Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 20 of 168

’’کتابُ اللّٰہ اور سنتِ رسول ﷺ  کے ہوتے ہوئے کسی کو بولنے کا حق نہیں ہے‘‘۔

کچھ بدبخت ایسے بھی گزرے ہیں جو امام ابوحنیفہ پر قلتِ حدیث کا اتہام باندھتے رہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ امامِ اعظم کے شعور کی ہر رو اور دل کی ہر دھڑکن حدیثِ رسول میں بسی ہے جو فقیہ، اپنے علم،ایمان اور تفقہ کا حرفِ آخر یہ ٹھہرائے کہ:

اذا صح الحدیث فھو مذھبی۔

یعنی میرا مذہب تو بس حدیثِ صحیح ہے،

اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اسے اھل الرائے کا لقب دینا سوائے بہتان کے اور کیا ہے امام ابوحنیفہ کی بے مثال عبقریت اور لازال فقہی خدمات کو دنیا تیرہ صدیوں سے پیہم خراجِ تحسین پیش کرتی آ رہی ہے۔ اور جب تک سورج کی تابندہ کرنیں اس دھرتی پر قوس قزح کے رنگ بکھیرتی رہیں گی تب تک امامِ اعظم کا نام مطلع حیات کے ہر افق پر جگمگاتا رہے گا۔

دنیائے فقاہت میں تیرا نام رہے گا نعمان!

تیرے نام سے اسلام رہے گا

پیش نظر کتاب: پیر طریقت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری زید مجدہٗ کی انمول کاوش ہے  شاہ صاحب کا شمار اہلسنت کی برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے آپ کی شخصیت علم، عمل اور روحانیت کا مرقع ہے دینی دعوت، سماجی خدمت اور سیاسی عزیمت کے ہر محاذ پر سرگرم عمل خطابت، مناظرہ، تدریس اور تصنیف کے ہر شعبے میں بیک وقت فعال اور کامیاب  کئی بلند پایہ تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں  زیر نظر کتاب’’سیدنا امامِ اعظم ‘‘ امامِ اعظم ابوحنیفہ کی بارگاہ عالی میں حضرت شاہ صاحب کی طرف سے ارمغان محبت ہے دنیا کو آج امامِ اعظم کی بے مثال فقہی بصیرت سے روشناس کرانا وقت کی اشد ضرورت ہے اور حضرت شاہ صاحب نے امامِ اعظم کی سوانح پر قلم اٹھا کر وقت کی اس پکار پر لبیک کہا ہے مجھے مسودہ کے چند صفحات دیکھنے کا موقعہ ملا اور میرا احساس یہ ہے کہ شاہ صاحب زید مجدہٗ نے موضوع کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

بارگاہ رب العزت میں التجا ہے کہ علامہ سیدشاہ تراب الحق قادری زید مجدہٗ کی اس کاوش کو شرف پذیرائی بخشے اور ان کی معیت میں مجھ ایسے فقیر بندہ پرتقصیر کو بھی امامِ اعظم ابوحنیفہ کے حضور باریابی نصیب ہو آمین۔ گدائے درحبیب سید عبدالرحمن بخاری جمعرات ۱۳ ربیع الاول ۱۴۲۴ھ بمطابق ۱۵ مئی ۲۰۰۳ء

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم

باب اول

نام ونسب: سیدنا امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا اسمِ گرامی ’’نعمان‘‘اور کنیت ’’ابوحنیفہ‘‘ ہے۔ علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللّٰہ آپ کے نام کے متعلق یہ لطیف نکتہ لکھتے ہیں ،نعمان کے معنی لغت میں اس خون کے ہیں جس پر بدن کا سارا ڈھانچہ قائم ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ جسم کے تمام اعضاء کام کرتے ہیں ۔بعض علماء نے کہا کہ اس کے معنی روح کے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امامِ اعظم کی ذاتِ گرامی دستورِ اسلام کے لیے بنیاد ومحور اور فقہی مسائل وتعلیمات کے لیے روح کی طرح ہے۔

سیدناامامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے والدِ گرامی کا نام’’ ثابت‘‘ ہے۔ آپ کے پوتے حضرت اسماعیل بن حماد رحمہما اللّٰہ فرماتے ہیں، میں اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان ہوں۔ ہم لوگ فارسی النسل ہیں اور خدا کی قسم! ہم کبھی کسی کی غلامی میں نہیں رہے۔ ہمارے دادا امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ ۸۰ ھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا اپنے نومولود بیٹے ثابت کو لے کر سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ  نے ان کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ اور ہم اللّٰہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ اس نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی دعا ہمارے حق میں ضرورقبول فرمائی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up