Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 34 of 168

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا تقویٰ اور امانت و دیانت کے باعث علماء اور عوام آپ کی بے حد عزت کیا کرتے تھے جبکہ مخالفین و حاسدین حسد کی آگ میں جلتے رہتے اور مختلف حربے استعمال کرکے آپ کے مقام و رتبے کو گھٹانے کی مذموم کوشش کرتے۔

ایک بار ایک شخص کے ذریعے آپ کے پاس ایک تھیلی امانت رکھوائی گئی جس پر سرکاری مہر بھی لگی ہوئی تھی۔ حاسدوں کی بدگمانی یہ تھی کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کچھ عرصہ بعد یقیناً اس رقم کو کاروبار میں استعمال کرلیں گے اور اسی پر گرفت کی جائے گی۔ چنانچہ اس منصوبہ بندی کے ساتھ ایک شخص نے کوفہ کے قاضی ابن ابی لیلیٰ کے پاس دعویٰ دائر کیا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ نے فلاں شخص کا مال تجارت کے لیے اپنے بیٹے کو دے دیا ہے حالانکہ یہ مال امانت کے طور پر رکھوایا تھا۔ چنانچہ امام صاحب کو طلب کیا گیا اور بتایا گیا کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ نے فلاں شخص کی امانت اپنے کاروبار میں لگادی ہے۔ آپ نے فرمایا، یہ الزام بالکل غلط ہے۔ اس کی امانت جوں کی توں میرے پاس محفوظ ہے۔ اگر آپ چاہیں تو سرکاری نمائندہ بھیج کر تصدیق کر لیں ۔جب وہ لوگ آئے توآپ کے مال خانے میں وہ امانت ویسی ہی موجود پائی جس پر سرکاری مہر لگی ہوئی تھی۔یہ دیکھ کر سب کو ندامت ہوئی۔

ان کے لیے ندامت اور حیرت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ  کے پاس اتنی کثیر امانتیں جمع تھیں جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں ۔

محمد بن الفضل رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، جب امامِ اعظم کا وصال ہوا تو آپ کے پاس لوگوں کی پانچ کروڑ کی امانتیں تھیں جنہیں آپ کے بیٹے حضرت حماد رحمہ اللّٰہ نے لوگوں کو لوٹایا۔

یہ بات غور طلب ہے کہ یہ وہ رقم ہے جو آپ کے وصال کے بعد موجود تھی جبکہ آخری عمر میں خلیفہ کی مخالفت کے باعث آپ کے کے لیے جیل کی قیداور دیگر سزاؤں کا امکان بہت بڑھ چکا تھا ۔ لہٰذا آپ کے تقویٰ اور بصیرت کے باعث یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ آپ نے اس زمانے میں ان امانتوں  کی ذمہ داریوں سے سب کدوش ہونے کی کوشش میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہوگی لیکن لوگوں کی امانتوں کا سلسلہ اس قدر وسیع تھا کہ اسے سمیٹتے سمیٹتے بھی پانچ کروڑ کی امانتیں بچ گئیں جو بعد میں آپ کے فرزند نے ان لوگوں تک پہنچائیں ۔

اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے لوگوں کی امانتوں کی حفاظت کا ایک عظیم نظام قائم کیا ہوا تھا۔ دفتر، مال خانہ، ملازم، کھاتہ رجسٹر اور حساب کتاب کرنے والے حساب داں یقیناً اس نظام کا حصہ ہوں گے۔

اس بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ لوگوں کے اموال و رقوم کی حفاظت اور ان کی اصل مالکوں کو واپسی یقینی بنانے کے لیے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کر کے سود سے پاک خالص اسلامی بینک کا واضح تصور پیش کرچکے ہیں۔

صبر و حلم: امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ جلالتِ شان کے باوجود نہایت حلیم و بردبار اور متواضع انسان تھے۔ آپ عظیم قوتِ برداشت اور بے پناہ صبر و تحمل کا پیکر تھے۔ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ سے مناظرے کے دوران گستاخانہ گفتگو شروع کی اورآپ کو بدعتی اور زندیق کہہ کر مخاطب کیا۔اس پر آپ نے فرمایا ،’’ﷲتعالیٰ تمہاری مغفرت کرے، وہ خوب جانتا ہے میرے بارے میں جو تم نے کہاوہ سچ نہیں ہے۔ میں تمہارے عقیدے سے اتفاق نہیں کرتا۔ جب سے میں نے ﷲتعالیٰ کو پہچانا ہے اس کے برابر کسی کو نہ جانا۔ میں اس کی بخشش کا امیدوار ہوں اور میں اس کے عذاب سے ڈرتا ہوں ‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up