’’اس کیڑے کی طرح جو پتھر میں پوشیدہ ہے، اس کی زمیں بھی وہی ہے اور آسمان بھی وہی ہے‘‘۔
ان کے بے جا تعصب اور فاسد نظریات پر ہزارہا افسوس !… امام ابوحنیفہ فقہ کے بانی ہیں … اور فقہ کے چار حصوں میں سے تین حصے ان کے لئے مسلّم ہیں … باقی چوتھائی میں تمام ائمہ ان کے ساتھ شریک ہیں … فقہ میں وہ صاحب خانہ ہیں اور باقی سب ان کے بال بچے ہیں ‘‘۔
امام ربانی مجدد الف ثانی رحمہ ﷲ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں :
’’کسی تکلف اور تعصب کے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ کشف کی نظر میں مذہب حنفی عظیم دریا کی صورت میں نظر آتا ہے… اور دوسرے مذاہب چھوٹی نہروں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں ۔ نظر ظاہر سے بھی دیکھا جائے تو ملت اسلامیہ کا سواد اعظم ( یعنی اکثریت) اما م ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کا پیرو کار ہے…
یہ مذہب اتباع کرنے والوں کی کثرت کے باوجود اصول و فروع میں تمام مذاہب سے ممتاز ہے اور احکام کے استنباط میں الگ طریقہ رکھتا ہے اور یہ بھی اس کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ عجیب معاملہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ سنت کی پیروی میں سب سے آگے ہیں …
مرسل حدیثوں کو متصل حدیثوں کی طرح لائق اتباع قرار دیتے ہیں اور اپنی رائے سے مقدم رکھتے ہیں …
اسی طرح حضرت خیر البشر علیہ الصلوات والتسلیمات کی صحبت کے شرف کی وجہ سے صحابی کے قول کو اپنی رائے پر مقدم رکھتے ہیں … جب کہ دیگر ائمہ اس طرح نہیں کرتے …اس کے باوجود مخالفین آ پ کو صاحبِ رائے کہتے ہیں اور آپ کے حق میں بےادبی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں … حالانکہ تمام اہل علم آپ کے کمالِ علم اور کمالِ ورع و تقوٰی کے معترف ہیں …
ﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو توفیق عطا فرمائے کہ دین کے عظیم مقتدا اور مسلمانوں کے امام اور ملت اسلامیہ کے سواد اعظم کی ایذا رسانی سے باز رہیں …یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ۔()’’ یہ لوگ اﷲ کے نور کو پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں ‘‘۔ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ’’متقدمین حدیث نہیں لکھتے تھے ( کیونکہ احادیث ان کے حافظے میں محفوظ ہوتی تھیں ) … لیکن آج حدیث کا لکھنا واجب ہے ، کیونکہ آج حدیث کی ان کتابوں کے بغیر روایت حدیث کا کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔۔ اس کے بہت سے شواہد ہیں … اسی طرح قیاس کہتا ہے کہ معیّن امام کی تقلید واجب ہو… امام معین کی تقلید کبھی واجب ہوتی ہے اورکبھی واجب نہیں ہوتی … جب کوئی شخص ہندوستان یا ماوراء النھر کے شہروں میں جاہل ہو ( یعنی مجتہد نہ ہو) اور وہاں کوئی شافعی ، مالکی یاحنبلی عالم نہ ہو ، اور ان مذاہب کی کوئی کتاب بھی نہ ہو… تو اس شخص پر امام ابوحنیفہ کے مذہب کی تقلید واجب ہے… اس کے لیے امامِ اعظم کے مذہب سے نکلنا حرام ہے… کیونکہ وہ اپنی گردن سے شریعت کا قلادہ اتار دے گا اور محض بے کار ہو کر رہ جائے گا۔() چونکہ پاکستان میں احناف کی اکثریت ہے… اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک پاک میں فقہ حنفی کو بطور پبلک لاء نافذ کرے۔ مجاہد ملت مولانا محمد عبدالستار خا ں نیازی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے ۱۷۔۱۶ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو ملتان سنی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بجا طورپر فرمایا تھا: ’’جس ملک میں جس فقہی مسلک کی اکثریت ہے اسے بلا چون و چرا سرکاری قانون تسلیم کر لیا گیا ہے… ایران میں فقہ جعفری ، ترکیہ میں فقہ حنفی اور افغانستان میں سنی سٹیٹ کے ساتھ فقہ حنفی کو ملکی آئین میں درج کردیا گیا ہے… اسی برصغیر پاک و ہند میں پورے ساڑھے گیارہ سو سال فقہ حنفیہ ملکی قانون رہا… اب کیا اعتراض ہے؟ … موجودہ حکومت کو بلا خوف لومۃَ لائم اعلان کردینا چاہیے کہ… یہاں کا ملکی قانون فقہ حنفیہ ہوگا… اقلیتوں کو پرسنل لاء دیا جائے گا۔

