Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 17 of 168

امام ابوحنیفہ تاریخِ اسلام میں یقیناً بے مثل اور یکتا ہیں  پر بات اتنی ہی نہیں  کچھ اس سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ امام شافعی نے کہہ دی ہے:

الناس عیال فی الفقہ علی ابی حنیفۃ۔

یعنی فقہ میں ساری دنیا ابوحنیفہ کی پروردہ ہے۔

فقہاء تو ابوحنیفہ سے پہلے بھی تھے  پر فقہ میں امامت کے شایاں سب سے پہلے وہی نکلے ابوحنیفہ کو خدا نے سب سے پہلے تدوینِ شریعت کی راہ سمجھائی اصولِ شریعت انہوں نے دریافت کیے منہج استنباط اور معیارِ تدوین انہوں نے وضع کیا مقاصدِ شریعت اور قواعدِ اجتہاد انہوں نے متعین کیے مجلسِ تدوینِ فقہ انہوں نے بنائی قیاس واستحسان کی حدود انہوں نے طے کیں اور فقہ تقدیری کی نیو انہوں نے اٹھائی  ان سارے کاموں میں کوئی ان سے پہلے ہے نہ ان سے بڑھ کر پھر کیوں نہ امام شافعی  اور ان کے ساتھ مل کر ہم بھی برملا کہیں کہ: شریعت کو سمجھنے، اپنانے اور سنبھالنے میں پوری امت امام ابوحنیفہ کی عیال ہے۔

وہ امامِ اعظم ہیں اور باقی سب ان کے تابع اور ان کے محتاج اس کام میں کوئی ان سا ہے نہ ان سے بے نیاز۔

پھر تدوینِ شریعت کے اس کام کو انجام دینے میں ایک اور بڑی ندرت جو امام ابوحنیفہ کے ہاں ابھری اور جس کی کوئی مثال شاید ہی ان سے پہلے دنیا کی کسی قوم میں تدوینِ قانون کے حوالے سے ملے وہ شوروی اجتہاد اور مجلس تدوینِ فقہ کا قیام ہے  مغرب میں پارلیمانی تقنین کا تصور تو خیر بہت بعد میں چمکا  پھر یوں بھی وہ امام ابوحنیفہ کی مجلسِ تدوین سے بہت فروتر ہے  اور مجھ سے پوچھیے تو پارلیمانی تقنین کا یہ نظریہ امام ابوحنیفہ کی ’’اجتماعی تدوینِ قانون‘‘ کا ایک عکسِ بعید ہے اور بس یہ مجلسِ تدوین کیا تھی تقویٰ، تدین اور تفقہ کی ایک کہکشاں تھی ۔ ایسی کہکشاں جس میں کائناتِ علم اور دنیائے ولایت دونوں کے تاجدار جگمگا رہے تھے

امام ابویوسف جنہیں پوری سلطنتِ اسلامیہ کا قاضی القضاۃ بناتے وقت خلیفہ ہارون رشید نے کہا

’’بخدا میں نے علم کے جس باب میں اس شخص کو آزمایا، اس میں کامل اور ماہر پایا۔ اس کا کردار آلودگیوں سے پاک ہے، اس جیسا کوئی اور نہیں‘‘

امام محمد بن حسن شیبانی جن کے ایک شاگرد امام شافعی تھے اور وہ اپنے استاد کے بارے میں کہا کرتے:

’’میں نے ان سے زیادہ عقلمند کوئی نہیں دیکھا۔ وہ جب کوئی مسئلہ بیان کرتے تو یوں لگتا کہ وحی اتر رہی ہے‘‘

امام زفر بن ہذیل جو امامِ اعظم  کے حلقۂ درس میں ان کے جانشین ہوئے اور جن کے بارے میں خود امامِ اعظم نے کہا:

’’زفر مسلمانوں کے ائمہ میں سے ایک امام ہیں، حسب نسب اور شرافت میں بلند پایہ، ہمارے اصحاب میں قیاس کے سب سے زیادہ ماہر‘‘ حسن بن زیاد جن کی شان اتنی بلند ہے کہ ابن اثیر  نے انہیں تیسری صدی ہجری کے مجددین میں شامل کیا ہے۔

مالک بن مغول جن پر تمام محدثین اعتماد کرتے ہیں اور امام بخاری نے جن کے بارے میں فرمایا:

’’اہلِ کوفہ میں بس وہی شخص قابلِ اعتماد اور ثقہ ہے جو مالک بن مغول کی تعریف کرتا ہو‘‘۔

داؤد الطائی جن کے ثقہ ہو نے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے اور جن کے بارے میں ایک عظیم محدث محارب بن دثار کہا کرتے:

’’داؤد اگر اگلے زمانے میں ہوتے تو اللّٰہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ان کا قصہ بیان کرتا‘‘۔

زہیر بن معاویہ جو الجزیرہ کے سب سے بڑے محدث سمجھے جاتے اور جن کے بارے میں امام سفیان ثوری نے کہا:

’’معاصرین میں کوئی شخص ان کا ہم پایہ نہ تھا‘‘ 

قاسم بن معن جو حضرت عبداللّٰہ بن مسعود کے پوتے تھے، جنہیں اپنے عہد کا امام شعبی کہا جاتا اور جن کے بارے میں امامِ اعظم فرمایا کرتے:۔

’’قاسم میرے دل کا سکون اور میرے غم و اندوہ میں باعثِ راحت ہے‘‘

عافیہ بن یزید جن کی ثقاہت اور عقل ودانش کا ہر سو چرچا تھا اور جن کی غیر موجودگی میں امامِ اعظم تدوینِ فقہ کا کام روک دیتے اور فرمایا کرتے:۔’’جلدی نہ کرو، عافیہ کو آنے دو‘‘۔

یحییٰ بن زکریا جن کا پایہ حفاظِ حدیث میں اتنا بلند ہے کہ یحییٰ بن معین انہیں اپنے عہد کا سب سے بڑا عالم کہتے تھے۔

یوسف بن خالد سمتی جن کی تعریف امام شافعی، امام مزنی اور امام طحاوی نے کی وکیع بن الجراح جن کے بارے میں ان کے شاگرد امام احمد بن حنبل یوں کہا کرتے:

’’یہ حدیث مجھ سے اس شخص نے بیان کی جن کا مثل میری آنکھ نے نہیں دیکھا‘‘  یحییٰ بن سعید القطان جنہوں نے فتنۂ وضعِ حدیث کی سرکوبی کے لیے فنِ رجال کی بنیاد رکھی اور جن کی بارگاہ میں امام احمد بن حنبل، ابن مدینی اور ابن خالد ایسے ائمہ حدیث گھنٹوں سراپا عجز وادب کھڑے رہتے۔

ابوعاصم نبیل جن کی تعریف امام بخاری نے کی اور جن کے بارے میں ذہبی نے لکھا: …

Share:
keyboard_arrow_up