Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 19 of 168

لو کان الایمان عندالثریا لذھب بہ رجل من ابناء فارس حتی یتناولہ۔

یعنی اگر ایمان ثریا کی بلندیوں پر ہو تو بھی فارس کے لوگوں میں سے ایک شخص ایسا ہو گا جو وہاں سے اتار لائے گا۔

مجھے یقین ہے اور میں اسی یقین کے ساتھ خدا کے حضور پیش ہونا چاہتا ہوں کہ  اس حدیثِ صحیح کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا مصداق ابوحنیفہ ہے تنہا ابوحنیفہ  کوئی اور نہیں  اور یہ اعزاز ابوحنیفہ سے قیامت تک کوئی چھین نہیں سکتا۔

ساری دنیا کے غیرمقلد حاسدین اور معاندین مل کر بھی نہیں  ابوحنیفہ کے حاسدین تو ہر زمانے میں ابھرتے رہے مگر سارے زمانے گواہ ہیں  سب شہر اور قریے، سمع وبصر، سب پست وبلند اور خشک وتر ہمیشہ گواہی دیتے رہے۔ اور تاابد دیتے رہیں گے کہ  صدیوں پر پھیلے یہ سارے حاسدین مل کر بھی ابوحنیفہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے  حاسدین پہلے بھی شعلوں کی طرح بھڑکتے اور خودبخود مٹتے رہے  اور آئندہ بھی ہمیشہ ایسا ہی ہو گا۔

ایوب سختیانی نے کہا اور سچ کہا:

’’امام ابوحنیفہ کے بعض ہمعصر مجتہدین  نے ان کی مخالفت کی اور جس جس نے بھی ایسا کیا خدا نے اس مجتہد کا مذھب مٹا دیا اور اس کی شناخت بھی گم کر دی جبکہ امام ابوحنیفہ کا مذھب شرقاً غرباً ہمیشہ پھیلتا رہا‘‘۔ واقعی دنیا نے دیکھا ہے کہ جو کوئی ابوحنیفہ کی مخالفت کرے، رسوائی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے  اور کیوں نہ ہو کہ ابوحنیفہ سے عناد رکھنے والے لوگ دراصل لاکھوں محدثین، مفسرین، علماء، فقہاء اور اولیاء کی نفرتیں سمیٹتے ہیں  اور یوں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا مورد ٹھہرتے ہیں  میرا احساس یہ ہے کہ جو کوئی امام ابوحنیفہ سے عناد رکھتا ہے، خدا تعالیٰ اس سے تفقہ بھی چھین لیتا ہے اور تدین بھی  پھر اس کے دامن میں بس انگارے ہی انگارے رہ جاتے ہیں ۔

امام ابوحنیفہ ایک شخصیت نہیں ، تحریک کا نام ہے وہ تو علم کا بہتا دریا ہے سب زمانوں اور کل زمینوں کو سیراب کرنے والا ہم سب جادۂ شریعت کے راہرو ہیں ، وہ امام،  وہ بھی اسے امام مانتے ہیں جو خود دوسروں کے امام ہیں وہ تفقہ میں خود کو اس کی عیال کہتے اور اس پر فخر کرتے ہیں  وہ سچ مچ امامِ اعظم ہے  آنے والے، جانے والے سب زمانوں کے لیے اس کا تفقہ فیضانِ نبوت ہے وہ علمِ شریعت کا سب سے بڑا مینار ہے …اس نے دنیا کو ’’مدون فقہی نظام‘‘ بھی دیا اور اندازِ تفقہ بھی سکھایا اس نے تدوینِ شریعت کا کام بھی کیا اور تشریعی فکر کا سانچہ بھی دیا  جی ہاں ! یہ امام ابوحنیفہ ہی نے دنیا کو دکھایا کہ  اسلام کی مجموعی تشریعی فکر کیا ہے۔

اس تشریعی فکر کی نوعیت اورمزاج، وسعت اور پھیلاؤ، گہرائی اور گیرائی دنیا پر امامِ اعظم ہی نے آشکار کی  ان سے پہلے یہ تشریعی فکر ایک پوشیدہ خزانہ تھا دنیا کو اس کے منابع کا علم تو تھا مگر اس کا سراغ لگانے کے لیے قدرت نے امام ابوحنیفہ کا انتخاب کیا  وہ خاص مزاج جو قرآن وسنت کے مجموعی تشریعی فکر کو سمجھ سکے، ابوحنیفہ کی فکر میں پوری طرح ودیعت ہے مجھے تو کچھ یوں لگتا ہے کہ امام ابوحنیفہ کا مزاج ہی قدرت نے اسلام کی مجموعی تشریعی فکر کے خمیر میں گوندھا ہے۔

میں نے ان کے اسلوبِ تفقہ کو جاننا چاہا تو جوں جوں اس کی مختلف پرتیں کھلتیں رہیں  توں توں اسلام کی ہمہ گیر تشریعی روح (legislative spirit) کی نت نئی ابعاد جگمگاتی چلی گئیں۔

میں ان کے طرزِ اجتہاد کو سمجھنے چلا تو اپنی گہرائی اور گیرائی، عمق اور پنہائی کے لحاظ سے یہ ایک سمندر لگا پھر میں کیا اور میری بساط کیا کہ دنیائے اسلام کے اس سب سے بڑے امام کے بحرِ تفقہ میں اترتا بس ساحل ہی سے نظارے بھرتا رہا پر دیکھا کہ ساحل سے ٹکراتی ہر موجِ تفقہ قطرہ قطرہ گہر ہے  اور ہر گہر میں اسلام کی ابدی تشریعی فکر کے انمول جلوے درخشاں  ہیں ۔

مجھے کہنے دو اور میں سچ کہتا ہوں کہ ’’ابوحنیفہ اسلام کے مجموعی تشریعی فکر کی ایک تجسیم (Personification) ہے‘‘ اور پہی تو سید ہجویر کا روحانی مکاشفہ ہمیں کھول کھول کر بتا رہا ہے۔

امام ابوحنیفہ کے مدارکِ اجتہاد براہِ راست شعورِ نبوت سے فیضیاب ہیں  اور نبوی منہاجِ تشریع کے دھارے ان کی کشتِ فقہ کو سیراب کر رہے ہیں  پھر کیوں نہ رحمتِ مصطفیٰ کی پرچھائیاں ان کے فقہی سانچے میں جلوہ بار ہوں ذرا دیکھئے تو سہی ایک جھلک امامِ اعظم کے مزاجِ تفقہ کی چونکہ تشریع کا منبع وحی ہے اور وحی کا خزانہ قرآن وسنت لہٰذا امام ابوحنیفہ کی تمام فقہی واجتہادی سرگرمیاں ہمیں قرآن وسنت ہی کا طواف کرتی نظر آتی ہیں  وہ اپنے تفقہ کا آغاز بھی انہی دو سے کرتے ہیں اور انتہاء بھی انہی دونوں پر خود امامِ اعظم کے اپنے الفاظ سنیے جو عبداللّٰہ بن مبارک نے ان سے نقل کیے ہیں ۔فرمایا:

Share:
keyboard_arrow_up