Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 37 of 168

امام ابو یوسف رحمہ ﷲفرماتے ہیں ، امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ رات کے وقت ایک قرآن پاک نوافل میں ختم کیا کرتے تھے۔ رمضان المبارک میں ایک قرآن صبح اور ایک قرآن عصر کے وقت ختم فرمایا کرتے تھے اور عام طور پر رمضان کے دوران باسٹھ (۶۲) بار قرآن مجید ختم کرلیا کرتے تھے۔

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے پچپن(۵۵) حج کیے۔ آخری حج میں کعبہ شریف کے مجاوروں سے اجازت لے کر کعبہ کے اندرچلے گئے اور وہاں آپ نے دو رکعت میں پورا قرآن اس طرح تلاوت کیا کہ پہلی رکعت میں دائیں پاؤں پر زور رکھا اور بائیں پاؤں پر دباؤ نہیں دیا۔ اس حال میں نصف قرآن تلاوت کیا پھر دوسری رکعت میں بائیں پاؤں پر زور رکھا اگرچہ دوسرا پاؤں بھی زمین پر تھا مگر اس پر وزن نہیں دیا۔ اس طرح آپ نے بقیہ نصف قرآن کی تلاوت مکمل کی۔ نماز کے بعد روتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی، ’’اے میرے رب! میں نے تجھے پہچانا ہے جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے لیکن میں تیری ایسی عبادت نہ کرسکا جیسا کہ عبادت کا حق تھا، مولا تو میری خدمت کی کمی کو معرفت کے کمال کی وجہ سے بخش دے‘‘۔

تو غیب سے آواز آئی،’’ اے ابوحنیفہ ! تم نے ہماری معرفت حاصل کی اور خدمت میں خلوص کا مظاہرہ کیا اس لئے ہم  نے تمہیں بخش دیا اور قیامت تک تمہارے مذہب پر چلنے والوں کو بھی بخش دیا‘‘۔ سبحان ﷲ!

خشیتِ الٰہی:حافظ ابن حجر رحمہ ﷲ  نے الخیرات الحسان میں آپ کے خوفِ خدا اور مراقبہ کے عنوان سے ایک باب تحریر کیا ہے۔

آپ رقم طراز ہیں ، ’’ اسد بن عمرو رحمہ ﷲ نے فرمایا، امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے رونے کی آواز رات میں سنی جاتی تھی یہاں تک کہ آپ کے پڑوسی آپ پر ترس کھاتے۔

وکیع رحمہ ﷲ فرماتے ہیں، بخدا آپ بہت دیانت دار تھے اور خدا کی جلالت اور کبریائی آپ کے قلب میں راسخ تھی۔ آپ اپنے رب کی خوشنودی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے اور چاہے تلواروں سے ان کے ٹکڑے کردیے جاتے وہ اپنے رب کی رضا نہ چھوڑتے۔ آپ کا رب آپ سے ایسا راضی ہوا جیسے ابرار سے ہوتا ہے اور امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ واقعی ابرار میں سے تھے‘‘۔

یزید بن لیث رحمہ ﷲکہتے ہیں، امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ ﷲتعالیٰ کے برگزیدہ لوگوں میں سے تھے۔ امام نے نمازِ عشاء میں سورۃ زلزال تلاوت کی۔ جب نماز ختم ہوئی تو میں نے دیکھا کہ امامِ اعظم متفکر بیٹھے ہیں اور لمبی لمبی سانسیں لے رہے ہیں ۔ میں وہاں سے چلا آیا اور چراغ جس میں تیل کم ہی تھا، وہیں چھوڑ دیا کہ کہیں ان کا دھیان نہ بٹے۔ صبح صادق کے وقت میں مسجد آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی داڑھی پکڑے ہوئے ہیں اور فرمارہے ہیں ، ’’اے وہ ذات جو ذر ہ بھر برائی کے بدلے سزا دیتا ہے، اگر نعمان کی جزا تیرے پاس جہنم یا اس سے قریب ہے تو اسے تو اپنی رحمت میں داخل فرما‘‘۔

راوی کہتے ہیں ، جب میں پہنچا تو چراغ ٹمٹمارہا تھا۔ آپ نے فرمایا، کیا چراغ لینے آئے ہو؟ میں نے عرض کی، حضور! فجر کی اذان ہو چکی ہے۔ آپ نے فرمایا، جو تم نے دیکھا اسے چھپانا۔ پھر آپ نے عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی۔

ابوالاحوص رحمہ ﷲفرماتے ہیں،

’’اگر امامِ اعظم رحمہ ﷲ سے یہ کہا جاتا کہ آپ تین دن تک انتقال کرجائیں گے تو بھی آپ اپنے معمول کے اعمال سے کچھ زیادہ نیکی نہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ اس قدر نیکیاں کرتے تھے کہ اس میں اضافہ ممکن ہی نہ تھا‘‘۔

امام ابو یحییٰ نیشاپوری رحمہ ﷲ کہتے ہیں، میں نے ساری رات امام ابوحنیفہ رحمہ ﷲ کو نماز پڑھتے اور ﷲتعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے دیکھا۔ میں دیکھتا کہ آپ کے آنسو مصلے پر بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے ہیں ۔

Share:
keyboard_arrow_up