میں نے اس کتاب کا چند مقامات سے مطالعہ کیا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر صرف عوام ہی نہیں بلکہ علماء بھی فائدہ حاصل کریں گے۔ ہاں ایک بات ضرور کہوں گا وہ یہ کہ علماء اہلسنت کے پاس لوگوں کو خریدنے کے لیے پیسے نہیں جبکہ دیگر مذاہبِ باطلہ بکاؤ مال لوگوں کو پیسے سے خریدتے ہیں ۔
یہ کام تو یقیناً شاہ صاحب نہیں کر سکتے۔ راہنمائی ان کا حق تھا، انہوں نے یہ حق ادا کر دیا اور خوب ادا کیا۔ فجزاہ اللہ خیر الجزاء۔ رب تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو نافع خلائق بنا ئے،آمین بجاہ سید المرسلین۔ عبدالرزاق بھترالوی جامعہ جماعتیہ مہر العلوم،راولپنڈی تقدیم محققِ جلیل ، ادیبِ شہیرپروفیسر سید عبدالرحمن شاہ بخاری شریعۃ اکیڈمی، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ حمدا یوافی نعمہ ویکافی مزیدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ وعلیٰ آلہ وصحبہ الذین اھتدوا ھدیہ۔ اما بعد!
کائنات امتزاج ہے مادہ اور توانائی کا انسان مرکب ہے جسم اور روح سے زندگی تالیف ہے صورت اور سیرت کی اسی طرح تہذیب مجموعہ ہے جوہر (spirit) اور مظہر (form) کا اسلام خدا کی ابدی اور آفاقی تہذیب ہے اس تہذیب کا جوہر نسبتِ مصطفیٰ ﷺ اور مظہر شریعتِ محمدی علی صاحبہا التحیہ ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہیے دین کیا ہے مصطفیٰ ﷺ کی غلامی کا نام اور یہ غلامی جب عمل کے پیکر میں ڈھلتی ہے تو شریعتِ محمدی کہلاتی ہے۔
شریعت کیا ہے زندگی گزارنے کا سلیقہ اور یہی تو حاصل تہذیب ہے نظام قدرت کے دو ہی رخ ہیں ایک تکوین دوسرا تشریع خدا جو کچھ بناتا ہے وہ اس کی تکوین ہے اور جو کچھ چاہتا ہے وہ اس کی تشریع ہے قرآن کے فیصلہ کن الفاظ میں :
رَبُّنَا الَّذِیْ اَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہ ثُمَّ ھَدٰی۔
یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو بنایا اور پھر اسے ہدایت سے نوازا۔
دیکھئے خدا کا پورا نظام قدرت یہاں صرف دو ہی لفظوں میں آشکار ہو رہا ہے ایک خلق جو تکوین سے عبارت ہے اور دوسرا ہدایت جو تشریع سے الگ کچھ نہیں تو کہنے دیجئے کہ اس پوری کائنات میں خدا کی ذات کے دو ہی جلوے ہیں تکوین اور تشریع
تکوین خدا کی صفت ہے۔
اور اس سے باہر جو کچھ ہے سب اس کی تشریع تو کیا اب بھی اس میں کچھ شبہ ہے کہ تہذیب کی نمود تشریع ہی میں ہوتی ہے اور بس شریعت سے باہر جو کچھ ہے اس کا تہذیب سے کچھ رشتہ نہیں ذرا سوچئے تو سہی خدا نے اس شخص کو کیا دانائی بخشی ہو گی جس نے شریعت کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے: معرفۃ النفس ما لہا وما علیہا۔
یعنی شریعت نام ہے اس کا کہ نفس انسانی پہچان لے وہ سب کچھ جو اس کے لئے ہے اور وہ سب کچھ جو اس پر عائد ہے۔
مالھا وما علیھا کی تعبیر اتنی ہمہ گیر ہے کہ زندگی اور تہذیب درکنار خود کائنات اپنی ابتدا سے انتہا تک اس کی آغوش میں ڈوبی ہوئی ہے میں سچ کہتا ہوں اللّٰہ تعالیٰ نے انبیاء کے بعد پوری نسل انسانی میں جو دانائی بانٹی ہے اس دانائی کا بہت بڑا حصہ فقط اسی ایک فقرے میں سمٹ آیا ہے یہ شخص یقیناً انبیاء کرام علی نبینا وعلیہم السلام اور محمد عربی ﷺ کے چند صحابہ اور اہل بیت کے بعد تاریخ انسانی کا سب سے بڑا دانا، سب سے بڑا مفکر اور سب سے بڑا حکیم ہے انسانی تہذیب کو اس سے بڑھ کر کسی نے نہیں سمجھا اور کسی نے نہیں سنبھالا یہ شخص علی الاطلاق اسلامی تہذیب کا سب سے بڑا مفکر بھی ہے اور سب سے بڑا محافظ بھی جی ہاں ! اس شخص کو خدا نے صرف یہ سمجھایا ہی نہیں کہ تہذیب کیاہے ، شریعت کیا اور ان دونوں میں باہم کتنا گہرا رشتہ ہے بلکہ اسلامی شریعت اور اسلامی تہذیب کی حفاظت اور خدمت کا سب سے بڑا کام بھی اسی شخص سے لیا ہے وہ تو بازار میں کپڑا بیچنے نکلا تھا پر میرے خدا نے اسے دنیا کا امام بنا دیا صرف امام ہی نہیں بلکہ امامِ اعظم۔
میں قربان تیری عظمتوں پر اے کوفہ کے تاجر! تیرے جیسا نصیب کوئی اور لےکر نہیں آیا دنیا کے لاکھوں ولی خدا کے حضور سجدے گزارتے ہیں اور ان سجدوں کا ثواب تجھے پہنچتا ہے پر تیرا حق پھر بھی ادا نہیں ہوتا سو اہل ِ علم اور اہلِ دل کو کہنا پڑتا ہے:
یجب علی اھل الاسلام ان یدعوا اللہ لابی حنیفۃ لحفظہ علیھم السنۃ والفقہ۔

