ایک بار آپ نے ایک شخص کو اپنی مجلس میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے دیکھا تو جب لوگ جانے لگے آپ نے اسے فرمایا، تم ذراٹھہر جاؤ۔ پھر فرمایا ، میرے جاء نماز کے نیچے جو کچھ ہے وہ لے لو اور اس سے اپنی حالت سنوارو۔ اس نے جاء نماز اٹھا کر دیکھا تو وہاں ہزار درہم تھے۔ اس نے عرض کی، میں دولت مند ہوں مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ تو آپ نے فرمایا ، تم نے یہ حدیث نہیں سنی کہ ﷲتعا لیٰ اپنے بندوں پر اپنی نعمتوں کا اثر دیکھنا چاہتا ہے لہٰذا تم اپنی حالت بدلو، تاکہ تمہیں دیکھ کر کسی کو تمہارے محتاج ہونے کا شبہ نہ ہو، اور تمھارے دوست تمہاری خوشحالی سے خوش ہوں ۔
ایک مرتبہ آپ کسی بیمار کی عیادت کو جا رہے تھے کہ راستے میں ایک شخص آتا دکھائی دیا جو آپ کا مقروض تھا۔ اس نے دور سے آپ کو دیکھ لیا اور منہ چھپا کر دوسری طرف جانے لگا ۔ آپ نے اسے دیکھ لیا اور نام لے کر اس کو پکارا وہ کھڑا ہوگیا ۔ آپ نے قریب پہنچ کر فرمایا ، تم نے مجھے دیکھ کر راستہ کیوں بدلا؟ اس نے عرض کی، میں نے آپ کا دس ہزار درہم قرض ادا کرنا ہے، اس شرمندگی کی وجہ سے آپ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ آپ نے فرمایا ،سبحان ﷲ! میں خدا کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں نے سارا قرض معاف کردیا ، تم آئندہ مجھ سے منہ نہ چھپانا اور میری وجہ سے جو تمہیں ندامت اور پریشانی ہوئی اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں ۔
یہ روایت بیان کرکے شقیق ر حمہ ﷲ فرماتے ہیں، آپ کا یہ حسنِ سلوک دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ آپ سے بڑھ کر شاید ہی کوئی زاہد اور مروت کرنے والا ہو۔
ایک بار حج کے سفر میں عبدﷲ بن بکر سہمی رحمہ اللّٰہ کا کسی بدوی سے جھگڑا ہو گیا۔ وہ انہیں امام صاحب کی خدمت میں لے آیا کہ یہ میری رقم ادا نہیں کررہا۔ انہوں نے انکار کیا ۔ آپ نے بدوی سے فرمایا ، ’’ تم مجھے بتاؤ تمہارے کتنے درہم بنتے ہیں ؟ اس نے کہا، چالیس درہم۔ آپ نے فرمایا، تعجب ہے کہ لوگوں کے دلوں سے مروت و حمیت کا جذبہ ختم ہوگیا۔ اتنی سی رقم پر جھگڑا۔ مجھے تو شرم محسوس ہوتی ہے۔ پھر آپ نے اپنے پاس سے چالیس درہم اس بدوی کو ادا کردیے۔
جب آپ کے صاحبزادے حماد رحمہ اللّٰہ نے استاد سے سورہ فاتحہ پڑھی تو آپ نے ان کے استاد کو ایک ہزار درہم نذرانہ پیش کیا۔ وہ کہنے لگے، حضور میں نے کون سا اتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ آپ اتنی زیادہ رقم کا نذرانہ دے رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا آپ نے میرے بیٹے کو جو دولت عنایت کی ہے اس کے سامنے تو یہ نذرانہ بہت حقیر ہے۔ بخدا اگر میرے پاس اس سے زیادہ ہوتا تو وہ بھی پیش کردیتا‘‘۔
وکیع رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ نے مجھ سے فرمایا، حضرت علی کرم ﷲوجہہ کا ارشادِ گرامی ہے، چار ہزار یا اس سے کچھ کم نفقہ ہے یعنی سال بھر کے لیے اتنا خرچ کافی ہے۔ اس ارشادِ گرامی کی وجہ سے چالیس سال سے میں کبھی چار ہزار درہم کا مالک نہیں ہوا۔ جب بھی میرے پاس چار ہزار درہم سے زائد مال آتا ہے، میں وہ زائد مال راہِ خدا میں خرچ کردیتا ہوں ۔ اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں لوگوں کا محتاج ہوجاؤں گا تو ایک درہم بھی اپنے پاس نہ رکھتا۔
امامِ اعظم رحمۃ ﷲ علیہ نے جس خلوص و فرا خ دِلی سے عوام اور علماء کرام کی خدمت کی، اس کی مثال نہیں ملتی۔ جو لوگ آپ کی مجلس میں یونہی چند لمحے سستانے کے لیے بیٹھ جاتے ، وہ بھی آپ کی سخاوت سے فیضیاب ہوتے۔ آپ ان سے بھی ان کی ضروریات کے متعلق پوچھتے۔ اگر کوئی بھوکا ہوتا تو اسے کھانا کھلاتے، بیمار ہوتا تو علاج کے لیے رقم دیتے، کوئی حاجت مند ہوتا تو اس کی حاجت روائی کرتے۔ اگر کوئی زبان سے حاجت بیان نہ کرتا تو اس کے کہے بغیر فراستِ باطنی سے اس کا مدعا جان لیتے۔

