Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 6 of 168

حدیث شریف میں ہے، رسول ﷲ نے فرمایا :

جس شخص نے کسی بھلائی کی طرف رہنمائی کی، اسے عمل کرنے والے کی مثل ثواب ملے گا۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت ان دونوں اماموں کی پیروکار ہے ایک شریعت کے امام ہیں اور ایک طریقت کے  اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں کتنا اجر و ثواب مل چکا ہو گا اور رہتی دنیا تک کتنا ثواب ملتا رہے گا؟ میری گفتگو کاموضوع چونکہ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے متعلق ہے اس لیے آپ کی توجہ اس امر کی طرف دلانا چاہتا ہوں  کہ امامِ اعظم کے پیروکار ہر دور میں بکثرت ہوئے ہیں ۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں ،

’’ابن خلدون نے چھ سو برس پہلے ، امیر خسرو  نے سات سو برس پہلے ، شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی نے چار سو برس پہلے  عالم اسلام بالخصوص برصغیر میں اہل سنت و جماعت اور حنفیوں کی اکثریت کا ذکر کیا ہے  دور جدید کے فاضل ڈاکٹر صبحی محمصانی نے احناف کو روئے زمین کے مسلمانوں کا دوتہائی قرار دیا ہے  یعنی تاریخی طور پر احناف کو ملت اسلامیہ کا سواد اعظم تسلیم کیا ہے۔

امیر شکیب ارسلان نے احسن المساعی کے حاشیے میں لکھا ہے کہ: 

مسلمانوں کی اکثریت ابوحنیفہ کی پیرو ہے  خود غیر مقلد حضرات میں نواب صدیق حسن خاں ، مولوی ثنا ء ﷲ امرتسری نے بھی یہی لکھا ہے اورغیر مقلد عالم مولوی محمد حسین بٹالوی نے غیر مقلدین کو ’’ آٹے میں نمک برابر ‘‘ قرار دیا ہے۔

ﷲ تعالیٰ نے امامِ اعظم ابوحنیفہ کو جو قبولیت عامہ عطا فرمائی وہ وہی مقبولیت و محبوبیت ہے جو وہ اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے۔

اور جس کا حدیث شریف میں بھی ذکر ہے کہ  جو ان مقبول اور محبوب بندوں سے لڑائی مول لیتا ہے ، ان سے ﷲ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:

’’ وہ مجھ سے جنگ کے لئے تیار ہو جائے‘‘ کون ایسا بدنصیب ہو گا جو اللّٰہ تعالیٰ سے جنگ کے لیے تیار ہو؟

 بعض لوگ عوام الناس کو مذہب حنفی سے برگشتہ کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ تم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے عقیدت مند اور مرید ہو نے کے دعویدار ہو  تو تمہیں ان کے مذہب حنبلی پر بھی عمل کرنا چاہیے آج کے سپیشلائزیشن کے دور میں اس قسم کے سوال کو مضحکہ خیز ہی قرار دیا جائے گا یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص عارضۂ قلب کے مریض کو کہے کہ تم ہارٹ سپیشلسٹ  کے پاس جارہے ہو تو اس سے آنکھ کی بیماری کا نسخہ بھی لکھوا لانا۔

انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم عقائد میں امام ابو منصور ما تریدی اور امام ابوالحسن اشعری 

قراءت:  میں امام حفص 

تفسیر: میں رئیس المفسرین سیدنا ابن عباس 

بلاغت: میں عبدالقاہر جرجانی

  نحو: میں سیبویہ 

منطق و فلسفہ میں ابن سینا

حدیث میں: ائمۂ حدیث خصوصا امام بخاری ،امام مسلم اور امام طحاوی کی طرف رجوع کرتے ہیں

غرض یہ کہ ہر فن کے سپیشلسٹ کی طرف رجوع کرتے ہیں  اسی طرح طریقت میں سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی ، شاہ نقشبند ، خواجہ اجمیر اور شیخ سہروردی کی طرف رجوع کرتے ہیں  اور شریعت و فقہ میں امامِ اعظم ابوحنیفہ اور ان کے تلامذہ کی طرف رجو ع کرتے ہیں جب کہ کئی ممالک میں اہلسنت و جماعت امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے مقلد اور پیروکار ہیں ۔

آج دنیائے اسلام کے مسلمان فقہی مسائل میں چار اماموں کے پیروکار ہیں جن میں امامِ اعظم ابوحنیفہ ، امام مالک کے، وہ امام شافعی کے ، اور امام شافعی امام احمد بن حنبل کے استاد ہیں اور غوث اعظم شیخ سید عبدالقادر جیلانی ، امام احمد بن حنبل کے پیروکار اور مقلدہیں ۔ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم۔

Share:
keyboard_arrow_up