آخر الذکر چار صحابہ کرام کا وصال کوفہ میں ہوا ہے اس لیے سنِ پیدائش ۷۰ھ ہونے کی صورت میں سیدناامامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے یقینی طور پر ان صحابہ کرام کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہوگا۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے اپنی عمر میں پچپن (۵۵) حج کیے ہیں ۔ حضور ﷺ کے مشہورصحابی حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللّٰہ عنہ جن کا وصال ۱۰۲ ھ میں یا دوسری روایت کے مطابق ۱۱۰ ھ میں مکہ مکرمہ میں ہواجبکہ امامِ اعظم نے پہلا حج امام ابویوسف رحمہ اللّٰہ کی مشہور روایت کے مطابق سولہ سال کی عمر میں ۹۳ ھ میں اور علامہ کوثری مصری رحمہ اللّٰہ کی تحقیق کے مطابق ۸۷ ھ میں کیا۔ اگر ہم آپ کا سنِ ولادت ۷۷ ھ لیں تو امامِ اعظم نے حضرت عامر بن واثلہ رضی اللّٰہ عنہ کی حیات میں دس حج کیے اور دوسری روایت کے مطابق(اگر ان کا سن ِ وصال ۱۱۰ھ مانیں تو) اٹھارہ حج کیے۔ اگر ہم صرف ان صحابی کی مثال لیں کہ جن کی زیارت وملاقات سے تابعی ہونے کا شرف مل رہا ہو اور اس سعادت کا حصول مشکل بھی نہ ہوتو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ امامِ اعظم دس یا اٹھارہ بار کوفہ سے حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے ہوں اور ایک مرتبہ بھی حضرت عامر بن واثلہ رضی اللّٰہ عنہ کی زیارت کی سعادت حاصل نہ کی ہوجبکہ اُس زمانے میں صحابی کی زیارت کے لیے لوگ دوسرے شہروں کا سفر کیا کرتے تھے۔
علاوہ ازیں یہ بات بھی ثابت ہو چکی کہ ۷۷ ھ کی پیدائش کے لحاظ سے آپ کی عمر کے آٹھویں سال تک (جبکہ۷۰ ھ کی پیدائش کے لحاظ سے آپ کی عمر کے پندرھویں سال تک) حضرت عمرو بن حریث رضی اللّٰہ عنہ (متوفی ۸۵ ھ) اور آپ کی عمر کے دسویں سال تک (جبکہ ۷۰ ھ کی پیدائش کے لحاظ سے سترھویں سال تک) حضرت عبداللّٰہ بن ابی اوفٰی رضی اللّٰہ عنہ (متوفی ۸۷ ھ) آپ ہی کے شہر کوفہ میں موجود تھے۔
چنانچہ اُس زمانے کے دستور کے مطابق لامحالہ آپ کے گھر والے آپ کو ان صحابہ کرام کی دعائے برکت کے حصول کے لیے ان کی بارگاہ میں لے گئے ہوں گے۔ آپ کے شرفِ تابعیت کے لیے اتنا ہی کافی ہے لیکن یہ حقیقت بھی ثابت شدہ ہے کہ آپ نے نہ صرف متعدد صحابہ کرام کی زیارت کی بلکہ ان سے احادیث بھی روایت کیں جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی شافعی ،امام ابن حجر مکی شافعی اور علامہ علاؤالدین حصکفی رحمہم اللّٰہ تعالیٰ نے تحریر فرمایا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ سیدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ تابعی ہیں اور ان احادیثِ رسول ﷺ کے مصداق ہیں ۔
’میری امت میں سب سے بہتر میرے زمانے والے ہیں پھر وہ جو ان کے بعد ہیں پھر وہ جو ان کے بعد ہیں‘۔
’’ اس مسلمان کو آگ نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا‘‘۔
علم کی طرف رغبت: امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تجارت کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ آپ فرماتے ہیں ، میں ایک دن بازار جا رہا تھا کہ کوفہ کے مشہور امام شعبی رحمہ اللّٰہ سے ملاقات ہو گئی ۔ انھوں نے مجھ سے کہا، بیٹا کیا کام کرتے ہو ؟میں نے عرض کی ،بازار میں کاروبار کرتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا ،تم علما ء کی مجلس میں بیٹھا کرو ،مجھے تمھاری پیشانی پر علم و فضل اور دانشمندی کے آثار نظر آرہے ہیں ۔ ان کے اس ارشاد نے مجھے بہت متاثر کیا اور میں نے علم ِدین کے حصول کا راستہ اختیار کیا ۔
امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے علم کلام کا گہرا مطالعہ کر کے اس میں کمال حاصل کیا اور ایک عرصہ تک اس علم کے ذریعہ بحث و مناظرہ میں مشغول رہے ۔پھر انھیں الہام ہوا کہ صحابہ اور تابعین کرام ایسا نہ کرتے تھے حالانکہ وہ علم کلام کو زیادہ جاننے والے تھے ۔وہ شرعی اور فقہی مسائل کے حصول اور ان کی تعلیم میں مشغول رہتے تھے ۔ چنانچہ آپ کی توجہ مناظروں سے ہٹنے لگی۔
آپ کے اس خیال کو مزید تقویت یوں ہوئی کہ آپ امام حماد رحمہ اللّٰہ کے حلقۂ درس کے قریب رہتے تھے کہ آپ کے پاس ایک عور ت آئی اور اس نے پوچھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو سنت کے مطابق طلاق دینا چاہتا ہے وہ کیا طریقہ اختیار کرے؟ آپ نے اسے حضرت حماد رحمہ اللّٰہ کی خدمت میں بھیج دیا اور فرمایا کہ وہ جو جواب دیں مجھے بتا کر جانا ۔امام حماد رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، وہ شخص عورت کو اس طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو اور پھر اس سے علیحدہ رہے یہاں تک کہ تین حیض گزر جائیں ۔ تیسرے حیض کے اختتام پروہ عورت غسل کرے گی اور نکاح کے لئے آزاد ہو گی۔ یہ جواب سن کر امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ اسی وقت اٹھے اور امام حماد رحمہ اللّٰہ کے حلقۂ درس میں شریک ہو گئے ۔

