Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 21 of 168

یہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی دعاؤں کا ثمر ہے کہ حضرت ثابت رحمہ اللّٰہ کے گھر امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ پیدا ہوئے۔

ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ:  امامِ اعظم کے دادا نعمان بن مر زبان کے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے گہرے تعلقات تھے۔ آپ نے نو روز کے دن حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں فالودہ کا تحفہ بھیجا تو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، ہمارے لیے ہر دن نو روز ہے۔

ان روایات میں حضرت اسماعیل رحمہ اللّٰہ نے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے دادا کا نام نعمان بن مر زبان بتایا ہے جبکہ بعض روایات میں ان کا نام زوطی بن ماہ بیان ہوا ہے۔ اس اختلاف کی توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ ایک راوی نے ان کے نام لکھے ہوں گے اور دوسرے نے القاب بیان کیے ہوں گے۔ بعض کے بقول جب زوطی ایمان لائے تو ان کا نام نعمان سے بدل دیا گیا اس لئے اسماعیل رحمہ اللّٰہ نے سلسلہ نسب کے بیان میں زوطی کا اسلامی نام نعمان لیا اور اسلامی حمیت کا یہی تقاضا تھا۔

امامِ اعظم کی کنیت: امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے تمام تذکرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کی کنیت ابوحنیفہ تھی۔ اکثر تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کے صرف ایک بیٹے حماد تھے۔ ان کے علاوہ آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ وہ آپ کی کنیت ’’ابوحنیفہ‘‘ کی مندرجہ ذیل توجیہات بیان کرتے ہیں

’’حنیفہ‘‘ حنیف کا تانیث ہے جس کے معنی ہیں ، عبادت کرنے والا اور دین کی طرف راغب ہونے والا۔

آپ کا حلقۂ درس وسیع تھا اور آپ کے شاگرد اپنے ساتھ قلم دوات رکھا کرتے تھے۔ چونکہ اہلِ عراق دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اس لیے آپ کو ابوحنیفہ کہا گیا یعنی دوات والے۔

آپ کی کنیت وضعی معنی کے اعتبار سے ہے یعنی ابوالملۃ الحنیفہ۔ قرآن مجید میں رب تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا ہے،

فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا۔

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے اسی نسبت سے اپنی کنیت ابوحنیفہ اختیار کی۔ اس کا مفہوم ہے، ’’باطل ادیان کو چھوڑ کر دینِ حق اختیار کرنے والا‘‘۔

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا ذکر اسی کنیت کے ساتھ ’’ توریت‘‘میں آیا ہے۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں ، بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کا ذکر توراۃ میں ہے۔

حضرت کعب بن احبار رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ: اللّٰہ تعالیٰ نے جو توراۃ حضرت موسیٰ علیہ السلام  پر نازل فرمائی اس میں ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا،

’’ محمد رسول اللّٰہ کی امت میں ایک نور ہو گا جس کی کنیت ابوحنیفہ ہو گی‘‘۔ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے لقب سراجُ الامۃ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔

بشاراتِ نبوی : علامہ موفق بن احمد مکی رحمہ اللّٰہ(م ۵۷۸ ھ) روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم نے فرمایا،

’’میری امت میں ایک مرد پیدا ہوگا جس کا نام ابوحنیفہ ہوگا ، وہ قیامت میں میری امت کا چراغ ہے‘‘۔

آپ نے یہ روایت بھی تحریر کی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی، یا رسول اللہ ! حضرت لقمان کے پاس حکمت کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا کہ اگر وہ اپنے خرمنِ حکمت سے ایک دانہ بیان فرماتے تو ساری دنیا کی حکمتیں آپ کے سامنے دست بستہ کھڑی ہوتیں ۔

یہ سن کر حضور کو خیال آیا کہ کاش میری امت میں کوئی شخص ایسا ہوتا جو حضرت لقمان کی حکمت کا سرمایہ ہوتا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام دوبارہ حاضر ہوئے اور عرض کی، یا رسول اللّٰہ ! آپ کی امت میں ایک ایسا مرد ہوگا جو حکمت کے خزانے سے ہزاروں حکمتیں بیان کرے گا اور آپ کی امت کو آپ کے احکام سے آگاہ کرے گا۔ حضور نے یہ سن کر حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کو اپنے پاس بلایا اور ان کے منہ میں اپنا لعابِ دہن عنایت فرمایا اور وصیت کی کہ ابوحنیفہ کے منہ میں یہ امانت ڈالنا۔ حضور کی یہ امانت یعنی لعابِ دہن امامِ اعظم کو حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کی وساطت سے ملی۔

Share:
keyboard_arrow_up