’’قال یحییٰ بن معین اصحابنا یفرطون فی ابی حنیفۃ واصحابہ فقیل لہ اکان یکذب قال لا‘‘۔
یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض دوست امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق زیادتی کرتے ہیں ، حد سے تجاوز کرتے ہیں ۔جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ جھوٹ بولتے ہیں ؟ تو ان کی طرف سے جواب ملتا ہے، نہیں ۔ پھر آپ کی شان میں حد سے تجاوز کیوں ؟
علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللّٰہ، طبقات شیخ الاسلام میں فرماتے ہیں ،
الحذر کل الحذر ان تفھم من قاعدتھم ان الجرح مقدم علی التعدیل علی اطلاقھا بل الصواب ان من ثبت امامتہ وعدالتہ وکثر ما دحوہ وندر جارحہ وکانت ھناک قرینۃ دالۃ علی سبب جرحہ من تعصب مذہبہ او غیرہ لم یلتفت الیہ۔
یعنی یہ قاعدہ کسی سے سن کر تسلیم نہ کر لو کہ جرح مقدم ہے تعدیل سے، یہ قاعدہ مطلق نہیں کہ اسے آنکھیں بند کر کے تسلیم کر لیا جائے۔ جس شخص کی امامت ثابت ہو، عدالت ثابت ہو، اس کے مدح کرنے والے کثیر تعداد میں پائے جاتے ہوں اور اس کے معترضین چند لوگ (بلکہ چند شرپسند) ہوں تو وہاں یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ لوگ اس کے مذہب سے تعصب رکھتے ہیں اور اس کے متبعین کی کثرتِ تعداد کو دیکھ کر جلتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کی جرح کی طرف ہرگز توجہ نہ کی جائے۔
اس کے بعد آپ فرماتے ہیں ،
’’ولو اطلقنا تقدیم الجرح لما سلم لنا احد من الائمۃ اذ ما من امام الا وقد طعن فیہ طاعنون وھلک فیہ ھالکون‘‘۔
اگر ہم مطلقاً یہ تسلیم کر لیں کہ فلاں امام پر اعتراض کرنے والا بھی تو کوئی ہے، اس امام کی بات کو کیوں مانیں ؟ تو اس طرح کوئی امام بھی ہمیں ایسا نہ مل سکے گا جس پر طعنہ کرنے والوں نے طعنہ نہ کیا ہو اور ہلاک ہونے والے اس کی شان میں گستاخی کر کے ہلاک نہ ہوئے ہوں ۔
تو بعض لوگوں نے اپنی جہالت کی وجہ سے امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ پر یہ طعن پیش کیا کہ آپ کی روایات قلیل ہیں ۔ ان کو یہ سمجھ نہ آ سکا کہ پہلے احادیث کو کتابی شکل میں جمع کرنے کا رواج نہیں تھا،صرف زبانی یاد کیا جاتا تھا۔ آپ نے احادیث کو کتابی صورت میں جمع نہیں کیا تو اس میں کیا عیب ہے؟ بلکہ اس سے تو آپ کی شان سمجھ میں آتی ہے۔
فان مرتبتہ فی ھذا تشابہ المرتبۃ الصدیقیۃ فان کان ھذا طعنا کان ابوبکر الصدیق افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق مطعونا فانہ ایضا قلیل الروایۃ بالنسبۃ الی بقیۃ الصحابۃ حاشا ھم حاشا ھم عن ھذہ الوسمۃ۔
حضرت امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ قلیل روایت ہونے میں مرتبہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کے مرتبہ کے مشابہ ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ ابنیاء کرام کے بعد تمام انسانوں میں افضل ہیں لیکن آپ کی روایات باقی صحابہ کرام سے کم ہیں ۔ معاذ اللّٰہ ! اس وجہ سے کیا ممکن ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کی شان میں طعنہ زنی کی جائے؟
آج کل کے دور میں مذہبِ حنفی کے کثیر پیروکار دیکھ کر کچھ لوگ جل رہے ہیں ۔ تحقیق کے میدان میں مقابلہ کرنے کی تو ان جہلاء میں ہمت نہیں بلکہ فقہ حنفی کی کتب کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں صرف جاہل لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانا ان کا کام ہے۔ حنفی حضرات کو باطل مذہب والوں سے بچانے کے لیے پیر طریقت راہبر شریعت حضرت علامہ پیر سید الشاہ تراب الحق قادری مدظلہ العالی نے سیدنا امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے مناقب میں یہ کتاب تصنیف کر کے احسان عظیم فرمایا۔
آپ کا ارشاد فرمایا ہوا یہ جملہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے،
’’میں نے خیال کیا ، کوئی مانے یا نہ مانے، کم از کم اپنا تو کوئی نہ بھاگے‘‘۔

