امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ چار صفات کی وجہ سے ایک کامل اور ماہر تاجر ہوئے۔
1 ۔ آپ کا نفس غنی تھا،لالچ کا اثر کسی وقت بھی آپ پر ظاہر نہ ہوا۔
2 ۔ آپ نہایت درجہ امانت دار تھے۔
3 ۔ آپ معاف اور درگزر کرنے والے تھے۔
4 ۔ آپ شریعت کے احکام پر سختی سے عمل پیرا تھے۔
ان اوصافِ عالیہ کا اجتماعی طور پر جو اثر آپ کے تجارتی معاملات پر ہوا، اُس کی وجہ سے آپ تاجروں کے طبقہ میں انوکھے تاجر ہوئے اور بیشتر افراد نے آپ کی تجارت کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کی تجارت سے تشبیہ دی ہے، گویا آپ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کی تجارت کی ایک مثال پیش کر رہے ہیں اور آپ ان طریقوں پر چل رہے ہیں جن پر سلف صالحین کا عمل تھا۔ آپ مال خریدتے وقت بھی اسی طرح امانت داری کے طریقے پر عامل رہتے تھے جس طرح بیچنے کے وقت عامل رہا کرتے تھے۔
ایک دن ایک عورت آپ کے پاس ریشمی کپڑے کا تھان بیچنے کے لیے لائی۔ آپ نے اس سے دام پوچھے ، اس نے ایک سو بتائے۔ آپ نے فرمایا، یہ کم ہیں، کپڑا زیادہ قیمتی ہے۔ اس عورت نے دو سو بتائے۔ آپ نے پھر کہا، یہ دام کم ہیں۔ اس نے پھر سو اور بڑھائے حتّٰی کہ چار سو تک پہنچ گئی۔ آپ نے فرمایا، یہ چار سو سے زیادہ کا ہے۔ وہ بولی، تم مجھ سے مذاق کرتے ہو؟ آپ نے اسے پانچ سو دےکر وہ کپڑا خریدلیا۔ اس تقویٰ اور دیانت نے آپ کے کاروبار کو بجائے نقصان پہنچانے کے اور چمکا دیا۔
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے کبھی کسی بیچنے والے کی غفلت اور لاعلمی سے فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ آپ ان کی بھلائی کے لیے ان کی بہترین راہنمائی فرماتے تھے۔ آپ اپنے احباب سے یاکسی غریب خریدار سے نفع بھی نہیں لیا کرتے تھے۔ بلکہ اپنے نفع میں سے بھی اس کو دے دیا کرتے۔ ایک بوڑھی عورت آپ کے پاس آئی اور اس نے کہا،(میری زیادہ استطاعت نہیں ، اس لیے) یہ کپڑا جتنے میں آپکو پڑا ہے اس دام پر میرے ہاتھ فروخت کردیں ۔ آپ نے فرمایا، تم چار درہم میں لے لو۔ وہ بولی، میں ایک بوڑھی عورت ہوں ، میرا مذاق کیوں اڑاتے ہو (کیونکہ یہ قیمت بہت کم ہے)؟ آپ نے فرمایا، ’’ میں نے دو کپڑے خریدے تھے اور ان میں سے ایک کپڑے کو دونوں کی قیمتِ خرید سے چار درہم کم پر فروخت کرچکا ہوں ، اب یہ دوسرا کپڑا ہے جو مجھے چار درہم میں پڑا ہے، تم چار درہم میں اسے لے لو۔‘‘
ایک مرتبہ آپ نے اپنے کاروباری شریک کو بیچنے کے لیے کپڑے کے تھان بھیجے جن میں سے ایک تھان میں کوئی نقص اور عیب تھا ۔اس سے فرمایا، جب اس تھان کو فروخت کرنا تو اس کا عیب بھی بتا دینا۔ اس نے تھان فروخت کردیے لیکن گاہک سے اس تھان کا عیب بیان کرنا بھول گئے۔ اور یہ بھی نہ یاد رہا کہ وہ عیب دار تھان کس گاہک کو فروخت کیا تھا۔ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو جب اس بات کا علم ہوا توآپ نے ان تمام تھانوں کی قیمت تیس ہزار درہم صدقہ کردی اور اس شریک کو علیحدہ کردیا۔
امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی زندگی بھر یہ کوشش رہی کہ وہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ کے نقشِ قدم پر زندگی بسر کریں اور آپ کے اقوال، افعال اورخصائل کی پیروی کریں ، کیونکہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللّٰہ عنہ تمام صحابہ کرام سے افضل تھے۔
حضور ﷺ سے قربت اس لیے تھی کہ وہ مزاج شناسِ عاداتِ رسول ﷺ تھے۔ صحابہ کرام میں سب سے بڑھ کر عالم، فقیہ، متقی، پرہیز گار، عبادت گزار، سخی، جواد اور جاں نثار آپ ہی تھے۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ تابعین میں سب سے زائد علم والے، سب سے زائد متقی، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ جواد تھے۔

