’’ان کی ثقاہت پر تمام اہلِ علم متفق ہیں۔
عبداللّٰہ بن مبارک جو بالاتفاق امیر المومنین فی الحدیث کہلاتے جن کے استاد سفیان ثوری انہیں مشرق ومغرب کا عالم کہتے، جن کی عزت اور مقبولیت پر خلیفہ ہارون رشید برملا رشک کا اظہارکرتا اور جن کی شان میں امام نووی نے لکھا:…
’’وہ امام جن کی عظمت پر ہر باب میں اجماع کیا گیا ، جن کے ذکر سے اللّٰہ کی رحمت برستی ہے اور جس کی محبت سے بخشش کی امید بندھتی ہے‘‘
فضل بن موسیٰ جو علم اور تقویٰ میں عبداللّٰہ بن مبارک کے ہم پلہ سمجھے جاتے اور جو کسی شخص کی طرف سے اہانت کرنے پر اپنے شہر سے نکل آئے تو دنیا نے دیکھا کہ:
اس سال شہر کی تمام کھیتیاں اجڑ گئیں اور فصلیں تباہ ہو گئیں ۔
حفص بن غیاث جو تیرہ سال کوفہ اور دو سال بغداد میں قاضی رہے اور جن کے تمام فیصلوں کا باریک بینی سے جائزہ لےکر امام ابویوسف پکار اٹھے کہ:’’حفص کے ساتھ تائیدِ الٰہی ہے‘‘
حکم بن عبداللّٰہ بلخی جو سولہ سال بلخ کے قاضی رہے، جو گورنر کو ڈانٹتے تو اس کے آنسو بہہ پڑ تے اور جن کے علم ودیانت کی تعریف عبداللّٰہ بن مبارک کیا کرتے۔
حضرت فضیل بن عیاض، امام شافعی کے استاد اور ولیوں کے سردار جن کی عظمت کے چرچے ہر زبان پر ہیں اور ابواسماعیل حمادجن کی خوش نصیبی پر زمانہ ناز کرتا ہے کہ ان کی رگوں میں امامِ اعظم کا خون دوڑتا تھا اور جن کے علم و تفقہ کا یہ عالم تھا کہ وہ عظیم باپ کی زندگی میں ہی منصبِ افتاء پر فائز ہو چکے تھے۔
یہ ہیں چند ستارے آسمانِ شریعت کی اس عظیم کہکشاں کے جس کا مرکز سراجِ امت امامِ اعظم ابوحنیفہ کی ذاتِ اقدس تھی اور جس کی مثال پوری دنیا کی تاریخ تدوین قانون میں کہیں اور نہیں مل سکتی یہ مجلس تدوینِ فقہ جس کے سر پر خدا کی رحمتوں کا سایہ تھا کہ اس مجلس نے خدا کی دھرتی پر خدا کے آخری قانون کی دائمی حفاظت کا بیڑا اٹھایا ہوا تھا یہ مجلس آج کل کی سرکاری کونسلوں جیسی نہ تھی کہ ارکان نامزد ہو گئے، کورم ٹوٹتے اور اجلاس رکتے رہے یہ تو ایک دائمی سیمینار تھا جو خدا کے گھر جامع کوفہ میں مسلسل جاری رہتا۔
فقہی تدوین کے اس عمل میں جس جس فقیہ، محدث اور امام کا جتنا حصہ خدا نے ازل سے لکھا ہوا تھا وہ اپنے اپنے وقت پر آتا اور اس مجلس میں شامل ہوتا رہا یہ کوئی تنظیمی مجلس نہ تھی کہ ارکان کی عمر ، ڈگری اور منصب کا تجزیہ شروع کر دیا جائے یہ تو خدا کے دین کی خدمت کا کام تھا۔
اور جس جس مرحلے پر خدا نے جس کسی کو چاہا، اپنے دین کی خدمت کے اس پاکیزہ حلقے میں لا کر بٹھا دیا کوئی پہلے اس کا رکن بنا ، کوئی بعد میں کوئی بڑھاپے میں اس مجلس کے شایاں اترا اور کوئی بچپن ہی سے علم کا سمندر تھا اور امامِ اعظم تو علم کے ہر سمندر کی موجوں اور ہر ستارے کی کرنوں سے شریعتِ محمدی کی کھیتی کو سیراب کر رہے تھے۔
یہ مجلس ایک گلدستہ تھی علم، ایمان اور تقویٰ کا گلدستہ امام ابوحنیفہ اس گلدستے میں ہر رنگ اور ہر مہک کے پھول سجا رہے تھے۔
وقت گزرتا رہا نئے نئے پھول کھلتے رہے اور امامِ اعظم ان پھولوں سے اپنا گلدستہ سجاتے رہے یہ مجلس تو البیلے موتیوں کا ہار تھی یہ ہار امامِ اعظم نے اس وقت پرونا شروع کیا جب خدا نے انہیں تدوینِ شریعت کے کام پر لگایا اور پھر جب تک ان کی سانسیں چلتی رہیں وہ علم اور تقوی کے موتی ڈھونڈتے، ہار پروتے اور تدوینِ شریعت کا کام کرتے رہے۔
یہاں تک کہ دنیا نے دیکھا اور پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے ہاں ابوحنیفہ اور صرف ابوحنیفہ ہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں کونین کے سب رازوں سے بھرا محبوبِ خدا ﷺ کا سینہ بہت پہلے یہ مژدہ دے چکا تھا سنو امام بخاری اور امام مسلم کی زبانوں سے مہکتے جگمگاتے الفاظ ٹپک رہے ہیں … فرمایا میرے آقا ﷺ نے:

