Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 16 of 168

میں نے دیکھا حضور سید عالم اپنی آغوش میں ایک سفید ریش بزرگ کو بچے کی طرح اٹھائے ہوئے چل رہے ہیں ۔ میں حیرت میں ڈوبا تھا کہ آقا و مولا نے فرمایا:

علی! یہ تیرے دیار کا امام ابوحنیفہ ہے۔ اس مشاہدے کی تعبیر میرے باطن سے یہ ابھری کہ ابوحنیفہ جادہ فقاہت میں اپنے قدموں سے نہیں آقاکے قدموں سے چل رہے ہیں ۔ ان کا تفقہ حضور کا عطیہ ہے۔ وہ علم اور عمل دونوں میں فنا فی الرسول کی منزل پر فائز ہیں ۔

کچھ یہی نتیجہ امام ربانی مجدد الف ثانی کے روحانی مشاہدات سے بھی سامنے آیا ہے  وہ لکھتے ہیں کہ:

امامِ اعظم کا اجتہاد کمالات نبوت کی نسبت لئے ہوئے ہے اور یہی راز ہے فقہ و طریقت کے۔

امام عبدالوہاب شعرانی کے اس ارشاد گرامی کا کہ…

’’اہل کشف نے دیکھا ہے امام ابوحنیفہ کا فقہی مذہب تدوین میں سب سے پہلا اور ختم ہونے میں سب سے آخری ہے‘‘اور اسی کی تائید ہوتی ہے حضرت خواجہ محمد پارسا کے اس مکاشفہ سے کہ: حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ السلام جب زمین پر اتریں گے اور دنیا میں اسلام غالب کردیں گے تو شریعت کا جو نظام وہ کائنات میں لاگو کریں گے، امام ابوحنیفہ کی فقہی تعبیر اس سے مطابقت رکھتی ہے۔ بھلا ابوحنیفہ کا فقہی مذہب قیامت تک کیوں نہ چلے جبکہ ابوحنیفہ نے اس مذہب کو لوگوں تک پہنچانا شروع ہی اس وقت کیا جب سرورِکونین کی بارگاہ سے انہیں اس کا اشارہ ہوا… جبھی تو خدا نے ہر عہد میں مسلمانوں کی دو تہائی اکثریت کو فقہ حنفی سے وابستہ کر رکھا ہے۔ فقہ حنفی رسولُ اللّٰہ کے فیضانِ نظر کا اک کرشمہ ہے۔

اپنے عہد کے ایک برگزیدہ ولی، فقیہ اور محدث حضرت عبداللّٰہ بن مبارک اسی لئے فرمایا کرتے تھے :

قول ابی حنیفۃ کالاثر عن رسول اللہ ﷺ اذا لم نجد اثرا۔

یعنی جب کسی معاملہ میں کوئی حدیثِ نبوی میسر نہ ہو تو امام ابوحنیفہ کا قول وہاں کلامِ ماثور کا پَرتَو محسوس ہوتا ہے۔ کہاں وہ بے بصیرت حاسدین جو امام ابوحنیفہ پر حدیثِ رسول سے عاری ہونے کا بہتان باندھتے ہیں۔ اور کہاں عبداللّٰہ بن مبارک جیسا اپنے وقت کا سب سے بڑا محدث جو برملا یہ کہتا ہے کہ جب کسی معاملے میں حدیثِ رسول نہ ملے  تو ابوحنیفہ کا قول لے لو۔ اس میں شعورِ نبوت کے پَرتَو کی جھلک ہو گی اور یہ شعورِ نبوت کے اسی پَرتَو کا کرشمہ تھا کہ امام ابوحنیفہ کے فقہی مدارک اس قدر دقیق اور ان کے اجتہاد کی سطح اتنی بلند ہو گئی تھی کہ امام عبد الوہاب شعرانی نے المیزان الکبریٰ میں حضرت سید علی خواص کا یہ قول لکھا ہے کہ ’’اکابر اولیاء کے کشف کے سوا کسی کے علم کی رسائی امام ابوحنیفہ کے مدارک تک نہیں ہے‘‘

ابن عیینہ کہتے ہیں۔میں سعید بن ابی عروبہ کے پاس گیا انہوں نے امام ابو حنیفہ کے بارے میں مجھ سے کہا:

لقد فتح اللہ لھذا الرجل فی الفقہ شیئا کانہ خلق لہ۔

یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے اس شخص پر فقہ کے اسرار کھول دیے ہیں گویا کہ خدا نے اسے پیدا ہی اس کام کے لیے کیا ہے۔

زفر بن ہذیل خود ایک عظیم فقیہ اور امام ابوحنیفہ کے جانشین تھے وہ اپنی چشمِ تصور سے امام ابوحنیفہ کی فقہی گفتگو کا نقشہ یوں باندھتے ہیں :

کان اذا تکلم خیل الیک أن ملکا یلقنہ۔

یعنی جب امامِ اعظم بولتے تو یوں لگتا کہ گویا ایک فرشتہ ان کے دل میں القا کر رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ ابوحنیفہ کے سینے میں خدا نے علم کا ایک خزانہ بھر دیا تھا اور اب وہی خزانہ امامِ اعظم دنیا والوں میں لٹا رہے تھے۔

معمر نے کیا خوب کہا ہے کہ…

’’ابو حنیفہ سے بڑھ کر فقہ کی مہارت رکھنے والا مجھے کوئی اور نظر نہیں آتا جو مخلوق کو راہِ نجات دکھانے والا ہو‘‘ سچ ہے امام ابوحنیفہ نے اپنی فقہی بصیرت کے ذریعہ مخلوقِ خدا کی راہنمائی کا حق ادا کر دیا امام مالک کی ان سے ملاقات ہوئی تو کسی نے پوچھا، ابوحنیفہ کو کیسا پایا؟… بے ساختہ جواب دیا اور تعریف کا حق ادا کر دیا

فرمایا،لم ار مثلہ۔ یعنی میں نے ان سا کوئی نہ دیکھا، وہ بے مثل ہیں ۔

Share:
keyboard_arrow_up