یہ سن کر خلیفہ نے کہا،’’ صالحین کے اخلاق ایسے ہی ہوتے ہیں‘‘۔ پھر اس نے کاتب کو یہ اوصاف لکھنے کا حکم دیا اور اپنے بیٹے سے کہا، ان اوصاف کو یاد کرلو۔
امام زفر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ’’مجھے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں بیس سال سے زائد مدت گزار نے کی سعادت ملی، میں نے آپ سے زیادہ لوگوں کا خیرخواہ ، ہمدرد اور شفقت کرنے والا نہیں دیکھا۔ آپ اہلِ علم کو دل و جان سے چاہتے۔ آپ کے شب و روز ﷲتعالیٰ کی یاد کے لیے وقف تھے۔ سارا دن تعلیم و تدریس میں گزرتا۔ باہر سے آنے والے مسائل کا جواب لکھتے۔ بالمشافہ مسائل پوچھنے والوں کی راہنمائی فرماتے۔ مجلس میں بیٹھتے تو وہ درس و تدریس کی مجلس ہوتی اور باہر نکلتے تو مریضوں کی عیادت، جنازوں میں شرکت، فقراء و مساکین کی خدمت، رشتہ داروں کی خبر گیری اور آنے والوں کی حاجت روائی میں مشغول ہو جاتے۔رات عبادت میں گزارتے اور قرآن مجید کی بہترین انداز میں تلاوت کرتے۔ یہی معمولات زندگی بھر قائم رہے یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔
معانی بن عمران الموصلی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں،’’امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ میں دس صفات ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی کسی میں موجود ہو تو وہ اپنی قوم کا سردار بن جاتا ہے۔
1۔ پرہیزگاری، 2۔ سچائی، 3۔ فقہی مہارت، 4۔ عوام کی خاطر مدارات اور سخاوت، 5۔ پر خلوص ہمدردی،6۔ لوگوں کو نفع پہنچانے میں سبقت،
7۔ طویل خاموشی 8۔ (فضول گفتگو سے پرہیز)، 9۔ گفتگو میں حق بات کہنا
10۔ اور مظلوم کی معاونت خواہ دشمن ہو یا دوست‘‘۔
حضرت داؤد طائی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ’’میں بیس سال تک امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کی خدمت میں رہا۔ اس مدت میں، میں نے انہیں خلوت اور جلوت میں ننگے سر اور پاؤں پھیلائے ہوئے نہیں دیکھا۔ ایک بار میں نے ان سے عرض کی۔ استادِ محترم! اگر آپ خلوت میں پاؤں دراز کر لیا کریں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟ فرمایا، خلوت میں ادب ملحوظ رکھنا جلوت کے بہ نسبت بہتر اور زیادہ اولیٰ ہے۔
امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ علم و فضل کی دنیا میں فقہ پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ آپ اپنے احباب کے لئے بے پناہ فکر مند رہتے ، علمی حاجات پوری کرنے میں بڑی توجہ اور قابلیت سے حصہ لیتے ،جسے پڑھاتے اس کے دکھ درد میں شریک ہوتے ۔ غریب و مساکین شاگردوں کا خاص خیال کرتے۔ آپ بعض اوقات لوگوں کو اتنا دیتے کہ و ہ خوشحال ہو جاتے۔ آپ کے پاس عقل و بصیرت کے خزانے تھے ، اس کے باوجود آپ مناظروں سے اجتناب فرماتے ۔آپ لوگوں سے بہت کم گفتگو فرماتے اور ان سے مسائل میں الجھتے نہیں تھے بلکہ خاموشی اختیار کرتے ۔
امامِ اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ کے حسنِ اخلاق کے بارے میں بے شمار واقعات کتب کثیرہ میں موجود ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ جس طرح علم و عمل میں بے مثل و بے مثال شان رکھتے ہیں اسی طرح حسن و اخلاق اور سیرت و کردار میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ نے توگویا سمندر کو کوزے میں سمو کر رکھ دیا ۔ آپ نے فرمایا، ’’ﷲتعالیٰ نے امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کو علم و عمل، سخاوت و ایثار اور دیگر قرآنی اخلاق سے مزین کردیا تھا‘‘۔
امامِ اعظم بحیثیت تاجر: ریشمی کپڑے کے تاجر کو عربی میں الخزاز کہتے ہیں ۔امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ ریشمی کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے۔ آپ کی تجارت بہت وسیع تھی۔ لاکھوں کا لین دین تھا۔ اکثر شہروں میں کارندے مقرر تھے۔ بڑے بڑے سودا گروں سے معاملہ رہتا تھا۔ اتنے وسیع کاروبار کے باوجود دیانت اور احتیاط کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ ناجائز طور پر ایک آنہ بھی ان کی آمدنی میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔

