Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 36 of 168

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے تمام رات عبادت کرنے کا باعث یہ واقعہ ہوا کہ ایک بار آپ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں آپ نے کسی شخص کو یہ کہتے سنا، ’’یہ امام ابوحنیفہ ہیں جو تمام رات ﷲ کی عبادت کرتے ہیں اور سوتے نہیں ‘‘۔ آپ نے امام ابویوسف رحمہ ﷲ سے فرمایا، سبحان ﷲ! کیا تم خدا کی شان نہیں دیکھتے کہ اس نے ہمارے لیے اس قسم کا چرچا کردیا، اور کیا یہ بری بات نہیں کہ لوگ ہمارے متعلق وہ بات کہیں جو ہم میں نہ ہو، لہٰذا ہمیں لوگوں کے گمان کے مطابق بننا چاہیے۔ خدا کی قسم ! میرے بارے میں لوگ وہ بات نہیں کہیں گے جو میں نہیں کرتا۔ چنانچہ آپ تمام رات عبادت و دعا اور آہ و زاری میں گزارنے لگے۔

مسعر بن کدام رحمہ ﷲ فرماتے ہیں، میں امامِ اعظم رحمہ ﷲ کی مسجد میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ نے فجر کی نماز پڑھی اور لوگوں کو علم سکھانے میں مشغول ہو گئے، یہاں تک کہ آپ نے نمازِ ظہر ادا کی پھر لوگوں کو عصر تک علم دین سکھاتے رہے پھر عصر ادا فرمائی۔ اسی طرح عصر سے مغرب اور مغرب سے عشاء تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔ پھر عشاء پڑھ کر گھر تشریف لے گئے۔ آپ کا یہ معمول دیکھ کر میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ جب آپکی تدریسی مصروفیات اس قدر ہیں تو آپ نفل عبادات کیسے کرتے ہوں گے۔

چنانچہ میں ضرور آپ پر نگاہ رکھوں گا ۔ جب لوگ عشاء پڑھ کر گھروں کو جا چکے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ گھر سے صاف ستھرا لباس پہن کر مسجد میں تشریف لائے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا آپ دولھا ہیں ۔ آپ نفل نماز پڑھتے رہے یہانتک کہ صبح صادق طلوع ہوگئی۔ پھر آپ گھر تشریف لے گئے ۔ جب کچھ دیر بعد واپس تشریف لائے تو لباس بدلا ہوا تھا ۔ آپ نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی اور پھر حسبِ سابق وہی درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا جو عشاء تک جاری رہا۔ میں نے خیال کیا کہ آج رات یہ ضرور آرام کریں گے۔ مگر دوسری رات بھی وہی معمول دیکھا جو پہلی رات کا تھا۔ میں نے یہ گمان کیا اب تیسری رات تو ضرور آرام کریں گے مگر تیسری رات بھی وہی معمول دیکھا ۔ تو میں نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک میں زندہ ہوں ، امام ابوحنیفہ رحمہ ﷲ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا لہٰذا میں نے مستقل ان کی خدمت میں رہنے اور ان کی شاگردی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

امام مسعر رحمہ ﷲفرماتے ہیں، میں نے امامِ اعظم رحمہ ﷲ کو دن میں کبھی بغیر روزہ کے نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی رات میں سوتے ہو ئے پایا البتہ ظہر سے قبل آپ کچھ دیر آرام کرلیا کرتے تھے، آپ کا ہمیشہ یہی معمول رہا۔

علامہ ابن حجر رحمہ ﷲ فرماتے ہیں، مسعر بن کدام رحمہ ﷲ بھی بڑے خوش نصیب تھے کہ ان کا وصال امامِ اعظم رحمہ ﷲ کی مسجد میں ایسی حالت میں ہوا جب وہ سجدہ کی حالت میں اپنی جبینِ نیاز، بارگاہِ بے نیاز میں جھکا چکے تھے۔

ابو حفص رحمہ ﷲ نے بھی امامِ اعظم رحمہ ﷲ کا یہ معمول بیان کیا ہے کہ آپ روزانہ عشاء کے بعد گھر تشریف لے جاتے اور پھر کچھ وقت گزار کر مسجد میں آتے اور اسی طرح رات بھر عبادت کرتے اور اذانِ فجر سے قبل گھر چلے جاتے اور پھر فجر کی نماز کے لیے دوبارہ آتے اور اس طرح عام لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ وہ ساری رات گھر میں رہے ہیں ۔

خارجہ بن مصعب رحمہ ﷲ نے فرمایا، قرآن مجید کو ایک رکعت میں شروع سے ختم تک چار حضرات نے پڑھا ہے اور وہ ہیں ، حضرت عثمانِ غنی، تمیم داری، سعید بن جبیر، اور امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہم۔

علامہ ابن حجر شافعی رحمہ ﷲ ایک رکعت میں پورا قرآن تلاوت کرنے سے متعلق اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں،

’آپ کا ایک رکعت میں قرآن ختم کرنا اس حدیث کے منافی نہیں کہ ’’جس نے قرآن کو تین رات سے کم میں ختم کیا وہ فقیہ نہ ہوا‘‘ کیونکہ یہ اس کے لیے ہے جو صاحبِ کرامت نہ ہو، یاد کرنے میں اور آسانی میں اور وقت کی وسعت میں ۔ اس لیے بہت سے صحابہ و تابعین سے منقول ہے کہ وہ ایک رکعت میں ختم کرتے تھے بلکہ بعض نے تو مغرب و عشاء کے درمیان چار مرتبہ ختم کیا اور یہ سب کرامت کے طور پر ہے اس لیے قابلِ اعتراض نہیں۔ 

Share:
keyboard_arrow_up