Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 31 of 168

حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ مکہ میں دوکانداری کرتے تھے، کپڑے کا کاروبار تھا۔ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے کوفہ میں کپڑے کی تجارت کی اور حضور کی سنتوں کی معرفت اور دین کی سمجھ بھی حاصل کی۔ اس طرح حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کا ایک ایک لمحہ آپ نے اپنی زندگی میں شامل کرلیا۔

سخاوت: امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کی وسیع تجارت کا مقصد محض دولت کمانا نہیں تھا بلکہ آپ کا مقصد لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا تھا ۔جتنے احباب اور ملنے والے تھے سب کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے۔ شیوخ اور محدثین کے لیے تجارت کا ایک حصہ مخصوص کر دیا تھا کہ اس سے جو نفع ہوتا تھا ،سال کے سال ان لوگوں کو پہنچادیا جاتا تھا۔ آپ کا عام معمول تھا کہ گھر والوں کے لیے کوئی چیز خریدتے تو اسی قدر محدثین اور علماء کے پاس بھجواتے۔ اگر کوئی شخص ملنے آتا تو اس کا حال پوچھتے اور حاجت مند ہوتا توحاجت روائی کرتے۔ شاگردوں میں جس کو تنگ دست دیکھتے اس کی گھریلو ضروریات کی کفالت کرتے تاکہ وہ اطمینان سے علم کی تکمیل کرسکے۔

بہت سے لوگ جو مفلسی کی وجہ سے علم حاصل نہیں کر سکتے تھے،آپ ہی کی دستگیری کی بدولت بڑے بڑے رتبوں پر پہنچے۔ان میں امام ابویوسف رحمہ اللّٰہ کا نام بہت نمایاں ہے۔

’’امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ تجارت کے نفع کو سال بھر جمع کرتے اور پھر اس سے اساتذہ اور محدثینِ کرام کی ضروریات مثلاً خوراک اور لباس وغیرہ خرید کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے۔ اور جو روپیہ نقد باقی رہ جاتا وہ ان حضرات کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کرکے فرماتے، میں نے اپنے مال میں سے کچھ نہیں دیا۔ یہ سب مال ﷲتعالیٰ کا ہے اور اس نے اپنے فضل و کرم سے آپ حضرات کے لیے یہ مال مجھے عطا فرمایا ہے جو میں آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں‘‘۔

سفیان بن عیینہ رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ’’امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کثرت سے صدقہ دیا کرتے تھے، ان کو جو بھی نفع ہوتا وہ دے دیا کرتے تھے۔ مجھ کو اس کثرت سے تحفے ارسال کیے کہ مجھ کو وحشت ہونے لگی۔ میں نے ان کے بعض اصحاب سے اس کا شکوہ کیا تو انہوں نے کہا، اگر تم ان تحفوں کو دیکھتے جو انہوں نے سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللّٰہ کو بھیجے ہیں تو حیران رہ جاتے۔ امامِ اعظم نے محدثین میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا کہ جس کے ساتھ بھلائی نہ کی ہو۔

امام مسعر رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں،’’ امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ جب بھی اپنے لیے یا اپنے گھر والوں کے لیے کپڑا یا میوہ خریدتے تو پہلے اسی مقدار میں کپڑا یا میوہ علماء و مشائخ کے لیے خریدتے‘‘۔

شریک رحمہ اللّٰہ نے کہا، جو شخص آپ سے پڑھتا توآپ اس کو نان و نفقہ کی طرف سے بےنیاز کردیا کرتے بلکہ اس کے گھر والوں پر بھی خرچ کرتے تھے اور جب وہ علم پڑھ لیتا تو اس سے فرماتے ،’’اب تم کوبہت بڑی دولت مل گئی ہے کیونکہ تم کو حلال و حرام کی پہچان ہو گئی ہے‘‘۔

امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ نے بیان کیا،’’ آپ نے بیس سال تک میرا اور میرے گھر والوں کا خرچہ برداشت کیا اور میں جب بھی آپ سے کہتا کہ میں نے آپ سے زائد دینے والا نہیں دیکھا تو آپ فرماتے، اگر تم میرے استاد امام حماد رحمہ اللّٰہ کو دیکھ لیتے تو ایسا نہ کہتے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا، اگر آپ کسی کو کچھ دیا کرتے تھے اور وہ آپ کا شکریہ ادا کرتا توآپ کو بڑا ملال ہوتا تھا۔آپ اس سے فرماتے ، ’’ شکر ﷲ تعالیٰ کا ادا کرو کہ اس نے یہ روزی تم کو دی ہے۔

علامہ ابن حجرمکی رحمہ اللّٰہ رقمطراز ہیں، ’’ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سب سے زیادہ اپنے اصحاب اور ہم نشینوں کی غم خواری اور ان کا اکرام کرنے والے تھے۔ اسی لیے آپ محتاجوں کا نکاح کرا دیتے اور تمام اخراجات خود برداشت کرتے تھے۔آپ ہر شخص کی طرف اس کے مرتبے کے مطابق خرچ بھیجتے تھے۔

Share:
keyboard_arrow_up