Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 22 of 168

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دوعالم نے فرمایا،

میری امت میں ایسا شخص پیدا ہوگا جسے نعمان کہا جائے گا اور اس کی کنیت ابوحنیفہ ہوگی، وہ اللّٰہ تعالیٰ کے دین اور میری سنت کو زندہ کرے گا۔

اس طرح کی اور بھی روایات ہیں جن میں نبی کریم ﷺ    نے آپ کا نام  لے کر آپ کی فضیلت بیان کی ہے لیکن ان احادیث پر بعض لوگوں  نے جرح کی ہے البتہ نبی کریم کی امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے حق میں ایک بشارت ایسی ہے کہ جس پر محدثین کرام متفق ہیں۔

امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں :

’’نبی کریم       نے ایک حدیث میں امام مالک رضی اللّٰہ عنہ کے لیے یہ بشارت دی، ’’ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ اونٹوں پر سوار ہو کر علم کی تلاش میں نکلیں گے مگر مدینہ منورہ کے ایک عالم سے بڑھ کر کسی کو نہ پائیں گے‘‘۔

اور ایک حدیث میں امام شافعی رضی اللّٰہ عنہ کے لیے یہ بشارت دی کہ: ’’قریش کو برا نہ کہو کیونکہ ان میں کا ایک عالم زمین کو علم سے بھر دے گا‘‘۔

اور میں کہتا ہوں کہ آقا ومولیٰ      نے سیدنا امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے لیے اس حدیث میں بشارت دی ہے جسے حافظ ابونُعیم نے الحلیہ میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ  نے فرمایا، ’’اگر علم ثریا کے پاس ہوتو فارس کے جوان مردوں میں سے ایک مرد ضرور اس تک پہنچ جائے گا‘‘۔

اور شیرازی نے ’’الالقاب‘‘ میں قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسولِ معظم ﷺ  نے فرمایا،

’’اگر علم ثریا یعنی آسمان کے پاس ہو تو بھی مردانِ فارس سے کچھ لوگ ضرور اسے حاصل کرلیں گے‘‘۔

یہ حدیث امام طبرانی نے بھی معجمِ کبیر میں روایت کی ہے۔

اورحضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی وہ حدیث ہے جس کے الفاظ صحیح بخاری و مسلم میں یہ ہیں،

لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَالثُّرَیَّا لَتَنَاوَلَہٗ رِجَالٌ مِنْ فَارِسَ۔

’’اگر ایمان ثریا کے پاس ہو تو فارس کے کچھ لوگ اس کو ضرور حاصل کر لیں گے‘‘۔

اور صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں،

لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَالثُّرَیَّا لَذَھَبَ بِہٖ رَجُلٌ مِنْ اَبْنَاءِ فَارِسَ حَتّٰی یَتَنَاوَلَہٗ

 ’’اگر ایمان ثریا کے پاس ہو تو مردانِ فارس میں سے ایک شخص اس تک پہنچ جائے گا اور اس کو حاصل کر لے گا ‘‘۔

نیز معجمِ کبیر میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا ومولیٰ رحمتِ عالم نے فرمایا،

’’اگر دین آسمان کے پاس ہو تو یقیناً فارس کے کچھ لوگ اسے ضرور حاصل کر لیں گے‘‘۔

ان روایات کے بعد امام سیوطی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ’’یہ ایک صحیح اصل ہے جس سے امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی شان اور فضیلت ثابت ہو رہی ہے اور یہ امام مالک اور امام شافعی رضی اللّٰہ عنہما کے بارے میں مروی حدیثوں کی مانند اور مثل ہے۔اور یہ صحیح اصل، ہمیں موضوع خبروں سے بے نیاز کر دیتی ہے‘‘۔

صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آقا ومولیٰ ﷺ  نے سورۃ جمعۃکی آیت وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ  تلاوت فرمائی تو کسی نے دریافت کیا، آقا ! یہ دوسرے لوگ کون ہیں جو ابھی تک ہم سے نہیں ملے؟ آپ جواب میں خاموش رہے۔جب بار بار سوال کیا گیا تو آپ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللّٰہ عنہ کے کندھے پراپنا مبارک ہاتھ رکھ کر فرمایا:

لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَالثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رِجَالٌ اَوْ رَجُلٌ مِنْ ھٰؤُلَاءِ ۔()

Share:
keyboard_arrow_up