آپ کا ملت اسلامیہ پر احسان عظیم ہے کہ آپ نے سب سے پہلے فقہ کو مرتب کیا آپ سے پہلے صحابۂ کرام اور ائمہ تابعین اپنے حافظے پر اعتماد کرتے تھے۔
حدیث شریف میں ہے کہ ﷲتعالیٰ علم سلب نہیں فرمائے گا مگر علماء کی وفات کے ذریعے علم سلب فرمائے گا، ان کے بعد جاہل راہنما رہ جائیں گے جو علم کے بغیر فتویٰ دیں گے، خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کریں گے۔
اس حدیث شریف کے پیش نظر امامِ اعظم نے محسوس کیا کہ بڑے بڑے علماء اٹھتے جارہے ہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ علم ہی ضائع کربیٹھیں چنانچہ انہوں نے ابواب فقہ کو ترتیب دیا۔
سب سے پہلے طہارت ،
پھر نماز،
زکوٰۃ ،
روزہ ،باقی عبادات اور معاملات کے مسائل رکھے ، آخر میں مسائلِ میراث رکھے۔
بعض اہل علم نے فرمایا: آپ نے پانچ لاکھ مسائل ترتیب دیئے آپ کا عظیم امتیاز یہ بھی ہے کہ آپ نے سب سے پہلے قواعد اجتہاد اور اصول فقہ کی بنیاد رکھی اور احکام کا استنباط کیا آپ ہی نے سب سے پہلے کتاب الفرائض (علم میراث) وضع کی۔
امام محمد بن سماعہ فرماتے ہیں کہ…
آپ نے اپنی تصانیف میں ستر ہزار احادیث بیان کیں اور چالیس ہزار احادیث میں سے آثارِ (صحابہ) کا انتخاب کیا۔
امامِ اعظم کا مذہب دنیا کے ان خطوں میں پہنچا، جہاں دوسرے مذاہب نہیں پہنچے آپ اپنے کاروبار تجارت کی آمدن پر گزر بسر کرتے تھے…
کسی کا ہدیہ قبول نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی جیب سے علماء و مشائخ پر خرچ کرتے تھے۔
آپ کی عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی…
تیس سال تک ( ایام ممنوعہ کے علاوہ )روزے رکھے اکثر راتوں میں ایک رکعت میں قرآن پاک ختم کرتے…
رمضان المبارک کے ہر دن میں ایک مرتبہ اور ہر رات میں ایک مرتبہ اور عید کے دن دو مرتبہ قرآن پاک ختم کرتے …
ہر سال حج کرتے، اس طرح آپ نے پچپن حج کیے آپ کپڑے کی تجارت کرتے تھے… ایک دفعہ کچھ کپڑے اپنے کارندے کے سپرد کئے اور اسے تاکیدکی کہ ایک کپڑے میں نقص ہے… اسے فروخت کرتے وقت گاہک کو بتادینا، اسے یاد نہ رہا… آپ نے تمام رقم صدقہ کردی جو تیس ہزار درہم تھی۔امامِ اعظم کی عقل و دانش کا اندازہ امام شافعی کے اس ارشاد سے کیا جا سکتا ہے۔
وہ فرماتے ہیں ،
’’ابوحنیفہ سے زیادہ عقل مند کسی عورت نے نہیں جنا‘‘۔
ملت اسلامیہ کی غالب اکثریت امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ ﷲ تعالیٰ کے مذہب پر کاربند ہے ،…
اس کے باوجود بعض لوگ جہالت یا عداوت کی بنا پر یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ خود ساختہ مسائل بیان کرتے تھے اور احادیث مبارکہ کی مخالفت کرتے تھے…
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رحمہ ﷲ تعالیٰ اس قسم کے لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’جو لوگ بزرگانِ دین کو اصحاب رائے کہتے ہیں اگر ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ بزرگ اپنی عقل سے حکم کرتے ہیں اور کتاب و سنت کی پیروی نہیں کرتے … تو ان کے خیال فاسد کے مطابق مسلمانوں کی اکثریت گمراہ اور بدعتی ہوگی، بلکہ مسلمانوں کے گروہ سے ہی خارج ہو گی… یہ عقیدہ صرف اس جاہل کا ہو سکتا ہے جو اپنی جہالت سے بے خبر ہے… یا اس بے دین کا جس کا مقصد دین کے آدھے حصے کا باطل کرنا ہے… ناکارہ لوگوں نے چند حدیثیں یاد کرلی ہیں اور دین کو ان ہی میں منحصر قرار دے دیا ہے… جو کچھ انہیں معلوم نہیں ہے اور جو کچھ ان کے نزدیک ثابت نہیں ہے، اس کی نفی کرتے ہیں ۔ وں آں کرمے کہ درسنگے نہان است زمین و آسمانِ او ہمان است

