عجزت النساء ان یلدن مثلک سیرلعا ما علیک فی العلم کلفۃ۔
یعنی اے ابوحنیفہ ! عورتوں کی کوکھ اب تجھ سا کوئی ذہین اور تزفکر جنم نہ دے سکے گی، علم تجھ پر بے ساختہ برستا ہے۔
دیکھئے ابن شبرمہ نے کیونکر ابوحنیفہ کو علم و تفقہ کی دنیا میں یکتا اور یگانہ ٹھہرایا ایسا یگانہ کہ اب ماؤں کی کوکھ بھی ایسا کوئی اور نہ لا پائے گی حقیقت یہ ہے کہ ابوحنیفہ سے خدا نے جوکام لینا تھا وہ تنہا انہوں نے کردیا ابوحنیفہ علم کا سمندر تھے۔
علی بن مدینی کئی شہروں کے فقہاء سے مل آئے اور جب کوفہ میں امامِ اعظم تک پہنچے تو یہیں کے ہو رہے اور بے دھڑک کہنے لگے
این البحر من السواقی
یعنی کہاں سمندر اور کہاں نہریں۔
قاسم بن معن جو حضرت عبداللّٰہ بن مسعود کی اولاد میں خود ایک عظیم فقیہ تھے ابوحنیفہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے اور جب کسی نے سبب پوچھا تو برملا پکار اٹھے:
ما جلس الناس الی احد انفع مجالسۃ من ابی حنیفۃ۔
یعنی دنیا والوں نے ابوحنیفہ کی مجلس سے بڑھ کر کسی اور کی مجلس کو نفع بخش نہیں پایا۔
واقعی امام ابوحنیفہ کی مجلس سے بڑھ کر کوئی اور فقہی مجلس دنیا نے نہیں دیکھی دین کا جو علم ان گنت مجالس اور حلقوں میں پھیلا ہوا تھا وہ سب تنہا امامِ اعظم کے حلقے میں سمٹ آیا تھا یہی وجہ ہے کہ جب کوفہ کی جامع مسجد میں امامِ اعظم نے اپنی مسند بچھائی تو دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف سے دنیا ٹوٹ کر دوڑی چلی آئی سب بڑے چھوٹے ادھر لپکے اور یہ فقہ و شریعت کا سب سے بڑا اور سب سے معتبر حلقہ بن گیا۔ امامِ اہل بیت امام باقر نے بہت پہلے ابوحنیفہ کو دیکھ کر یونہی تو نہیں کہہ دیا تھا کہ
ما احسن ھدیہ وسمتہ وما اکثر فقہہ
یعنی کیا سندرتا ہے اس شخص کے کردار میں اور کیافراوانی ہے اس کے علم و فقہ میں ۔دراصل امام باقر کی نگاہ فراست تاڑ گئی تھی کہ دنیائے فقہ کا مستقبل ابوحنیفہ سے جڑا ہے۔
حضرت داؤد طائی فقہ ظاہر اور فقہ باطن دونوں سے فیضیاب تھے ان کے علم اور وجدان نے چارسو دیکھا تو نظر آیا کہ علم بس وہی ہے جو ابوحنیفہ سے دنیا کو ملا ہے سنئے وہ کیا کہتے ہیں :
ذلک نجم یھتدی بہ الساری وعلم تقبلہ قلوب المؤمنین فکل علم لیس من علمہ فھو بلاء علی حاملہ۔
یعنی ابوحنیفہ آسمان علم کا قطب ستارہ ہے جادۂ فقہ کے سب راہی اسی کی راہبری میں چلتے ہیں … اس کا علم دلوں میں اترتا جاتا ہے… اور جو علم ابوحنیفہ کی راہ سے نہ آیا ہو وہ تو بس ایک آزار ہی ہے۔
ابو یوسف امامِ اعظم کے شاگرد بھی ہیں اور خود ایک عظیم مجتہد بھی ان سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ اپنے استاد کا فیض لٹاتے اور ساتھ ہی یوں کہتے:
ھذا قول ابی حنیفۃ ومن جعلہ بینہ وبین اللہ فقہ استبرأ لدینہ۔
یہ ابوحنیفہ کا ارشاد ہے اور جس نے خدا کے ساتھ اپنا رشتہ ابوحنیفہ کے علم کی راہ سے جوڑ لیا اس نے اپنے دین کو محفوظ کرلیا۔
یہ محض ایک شاگرد کا جذبہ عقیدت نہیں ، امر واقع ہے ابویوسف خود کہتے ہیں کہ میں نے جب بھی اپنے تفقہ میں امام کی رائے سے اختلاف کیا ذرا سی دیر میں مجھ پر کھلا کہ:
مذھبہ انجی فی الآخرۃ یعنی ابوحنیفہ کی رائے ہی نجات اخروی سے قریب تر ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ جب کئی اہل کشف نے پے درپے یہ دیکھاہے کہ ابو حنیفہ کا علم ان کے اپنے ذہن کا زائیدہ نہیں بلکہ براہ راست سرور کونین ﷺ کا عطیہ ہے برصغیر میں کاروانِ ولایت کے سالار مخدومِ امم سید ہجویر اپنا ایک کشف سناتے ہیں کہ:

