Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 35 of 168

یہ کہتے ہوئے آپ رو پڑے اور روتے روتے بیہوش ہوکر گر پڑے پھر ہوش آیا تو اس شخص نے کہا، مجھے معاف کردیجئے۔ آپ نے فرمایا، ’’ جس جاہل نے بھی میرے بارے میں کچھ کہا وہ معاف ہے اور جو علم کے باوجود مجھ میں عیب بتائے تو وہ قصور وار ہے۔

علامہ ابن حجر رحمہ اللّٰہ رقم طراز ہیں کہ: آپ بہت باوقار انسان تھے ، جب گفتگو فرماتے تو کسی کے جواب کے لیے ہی فرماتے اور بیکار و لغو باتوں پر غور نہ کرتے اور نہ ہی ایسی باتیں سنتے ۔ جب آپ کے پاس کوئی شخص آکر کہتا کہ فلاں نے ایسی بات کہی ہے تو آپ فرماتے ،یہ بات چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ فلاں معاملہ میں کیا کہتے ہو۔ یہ کہہ کر اس کی بات منقطع فرماتے اور ارشاد فرماتے، ایسی باتیں کہنے سے بچو جنہیں لوگ ناپسند کرتے ہوں ۔

ایک دفعہ آپ مسجدخیف میں تشریف فرما تھے، شاگردوں اور ارادت مندوں کا حلقہ تھا۔ ایک شخص نے مسئلہ پوچھا، آپ نے مناسب جواب دیا۔ اس نے کہا ، مگر حسن بصری نے اس کے خلاف بتایا ہے، آپ نے فرمایا ، حسن بصری رحمہ اللّٰہ سے اس مسئلہ میں اجتہادی غلطی ہوئی ہے۔ ایک شخص کھڑا ہوا جس نے کپڑے سے منہ چھپایاہوا تھا۔وہ کہنے لگا، ’’ اے زانیہ کے بیٹے، تم حسن بصری کو خطا کار اور غلط کہتے ہو‘‘۔  اس بیہودہ گوئی پر لوگ مشتعل ہو گئے اور اسے مارنا چاہا مگر امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے انہیں روک دیا اور سب کو خاموش کرکے بٹھادیا ۔ اور اس شخص سے نہایت تحمل اور وقار کے ساتھ فرمایا ، ’’ ہاں حسن بصری رضی اللّٰہ عنہ سے غلطی ہوئی اور عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ نے اس بارے میں جو حضور سے روایت کی ہے وہ صحیح ہے‘‘۔

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ ایک دن مسجد میں درس دے رہے تھے کہ ایک شخص جو آپ سے بغض و عناد رکھتا تھا، آکر آپ کی شان میں برے الفاظ کہنے لگا۔ آپ نے توجہ نہ کی اور اسی طرح درس میں مشغول رہے اور شاگردوں کو اس کی طرف توجہ کرنے سے منع فرمادیا۔ جب آپ درس کے بعد گھر کی طرف چلے تو وہ شخص بھی گالیاں بکتا ہوا پیچھے پیچھے چلا۔ آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا بلکہ خاموشی اور وقار سے سر جھکائے اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔  وہ آپ کے دروازے پر سر ما رنے لگا اور بولا، تم مجھے کتا سمجھتے ہو کہ میں بھونک رہا ہوں اور تم جواب بھی نہیں دیتے۔

اس قسم کا ایک اور واقعہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ اپنے گھر کے قریب پہنچے تو کھڑے ہوگئے اور اس گالیاں بکنے والے سے فرمایا، یہ میرے گھر کا دروازہ ہے اور میں اندر جانا چاہتا ہوں اس لئے تم جتنی گالیاں دینا چاہو دے لو تاکہ تمہیں کچھ حسرت باقی نہ رہے۔ وہ شخص شرم سے سر جھکا کر بولا، آپ کی برداشت کی انتہا ہے آپ مجھے معاف کردیں ۔آپ نے فرمایا، جاؤ تمہیں معاف کردیا۔

بقول امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ، ’’ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ مال میں سخاوت کرنے والے اور علم سکھانے میں صبر کرنے والے تھے۔آپ بہت بردباری سے اپنے متعلق کیے جانے والے اعتراضات کو سنتے تھے اور غصہ سے کوسوں دور تھے‘‘۔

عبادت و ریاضت: علامہ ابن حجر رحمہ ﷲ لکھتے ہیں ،’’امام ذہبی رحمہ ﷲ نے فرمایا، امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کا پوری رات عبادت کرنا اور تہجد پڑھنا تو اتر سے ثابت ہے اور یہی وجہ ہے کہ کثرتِ قیام کی وجہ سے آپ کو وتد یعنی میخ (کیل) کہا جاتا تھا۔ آپ تیس سال تک ایک رکعت میں مکمل قرآن پڑھتے رہے اور آپ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے عشاء کے وضو سے فجر کی نماز چالیس سال تک پڑھی‘‘۔ 

Share:
keyboard_arrow_up