آپ فرماتے ہیں کہ: میں حضرت حماد رحمہ اللّٰہ کی گفتگو اکثر یاد کر لیا کرتا اور مجھے ان کے اسباق مکمل طور پر حفظ ہو جاتے۔ آپ کے شاگرد جب کوئی مسئلہ بیان کرتے تو میں ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا چنانچہ استادِ گرامی حضرت حماد رحمہ اللّٰہ نے میری ذہانت اور لگن کو دیکھ کر فرمایا ، ’’ابوحنیفہ میرے سامنے صفِ اول میں بیٹھا کرے ۔ اس دریا ئے علم سے سیراب ہونے کا یہ سلسلہ دس سال تک جاری رہا‘‘۔
امامِ اعظم اپنے استاد کی نظر میں: امام حماد رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کی عادت تھی کہ محفل میں آتے تو نہایت خاموش بیٹھتے ، اپنے وقار اور آدابِ محفل کو ملحوظِ خاطر رکھتے۔ ہم ان کی نشست و برخاست کو بھی علمی تربیت کا حصہ تصور کرتے تھے ۔وہ آہستہ آہستہ مشکل سوالات کرنے لگے۔ بعض اوقات مجھے ان کے حل کرنے میں دقت محسوس ہوتی اور مجھے خوف آتا کہ اگر ان کے استفسارات کا تسلی بخش جواب نہ ملا تو وہ مایوس نہ ہو جائیں ۔
پھر ایک وقت ایسا آیا کہ سارے کوفہ کے لوگوں میں ان کی شناخت ایک فقیہ کی حیثیت سے ہونے لگی ۔ وہ بڑے ذہین اور جلدی سمجھنے والے طالب علم تھے ۔ مجھے اندازہ تھا کہ عنقریب ایک وقت آنے والا ہے کہ عالم اسلام کے اہل علم و فضل ان کے دسترخوانِ علم سے استفادہ کرنے آنے لگیں گے اور مجھے محسوس ہوا کہ نعمان ایک ایسا آفتاب ہے جو بطنِ گیتی کی تاریکیوں کو چیرتا ہوا کائنات کو روشن کرے گا۔
ایک حیران کن خواب: آپ نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ آپ نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کھول کر آپ کے جسم ِاقدس کی ہڈیاں اپنے سینے سے لگا رہے ہیں ۔ یہ خواب دیکھ کر آپ پر سخت گھبراہٹ طاری ہو گئی ۔خوابوں کی تعبیر کے بہت بڑے عالم ،جلیل القدر تابعی امام محمد بن سیرین رضی اللّٰہ عنہ سے اس خواب کی تعبیر پوچھی گئی تو انھوں نے فرمایا ،
’’اس خواب کا دیکھنے والا حضور ﷺ کی احادیث اور سنتوں کو دنیا میں پھیلائے گا اور ان سے ایسے مسا ئل بیان کرے گا جن کی طرف کسی کا ذہن منتقل نہیں ہوا ‘‘۔ اس اشارہ ٔغیبی سے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو اطمینان اور خوشی حاصل ہوئی اور اس خواب کی تعبیر اس طرح عملی طور پر سامنے آئی کہ آپ نے سارے عالم ِاسلام کو احادیثِ نبوی کے معارف سے آگاہ فرمایا اور ایسے مسائل بیان کئے جن سے عقل حیران ہوئی ۔
حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں،
شروع میں امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے گوشہ نشین ہونے کا ارادہ فرما لیا تھا کہ دوسری بار پھر امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ ، آقا ومولیٰ ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ نورِ مجسم ﷺ نے فرمایا، ’’اے ابوحنیفہ ! تیری زندگی احیائے سنت کے لیے ہے تو گوشہ نشینی کا ارادہ ترک کر دے‘‘۔ آقا ومولیٰ ﷺ کا یہ فرمانِ عالیشان سن کر آپ نے گوشہ نشین ہونے کا ارادہ ترک فرما دیا۔
تدریس کی ابتدا: اما م اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو امام حماد رضی اللّٰہ عنہ کے حلقۂ درس میں ہمیشہ نمایاں مقام حاصل رہا۔ کچھ عرصہ بعد آپ کو خیال آیا کہ اپنا حلقۂ درس علیحدہ قائم کریں ۔ جس دن آپ نے حلقہ قائم کرنے کا ارادہ کیا اسی رات کو آپ حضرت حما د رحمہ اللّٰہ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک ان کو اطلاع ملی کہ ان کے قریبی رشتہ دار کا انتقال ہو گیا ہے چنانچہ وہ سفر پر روانہ ہو گئے اور آپ کو اپنا خلیفہ بنا گئے ۔ اُن کی غیر موجودگی میں آپ نے ساٹھ ایسے مسائل پر فتوے دیے جن کے متعلق آپ نے استاد سے نہ سنا تھا۔ بعد میں آپ نے وہ جواب استاد کو دکھائے تو انھوں نے چالیس مسائل سے اتفاق کیا اور بیس مسائل میں اصلاح کی ۔ اس وقت امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے قسم کھائی کہ جب تک زندگی ہے ،امام حماد رحمہ اللّٰہ کی مجلس کو نہیں چھوڑیں گے ۔

