بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم
امام ذہبی شافعی رحمہ اللّٰہ نے سیدناامامِ اعظم کی ساری زندگی کا خلاصہ یوں پیش کیا ہے،
کان اماماً ورعاً عالماً عاملاً متعبداً کبیراً لشانٍ لایقبل جوائز السلطان بل یتجر و یکتسب۔
’’امامِ اعظم دین کے امام، نہایت پرہیزگار، عالمِ باعمل، عبادت گزار اور بڑی شان والے تھے۔ آپ حاکموں کے انعامات قبول نہیں کرتے تھے بلکہ تجارت کر کے اپنا رزق کما کر کھاتے تھے‘‘۔
سیدناامامِ اعظم صنے ازخود نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف بلانا شروع کیا ۔
امام ابن حجرشافعی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
’’جب خدا کی رحمت کے خزانے بانٹنے والے (حضرت محمد ﷺ) کی طرف سے اجازت آگئی تو آپ سمجھ گئے کہ یہ معاملہ قطعی اور یقینی ہے۔ پھرآپ نے لوگوں کو اپنے مذہب کی دعوت دی اور آپ کا مذہب پھیل گیا، اور اللّٰہ تعالیٰ نے مشرق ومغرب اور عرب وعجم کو آپ کے فیض سے مستفیض کیا‘‘۔
حاسدین ومنافقین ہر دور میں محبوبانِ خدا کے خلاف بدگوئی و شر انگیزی کرتے رہے ہیں ۔ سیدناامامِ اعظم کے خلاف بھی حاسدوں نے بہتان طرازی کا سلسلہ شروع کیا جس کے جواب میں چاروں مذاہب کے ائمہ محدثین نے کتابیں لکھیں ۔ حق کی ترویج اور ابطالِ باطل کے لیے علماءِ حق کا تحریری جہاد آج بھی جاری ہے۔
محدث عبد العز یز بن ا بی رواد رحمہ اللّٰہ کا یہ ارشادِ گرامی:
اہلِ حق کی پہچان کے لیے ہر دور میں مشعلِ راہ رہا ہے کہ’’جو امامِ اعظم ابوحنیفہ سے محبت کرے وہ سُنّی ہے اور جو اُن سے عداوت ر کھے، وہ بدعتی ہے‘‘۔

