Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 33 of 168

اس حوالے سے ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے جسے علامہ موفق بن احمد مکی رحمہ اللّٰہ نے تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: کوفہ میں ایک مالدار شخص تھا ۔ بڑا خوددار اور حیادار تھا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ غریب اور محتاج ہوگیا۔ وہ بازار جا کر مزدوری کرتا، مشقت اٹھاتا اور صبر کرتا۔ ایک دن اس کی بچی نے بازار میں ککڑی دیکھی۔ گھر آکر ماں سے ککڑی لینے کے لیے پیسے مانگے مگر ماں اس کی خواہش پوری نہ کرسکی۔ گھر کا سامان پہلے ہی بک چکا تھا ۔ بچی رونے لگی۔ اس شخص نے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے امداد لینے کا ارادہ کیا۔ وہ آپ کی مجلس میں آکر بیٹھا مگر شرم و حیا اور خودداری کے باعث اس کی زبان نہ کھل سکی۔

امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے اپنی فراست سے بھانپ لیا کہ اس شخص کو کوئی حاجت ہے۔ مگر حیا کے باعث یہ سوال نہیں کررہا۔ جب وہ شخص اٹھ کر وہاں سے جانے لگا تو آپ نے ایک آدمی اس کے پیچھے روانہ کردیا۔ اس شخص نے گھر جاکر اپنی بیوی کو بتایا کہ میں شرم کے باعث اس بابرکت مجلس میں کچھ نہ مانگ سکا۔ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے بھیجے ہوئے آدمی نے واپس جاکر یہ سب احوال امام صاحب کے گوش گزار کردیا۔ جب رات کا ایک حصہ گزر گیا تو امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ پانچ ہزار درہم کی تھیلی لے کر اس شخص کے گھر پہنچ گئے اور دروازہ کھٹکھٹا کر فرمایا ، ’’ میں تمہارے دروازے پر ایک چیز رکھے جارہا ہوں اسے لے لو‘‘۔

یہ فرما کر آپ واپس آگئے۔ اس کے گھر والوں نے تھیلی کھولی تو اس میں پانچ ہزار درہم تھے اور ایک کاغذ کے پر زے پر یہ تحریر تھا، ’’ تمہارے دروازے پر ابوحنیفہ یہ تھوڑی سی رقم لے کر آیا تھا یہ اس کی حلال کی کمائی ہے اسے استعمال میں لاؤ اور واپس نہ کرنا‘‘۔

امانت داری: حکم بن ہشام رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ’’امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ لوگوں میں بہت بڑے امانت دار تھے۔ جب خلیفہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس کے خزانے کے متولی اور نگراں بن جائیں ورنہ وہ انہیں سزا دے گا تو آپ نے ﷲ تعالیٰ کے عذاب کی بجائے خلیفہ کی ایذا رسانی کو قبول فرمالیا‘‘۔

کیونکہ اکثر بادشاہ اور حکام سرکاری خزانے کا بےجا استعمال کرتے ہیں اور آپ ان کے اس ناجائز کام میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے تھے۔ حضرت وکیع رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں ،’’ خدا کی قسم! امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ بہت بڑے امانتدار تھے۔ ان کے دل میں ﷲتعالیٰ کی شان اور اس کا خوف جلوہ گر تھا۔ اوروہ اس کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتے تھے۔‘‘

عبدالعزیز صنعانی رحمہ اللّٰہ جنہوں نے آپ سے فقہ پڑھی تھی، فرماتے ہیں ، جب میں حج پر گیا تو اپنی ایک حسین کنیز امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کے پاس بطور امانت چھوڑ گیا۔ ایک عرصہ بعد جب میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے دریافت کیا، حضور! میری کنیز نے آپ کی کیسی خدمت کی؟ آپ نے فرمایا، میں نے اس سے کبھی کوئی کام نہ لیا اور نہ ہی اسے آنکھ اٹھاکر دیکھا کیونکہ یہ آپ کی امانت تھی۔

ایک دیہا تی نے آپ کے پاس ایک لاکھ ستر ہزار درہم بطور امانت رکھے مگر وہ فوت ہوگیا ۔ اس نے کسی کو بتایا بھی نہ تھا کہ میں نے اس قدر رقم امامِ اعظم کے پاس بطور امانت رکھوائی ہے، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ جب وہ بالغ ہو ئے تو امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ان کے والد کی ساری رقم لوٹادی اور فرمایا،یہ تمہارے والد کی امانت تھی ۔ آپ نے یہ امانت خفیہ طور پر لوٹائی تاکہ لوگوں کو اتنی بڑی رقم کا علم نہ ہو اور وہ انہیں تنگ نہ کریں ۔

Share:
keyboard_arrow_up