اکثر و بیشتر محدثین شافعی تھے یہاں تک کہ امام بخاری بھی شافعی تھے اور امام شافعی، امام محمد کے اور وہ امامِ اعظم کے شاگرد تھے ۔(رضیﷲ تعالیٰ عنہم)
امام شافعی کا مشہور مقولہ ہے:
اَلنَّاسُ عِیَال عَلٰی اَبِیْ حَنِیْفَۃَ فِی الْفِقْہِ۔
تمام لوگ فقہ میں ابوحنیفہ کے بال بچے ہیں ۔
یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ بخاری شریف میں امام بخاری کا سرمایۂ افتخار احادیث ثلاثیات ہیں جن میں امام بخاری اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان صرف تین واسطے ہیں ، ان کی تعداد بائیس ہے ان ثلاثیات میں سے اکثر امام مکی بن ابراہیم کی روایت ہیں۔
اور وہ اما م اعظم ابوحنیفہ کے شاگرد اور امام بخاری کے اکابر مشائخ میں سے ہیں ۔ اس تفصیل سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ واقعی امامِ اعظم ہیں اور یہ لقب انہیں ہی زیب دیتا ہے اس کے بعد یہ سوال غیر ضروری ہو جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہ ہی کیوں؟
دنیائے علم و فقاہت میں امام ابوحنیفہ کو کون نہیں جانتا ؟
وہ صحابہ کرام کے بعد قانونِ اسلامی کے سب سے بڑے ماہر تھے جن کے فیض سے دنیا بھر کے قانون دان فیض یاب ہوتے رہے اور آئندہ بھی ان کی خوشہ چینی کرتے رہیں گے وہ چونکہ تابعی ہیں اس لئے
رَضِیَ اﷲُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْاعَنْہُ
(ﷲ ان سے راضی ،وہ اﷲ سے راضی) کے تاجِ کرامت سے سرفراز ہیں
سرکار دو عالم ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا اشارہ واضح طور پر آپ ہی کی طرف ہے۔
لَوْ کَانَ الْعِلْمُ مُعَلَّقاً بِالثُّرَیَّا لَتَنَاوَلَہٗ قَوْمٌ مِنْ اَبْنَاءِ فَارِسِ۔
’’اگر علم ثریا کے ساتھ بھی معلق ہوتا تو فارس کے کچھ لوگ اسے حاصل کرلیتے‘‘۔
ایک اور حدیث
مَنْ یُّرِدِّ اللّٰہُ بِہٖ خَیْراً یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ۔
(اﷲ تعالیٰ جس شخص کی بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی فقاہت اور سمجھ عطا فرمادیتا ہے)
اُن کے ماتھے کا جھومر ہے۔ امام ابوحنیفہ وہ ہیں جن کے والد حضرت ثابت اور ان کی اولاد کے لئے حضرت اسد ﷲ الغالب علی بن ابی طالب رضی ﷲ عنہ نے دعا ئے برکت فرمائی ۔
وہ امام المسلمین جنہیں ائمہ اربعہ میں یہ بھی امتیاز حاصل ہے کہ انھوں نے متعدد صحابہ کی زیارت کی اور ان سے احادیث روایت کیں ۔
ان کی پیدائش اس زمانے (۸۰ھ) میں ہوئی جو حدیث شریف کی شہادت کے مطابق خیرالقرون میں سے ہے جن کا اجتہاد اور فتویٰ تابعین کے دور میں نامور علماء نے تسلیم کیا۔
ان کے استاذ امام اعمش نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے گروہ فقہاء ! تم لوگ اطباء ہو اور ہم عطار ہیں اور اے امام ابوحنیفہ !تم تو دونوں طرفوں کے جامع ہو یعنی فقیہ بھی ہو اور محدث بھی‘‘۔
ان کے جلیل القدر استاذ اور نامور محدث حضرت عمرو بن دینار ان سے حدیث کی روایت کرتے ہیں۔
ان کے ایک دوسرے استاذ امام اعمش جو امام بخاری اور امام مسلم کے استاذالاساتذہ ہیں حج کے لئے روانہ ہوئے تو ان سے مسائل حج لکھوا کر لے گئے انہوں نے چار ہزار علماء و مشائخ سے علم حاصل کیا اس معاملہ میں بھی کوئی امام آپ کا ہم پلہ نہیں ہے۔
امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کے شاگردوں کی تعداد:
ایک قول کے مطابق چار ہزار اور دوسرے قول کے مطابق دس ہزار ہے۔
ان میں سے چالیس وہ تھے جو درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔
جب کوئی مسئلہ پیش آجاتا تو ان سے مشورہ اور مناظرہ کرتے ،احادیث و آثار میں سے ان کے دلائل سنتے اور اپنے دلائل پیش کرتے بعض اوقات ایک مہینہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ تک تبادلۂ خیال کرتے جب کسی فیصلے پر پہنچ جاتے تو امام ابو یوسف اسے لکھ لیتے۔
یوں فقہ حنفی انفرادی نہیں بلکہ شورائی ہے جب کہ دیگر ائمہ کی فقہ ان کے انفرادی اجتہاد کا نتیجہ تھی جب انہیں کوئی لاینحل مسئلہ پیش آجاتا تو چالیس مرتبہ قرآن پاک ختم کرتے، ﷲ تعالیٰ کے فضل سے مسئلہ حل ہو جاتا۔

