبارک رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’میں نے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے زائد متقی کسی کو نہ دیکھا۔ تم ایسے شخص کی کیا بات کرتے ہو جس کے سامنے کثیر مال پیش کیا گیا اور اس نے اس مال کو نگاہ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں ۔ اس پر اسے کوڑوں سے مارا گیا مگر اس نے صبر کیا اور جس نے ﷲتعالیٰ کی رضا کی خاطر مصائب کو برداشت کیا مگر مال ومتاع قبول نہ کیابلکہ دوسروں کی طرح (جاہ و مالِ دنیا کی) کبھی تمنا اور آرزو بھی نہ کی حالانکہ لوگ ان چیزوں کے لیے سوسو جتن اور حیلے کرتے ہیں ۔بخدا آپ ان تمام علماء کے برعکس تھے جنہیں ہم مال و انعام کے لیے دوڑتا دیکھتے ہیں ۔ یہ لوگ دنیا کے طالب ہیں اور دنیا ان سے بھاگتی ہے۔ جبکہ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ وہ تھے کہ دنیا ان کے پیچھے آتی تھی اور آپ اس سے دور بھاگتے تھے‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up