Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 23 of 168

’’اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہو گا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو ضرور حاصل کر لیں گے‘‘۔

امام سیوطی اور دیگر ائمہ محدثین رحمہم اللّٰہ تعالیٰ   نے بخاری و مسلم کی ان حادیث سے امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ ہی کو مراد لیا ہے کیونکہ فارس کے علاقوں سے کوئی ایک شخص بھی امامِ اعظم جیسے علم وفضل کا حامل نہ ہوا اور نہ ہی کسی کو آپ جیسا بلند مقام نصیب ہوا۔

یہ بات بھی توجہ کے لائق ہے کہ امام جلال الدین سیوطی ،امامِ اعظم ابوحنیفہ کے مقلد نہیں بلکہ امام شافعی کے مقلد ہیں نیز حافظ ابن حجر ہیتمی مکی بھی حنفی نہیں بلکہ امام شافعی کے مقلد ہیں اور ان دونوں بزرگوں نے امامِ اعظم کی فضیلت پر بالترتیب ’’تبییضِ الصحیفہ‘‘ اور ’’الخیراتُ ا لحسان‘‘ تحریر کیں اور بخاری ومسلم کی مذکورہ حدیث کا مصداق امام ابوحنیفہ ہی کو قرار دیا۔رحمہم اللہ تعالیٰ

علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللّٰہ مزید فرماتے ہیں ، ’امام ابوحنیفہ کی شان میں آقا ومولیٰ کے اس ارشاد سے بھی استدلال ہو سکتا ہے کہ:

انہ قال ترفع زینۃ الدنیا سنۃ خمسین ومائۃ ۔

’’دنیا کی زینت ایک سو پچاس سن ہجری میں اٹھا لی جائے گی‘‘۔

اس حدیث کی شرح میں شمس الائمہ امام کردری رحمہ اللّٰہ نے فرمایاکہ: یہ حدیث امام ابوحنیفہ پر صادق آتی ہے کیونکہ آپ ہی کا انتقال اس سن میں ہوا‘‘۔

علماء کرام نے اس حدیث کا مصداق سیدنا امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو اس لیے قرار دیا کیونکہ اُس سال دنیا کے سب سے بڑے اور معروف جس عالمِ دین کا وصال ہوا، وہ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ ہی تھے۔

آپ کا سنِ ولادت: امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے سنِ ولادت میں اختلاف ہے۔ ایک روایت کے مطابق آپ ۸۰ ھ میں پیدا ہوئے۔

علامہ شاہ ابوالحسن زید فاروقی رحمہ اللّٰہ کے بقول امامِ اعظم کا یہ سنِ ولادت ’’اہلِ حدیث‘‘ نے مشہور کیا ہے۔

خطیب بغدادی روایت کرتے ہیں کہ:  امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی ولادت ۶۱ ھ میں اور وفات ۱۵۰ھ میں ہوئی۔

اس پر علماءِ ازہر  نے درج ذیل حاشیہ لکھا ہے۔ ’’قدیم علماء کرام کی وہ جماعت، جس نے امام ابوحنیفہ کی ان روایات کی تدوین کی ہے جو آپ نے صحابہ کرام سے کی ہیں ، اس نے اس قول کی طرف میلان کیا ہے جیسے ابو معشر طبری شافعی وغیرہ‘‘۔

’’حضرت امامِ اعظم ۷۰ ھ میں پیدا ہوئے۔ سنِ ولادت میں اختلاف ہے۔ علامہ کوثری مصری رحمہ اللّٰہ نے ۷۰ ھ کو دلائل و قرائن سے ترجیح دی ہے۔ آپ ۸۷ ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کو گئے۔ وہاں صحابیٔ رسول حضرت عبداللّٰہ بن الحارث رضی اللّٰہ عنہ کی زیارت کی اور ان سے حدیث سنی۔۹۶ ھ میں پھر حج کو گئے اور جو صحابہ زندہ تھے ان سے ملے‘‘۔

علامہ قاضی ابوعبداللّٰہ حسین بن علی صیمری اور امام ابن عبدالبر متصل سند سے قاضی القضاۃ امام ابویوسف رحمہم اللّٰہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام ابوحنیفہ سے سنا کہ میں ۹۳ ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کو گیا۔ اس وقت میری عمر سولہ سال تھی۔ وہاں میں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جن کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا۔ میرے والد نے بتایا کہ یہ رسول اللّٰہ کے صحابی عبداللّٰہ بن حارث بن جزء رضی اللّٰہ عنہ ہیں اور لوگ ان کے گرد اس لیے جمع ہیں تاکہ ان سے رسول کریم کی حدیثیں سنیں ۔ میں نے عرض کی، آپ مجھے بھی ان کے پاس لے جائیں تاکہ میں بھی حدیث شریف سن لوں ۔ چنانچہ وہ مجمع کو چیرتے ہوئے مجھے لے کر آگے بڑھے یہاں تک کہ میں ان کے قریب پہنچ گیا اور میں نے انہیں یہ فرماتے سنا۔

’’میں نے رسول کریم سے سنا ہے کہ جس نے دین کی سمجھ حاصل کر لی، اس کی فکروں کا علاج اللّٰہ تعالیٰ کرتا ہے اور اسے اس طرح روزی دیتا ہے کہ اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up