امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ کی اس روایت سے ظاہر ہے کہ امامِ اعظم کی ولادت ۷۷ ھ کی ہے۔ اس کے متعلق علامہ ابوالحسن زید فاروقی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
’’عاجز کے نزدیک یہ روایت دوسری روایتوں سے ارجح اور قابلِ اعتماد ہے اور حضرت امامِ عالی مقام کا سالِ ولادت ۷۷ ھ ہے‘‘۔
شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمہ اللّٰہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے سنِ ولادت کے متعلق فرماتے ہیں ، ’’زیادہ تر لوگ ۸۰ ھ کو ترجیح دیتے ہیں لیکن بہت سے محققین نے ۷۰ ھ کو ترجیح دی ہے۔ اس خادم کے نزدیک بھی یہی صحیح ہے کہ حضرت امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی ولادت ۷۰ ھ میں ہوئی‘‘۔
امامِ اعظم تابعی ہیں: علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں ، ’’علامہ ذہبی سے منقول صحیح روایت سے ثابت ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے بچپن میں حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ کا دیدار کیا تھا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ امامِ اعظم نے فرمایا، ’’میں نے کئی مرتبہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ کی زیارت کی، وہ سرخ خضاب لگاتے تھے‘‘۔اکثر محدثین کا اتفاق ہے کہ تابعی وہ ہے جس نے کسی صحابی کا دیدار کیا ہو‘‘۔
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کا وصال ۹۵ ھ میں اور ایک قول کے مطابق ۹۳ ھ میں ہوا۔
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے تابعی ہونے کے متعلق جب شیخ الاسلام حافظ ابن حجر شافعی رحمہ اللّٰہ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے یہ جواب دیا:
’’امام ابوحنیفہ نے صحابہ کرام کی ایک مبارک جماعت کو پایاہے۔ آپ کی ولادت (ایک روایت کے مطابق) ۸۰ ھ میں کوفہ میں ہوئی۔وہاں اس وقت صحابہ کرام میں سے سیدنا عبداللّٰہ بن ابی اوفٰی موجو دتھے۔ ان کا وصال ۸۸ ھ میں یا اس کے بعد ہوا۔ اسی زمانہ میں بصرہ میں سیدنا انس بن مالک تھے۔ ان کا انتقال ۹۰ ھ میں یا اس کے بعدہوا۔ ابن سعد نے مضبوط سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے حضرت انس کو دیکھا ہے۔ ان دونوں صحابیوں کے علاوہ بھی بکثرت صحابہ مختلف شہروں میں ان کے بعد زندہ موجود تھے۔رضی اللّٰہ عنہم بلاشبہ بعض علماء نے امامِ اعظم کی صحابہ کرام سے مرویات کے بارے میں رسالے تصنیف کیے ہیں لیکن ان کی اسناد وہاں ضعف سے خالی نہیں ۔ میرے نزدیک مستند بات یہ ہے کہ امامِ اعظم نے بعض صحابہ کرام کو دیکھا اور ان سے ملاقات کی جیسا کہ مذکور ہوا، یہ بات ابن سعد نے بھی کہی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ امامِ اعظم تابعین کے طبقہ میں سے ہیں اور یہ بات بلادِ اسلامیہ میں ان کے ہمعصر کسی امام کے لیے ثابت نہیں خواہ شام میں امام اوزاعی ہوں یا بصرہ میں حماد ہوں یا کوفہ میں امام ثوری ہوں یا مدینہ میں امام مالک ہوں یا مصر میں لیث بن سعد ہوں ۔
علامہ سیوطی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ: امام ابومعشر طبری شافعی رحمہ اللّٰہ نے ایک رسالہ میں صحابہ کرام سے امامِ اعظم کی مروی احادیث بیان کی ہیں اور فرمایا ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے رسول کریم ﷺ کے ان سات صحابہ کرام سے ملاقات کی ہے۔
(۱)سیدنا انس بن مالک
(۲)سیدنا عبداللّٰہ بن حارث بن جزء
(۳)سیدنا جابر بن عبداللہ
(۴)سیدنا معقل بن یسار
(۵)سیدنا واثلہ بن الاسقع
(۶)سیدنا عبداللّٰہ بن انیس
(۷)سیدتنا عائشہ بنت عجرد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
امامِ اعظم نے سیدنا انس سے تین حدیثیں ، سیدنا واثلہ سے دو حدیثیں جبکہ سیدنا جابر، سیدنا عبداللّٰہ بن انیس، سیدتنا عائشہ بنت عجرد اور سیدنا عبداللّٰہ بن جزء سے ایک ایک حدیث روایت فرمائی ہے۔ آپ نے سیدنا عبداللّٰہ بن ابی اوفٰی سے بھی ایک حدیث روایت فرمائی ہے اور یہ تمام احادیث ان طریقوں کے سوا بھی وارد ہوئی ہیں ۔ رضی اللّٰہ عنہم اجمعین

