جب آپ کے استاد امام حماد رضی اللّٰہ عنہ کا وصال ہوا تو لوگوں نے ان کے بیٹے سے استدعا کی کہ وہ اپنے والد کی مسند پر تشریف لائیں مگر وہ اس عظیم ذمہ داری کے لئے راضی نہ ہوئے۔ آخر کار اما م اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں گزارش کی گئی تو آپ نے فرمایا ،میں نہیں چاہتا کہ علم مٹ جائے اور ہم دیکھتے رہ جائیں ۔ چنانچہ آپ اپنے استاد مکرم کی مسند پر بیٹھے۔اہلِ علم کا ایک بڑا حلقہ آپ کے گرد جمع ہونے لگا ۔ آپ نے اپنے شاگردوں کے لئے علم و فضل کے دروازے کھول دئیے، محبت و شفقت کے دامن پھیلا دیے ،احسان و کرم کی مثالیں قائم کر دیں اور اپنے شاگردوں کو اس طرح زیور ِعلم سے آراستہ کیا کہ یہ لوگ مستقبل میں آسمانِ علم و فضل کے آفتاب و مہتاب بن کر چمکتے رہیں ۔
باب دوم(2)
اخلاق و کردار: سیدنا امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ میانہ قد، خوبصورت، خوش گفتار اور شیریں لہجے والے تھے۔ آپ کی گفتگو فصیح و بلیغ اور واضح ہوتی۔
ابو نعیم رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں ، ’’امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کا چہرہ اچھا، کپڑے اچھے، خوشبو اچھی اور مجلس اچھی ہوتی۔ آپ بہت کرم کرنے والے اور رفیقوں کے بڑے غم خوار تھے‘‘۔
عمر بن حماد رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں ، ’’ آپ خوبصورت اور خوش لباس تھے، کثرت سے خوشبو استعمال کرتے تھے، جب سامنے سے آتے یا گھر سے نکلتے تو آپ کے پہنچنے سے پہلے آپ کی خوشبو پہنچ جاتی‘‘۔
حضرت عبدﷲ بن مبارک رحمہ اللّٰہ نے سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ سے کہا،
امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ غیبت کرنے سے کوسوں دور تھے۔ میں نے کبھی نہیں سنا کہ انہوں نے اپنے کسی مخالف کی غیبت کی ہو۔
سفیان رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، ﷲ کی قسم! وہ بہت عقلمند تھے، وہ اپنی نیکیوں پر کوئی ایسا عمل مسلط نہیں کرنا چاہتے تھے جو ان کی نیکیوں کو ضائع کردے۔
شریک رحمہ اللّٰہ نے کہا، امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نہایت خاموش طبع ، بہت عقلمند اور ذہین، لوگوں سے کم بحث کرنے والے اور کم بولنے والے تھے۔
ضمرہ رحمہ اللّٰہ کے بقول: لوگوں کا اتفاق ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ درست زبان تھے ، انہوں نے کبھی کسی کا ذکر برائی سے نہ کیا اور جب ان سے کہا گیا ،لوگ آپ پر اعتراض کرتے ہیں اور آپ کسی پر اعتراض نہیں کرتے ؟ توآپ نے فرمایا، یہ ﷲ تعالیٰ کا فضل ہے ، جس کو چاہے عطا کرے۔
بکیر بن معروف رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، امتِ محمدی ﷺ میں کوئی شخص، میں نے امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔
ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ سے کہا، امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے اخلاق بیان کرو۔ انہوں نے فرمایا، ’’امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ حرام چیزوں سے خود بھی بچتے اور دوسروں کو بھی بچانے کی شدید کوشش کرتے۔ بغیر علم کے دین میں کوئی بات کہنے سے بہت ڈرتے تھے۔ وہ ﷲ تعالیٰ کی عبادت میں انتہائی مجاہدہ کرتے۔ وہ دنیا داروں سے دور رہتے اور کبھی کسی کی خوشامد نہ کرتے۔ وہ اکثر خاموش رہتے اور دینی مسائل میں غور و فکر کیا کرتے۔ علم و عمل میں بلند رتبہ ہونے کے باوجود عاجزی و انکساری کا پیکر تھے۔ جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے اگر قرآن و سنت میں اس کی نظیر نہ ملتی تو حق طریقہ پر قیاس کرتے۔ اپنے نفس اور دین کی حفاظت کرتے اور راہِ خدا میں علم اور مال و دولت خوب خرچ کرتے۔ان کا نفس تمام لوگوں سے بے نیاز تھا ، لالچ اور حرص کی طرف ان کا میلان نہ تھا ۔ وہ غیبت کرنے سے بہت دور تھے، اگر کسی کا ذکر کرتے تو بھلائی سے کرتے‘‘۔

