موجودہ دور کے غیر مقلد طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے اہلسنت حنفی مسلمانوں کو امامِ اعظم سے برگشتہ کرنے کی سعیٔ مذموم میں مصروف ہیں ۔ ان حالات میں اہلسنت پر لازم ہوگیا ہے کہ وہ سیدنا امامِ اعظم کی حیات اور افکار سے آگہی حاصل کریں اور بدعتیوں سے اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔
مفکر اسلام پیرطریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری الجیلانی دامت برکاتہم العالیہ نے اس کتاب کا ایک سببِ تالیف یہی ارشاد فرمایا اور دوسرا سبب حصولِ برکت قرار دیا جیسا کہ امامِ اعظم کے مناقب میں کتاب ’’الخیرات الحسان‘‘ لکھنے کا سبب امام ابن حجر نے یہ تحریر کیا کہ’’ائمہ حفاظ نے اس امام کے ساتھ اظہارِ محبت ومہربانی کرتے ہوئے مختلف زبانوں میں ان کے حالات تفصیل سے بیان کیے تو میں نے ارادہ کیا کہ میں بھی اُن کی صف میں شامل ہو جاؤں تاکہ میں بھی اس امام کی برکت حاصل کروں جس طرح اُن ائمہ کرام نے ان کے ذکر سے برکت حاصل کی۔
ابن جوزی نے امام سفیان بن عیینہ سے روایت کی،
عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ۔
صالحین کے ذکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔
رب کریم سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو نافع خلائق اور ہمارے لیے وسیلۂ بخشش بنائے نیز بھٹکتے ہوئے لوگوں کے لیے مینارۂ نور بنائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
حسبی من الخیرات ما اعددتہ یوم القیٰمۃ فی رضی الرحمن دین النبی محمد خیر الوریٰ ثم اعتقادی مذھب النعمان
’’اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کیلیے قیامت کے دن میرے نامۂ اعمال میں یہ نیکی کافی ہے کہ میں سیدِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دین پر ہوں اور امامِ اعظم نعمان بن ثابت کے مذہب پر میرا اعتقاد ہے‘‘۔
خاکپائے علمائے حق، محمد آصف قادری غفرلہٗ تقریظ جلیل شیخ التفسیر و الحدیث حضرت علامہ محمدعبدالحکیم شرف قادری
نحمدہ و نصلی ونسلم علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ و مجتھدی امتہ وامّتہ اجمعین،
حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’جب اﷲ تعالیٰ کسی بندے کو مقام محبوبیت پر فائز فرماتا ہے تو جبرائیل امین علیہ السلام کو ندا فرماتا ہے کہ بیشک اﷲ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے تم بھی اس سے محبت رکھو … جبرائیل امین بھی اس سے محبت رکھتے ہیں … پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ بیشک اﷲ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں … پھر اس کے لئے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے ‘‘۔
اس سے یہ خیا ل نہ کیا جائے …کہ ہر مرد وزن جسے روئے زمین پر مقبولیت حاصل ہو جائے اسے ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی محبوبیت حاصل ہے۔
ﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۔
’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے، ﷲ انہیں مقام ِمحبوبیت عطا فرمائے گا‘‘۔
یعنی بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت اور محبوبیت …صرف اُن خوش نصیب کو حاصل ہوتی ہے۔ جو ایمان و عمل کے زیور سے آراستہ ہوں ۔قرآن و حدیث کے معیارِ محبوبیت کو سامنے رکھتے ہوئے صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کے بعد تاریخ اسلام میں تلاش کیجیے ۔کہ اہل ایمان و تقوٰی کے نزدیک سب سے زیادہ محبوبیت اور مقبولیت کسے حاصل ہوئی ؟ یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ وہ دو ہی ہستیاں ہیں :-
(۱) امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت
(۲) غوث اعظم سید نا شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدسہ سرارھما۔

