Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 14 of 168

یعنی: اہل اسلام پر لازم ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں امام ابوحنیفہ کے لئے دعا کیاکریں کہ انہوں نے سنت اور فقہ کی حفاظت کرکے مسلمانوں پر احسان کیا ہے۔

جی ہاں ! تمام اہل اسلام پر لازم ہے کہ وہ جب جب خدا کو یاد کریں  ساتھ ہی امامِ امت ابوحنیفہ کے لئے دعا کی تڑپ بھی اس میں بسا دیں  وہ جب بھی دین کے کسی حکم پر عمل کریں  ساتھ ہی ابوحنیفہ کے لئے والہانہ تشکر کا جذبہ بھی انڈیل دیں  کیوں ؟  اس لئے کہ امام ابوحنیفہ نے پوری امت پر احسان کیا ہے تہذیب اسلامی اور شریعت محمدی کی حفاظت کا احسان جس طرح خلیفہ اول صدیق اکبر نے تدوین قرآن کا بیڑا اٹھایا اور خدا کی کتاب کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا اسی طرح امامِ اعظم ابوحنیفہ نے تدوین شریعت کا ڈول ڈالا اور اسلامی شریعت کی ابدی حفاظت کا سامان کردیا دیکھئے عہد نبوت تاسیس شریعت کا عہد ہے اس عہد میں دنیا کو شریعت عطا ہوئی اور تہذیب نے وجود کا جامہ پہنا  خلافت راشدہ عہد رسالت کاتتمہ ہے اس میں تعمیر، توسیع اور تسخیر کا کام جاری رہا صحابہ کی تربیت خود آقا نے کی تھی۔

رسول اللّٰہ کا ایک ایک حکم ان کے سینوں میں محفوظ تھا حضور کی ایک ایک ادا ان کے عمل میں ڈھل چکی تھی ان کی زندگیاں قرآن اور سنت کا آئینہ تھیں  تہذیب ان کے کردار میں جذب ہو چکی تھی نفوس خود اصول بن گئے تھے اور یوں شریعت کی حفاظت ہو رہی تھی  مگر صحابہ کے بعد قیامت تک شریعت محمدی کی حفاظت کا اہتمام ناگزیر تھا اور قسام ازل نے یہ سعادت ابوحنیفہ کے مقدر میں لکھی تھی۔

صحابہ نے قرآن کے الفاظ جمع کئے اور ابوحنیفہ نے اس کے احکام مرتب کئے صحابہ نے اپنے آقا کے ارشادات دنیا تک پہنچائے اور ابوحنیفہ نے ان ارشادات کے مفاہیم مدون کردیے۔

فقہ کیاہے یاد رکھئے سنت کے مفاہیم کا دوسرا نام محدثین ابوحنیفہ کے بعد آئے اور انہوں نے جن احادیث کے الفاظ جمع کئے ابوحنیفہ ان الفاظ کو پہلے ہی احکام کا روپ دے چکے تھے محدثین کا کام اپنی جگہ عظیم بھی ہے اور بے مثال بھی اور پوری امت ہمیشہ ان کی ممنون احسان رہے گی مگر یہاں مجھے یہ کہنا ہے کہ ابوحنیفہ کو خدا نے محدثین کا بھی امام بنا دیا ہے جو کام محدثین نے لفظاً انجام دیا  وہ ان سے پہلے ابوحنیفہ معناً انجام دے چکے تھے الفاظ امت تک محدثین نے پہنچائے اور معانی ابوحنیفہ نے بتائے اور صرف معانی ہی نہیں بتائے ان معانی تک رسائی کا گر بھی سکھایا۔

تو کہنے دیجئے کہ … ا بوحنیفہ کو خدا نے چن لیا اپنے محبوب کی سنت اور شریعت کی حفاظت کے لئے۔ ہوسکتا ہے کوئی سوچے… تدوین شریعت کے اعزاز میں تو دیگر ائمہ مجتہدین بھی حصہ دار ہیں  کوئی شک نہیں امت سبھی کی ممنون احسان ہے امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور دیگر تمام ائمہ مجتہدین کی دہلیز پر امت کا سر جھکا ہے ہر ایک کا نام قیامت تک درخشاں رہے گا پر سنئے تو سہی ان اماموں سے  وہ کیا کہہ رہے ہیں ابوحنیفہ کے بارے میں۔

سفیان ثوری ان کے معاصر ہیں اور خود مجتہدِ وقت  مگر ابوحنیفہ کی برتری مانے بغیر نہ رہ سکے اور بےجھجھک پکار اٹھے:

انہ لیکشف لک من العلم عن شئی کلنا عنہ غافل۔

 یعنی اے ابوحنیفہ! خدا تیرے سینے پر وہ علم انڈیلتا ہے کہ ہم میں سے کوئی دوسرا اسے پا نہیں سکتا۔

لیجئے سفیان ثوری نے بتا دیا کہ علم شریعت میں ابوحنیفہ سب سے آگے ہیں  خدا انہیں ہر ایک سے بڑھ کر دیتا ہے کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا اور پہنچے کیسے کہ  خدا نے انہیں فہم و ادراک کی جو انمول قوت بخشی ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی…جبھی تو ابن شبرمہ کو لوگوں نے بھری مجلس میں دیکھا کہ بے ساختہ ابوحنیفہ کی ذہانت پر یوں ناز کرنے لگے: 

Share:
keyboard_arrow_up