Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 11 of 168

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے مناقبِ جمیلہ اور خصالِ حمیدہ اور اوصافِ جلیلہ اتنے کثیر ہیں کہ انسان کی عقل ان کے ادراک سے قاصر اور زبان ان کے بیان سے عاجز ہے۔

آپ کے مناقب میں متفرق مذاہب کے علماء نے کتب تصنیف کی ہیں ، ’’ولم یطعن علیہ الا ذوتعصب وافراد جھالۃ مبنیۃ‘‘۔ اور آپ کی شان میں کسی نے طعنہ زنی نہیں کی سوائے متعصب لوگوں اور جہلاء کے۔

شافعی مسلک کے جن علماء محدثین نے آپ کی شان میں کتب تصنیف کی ہیں ان میں سے مشہور حضرات یہ ہیں ۔

٭علامہ سیوطی نے ’’تبییض الصحیفہ فی مناقب امام ابی حنیفۃ‘‘ تصنیف فرمائی۔

٭علامہ ابن حجرمکی نے ’’الخیرات الحسان فی مناقب النعمان‘‘ تصنیف فرمائی۔

٭علامہ ذہبی نے امامِ اعظم کا ذکر’’ تذکرۃ الحفاظ‘‘ اور’’ کاشف‘‘ میں کیا اور ایک مستقل رسالہ بھی آپ کے مناقب میں تحریر کیا۔

٭ابن خلکان نے اپنی تاریخ میں آپ کا تذکرہ کیا ہے، ٭علامہ یافعی نے اپنی تصنیف ’’مرأۃ الجنان‘‘ میں آپ کے مناقب کا ذکر کیا ہے

٭اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے تقریب وغیرہ میں آپ کا ذکر کیا ہے اور آپ کی تعریف فرمائی ہے۔

٭علامہ نووی شارح مسلم نے اپنی تصنیف ’’تہذیب الاسماء واللغات‘‘ میں امامِ اعظم کی تعریف بیان فرمائی ،

٭اور امام غزالی نے احیاء العلوم وغیرہ میں آپ کی توصیف بیان فرمائی۔

٭مالکی مسلک کے مشہور امام اور محدث ابن عبدالبر وغیرہ نے آپ کے مناقب ذکر فرمائے ۔

٭ حنبلی مسلک کے یوسف بن عبدالہادی الحنبلی نے کتاب ’’تنویر الصحیفہ فی مناقب ابی حنیفہ ‘‘تصنیف فرمائی۔رحمۃ اللّٰہ علیہم اجمعین سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کا تابعی ہونا ثابت ہے۔

جس زمانہ کے خیرہونے کے متعلق نبی کریم نے خود ذکر فرمایا،

’’ خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم‘‘۔

سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر جو اس کے بعد ہے پھر وہ جو اس کے بعد ہے۔

امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کے ساتھ تعصب پر مبنی رویہ کی مذمت حافظ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللّٰہ نے ان الفاظ میں کی ہے،

’’حاصلہ انہ افرط بعض اصحاب الحدیث فی ذم ابی حنیفۃ و تجاوز الحد‘‘۔

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ حدیث نے امامِ اعظم کی مذمت میں حد سے تجاوز کیا ہے۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ آپ کی شان میں تجاوز کرنے والوں کو اعتراض سوجھا تو فقط اس بات پر کہ آپ مسائل میں قیاس کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا ، کیا امام مالک رحمہ اللّٰہ نے کوئی اجتہاد نہیں کیا، کوئی مسئلہ قیاس سے نہیں بتایا؟ اس پر وہ لوگ لاجواب ہو گئے۔

’’وقال اللیث بن سعد أحصیت علی مالک سبعین مسئلۃ قال فیھا برأیہ‘‘۔

لیث بن سعد رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں ، میں نے ستر مسائل وہ دیکھے ہیں جن میں امام مالک رحمہ اللّٰہ نے اپنی رائے اور اجتہاد سے مسئلہ بیان کیا ہے۔

حافظ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللّٰہ نے نہایت منصفانہ کلام فرمایا۔

’’وقد جاء عن الصحابۃ اجتہادہ بالرائی والقیاس علی الاصول وکذلک التابعون‘‘۔

صحابہ کرام اور تابعین نے جب اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے رائے اور قیاس سے اجتہاد کر کے مسائل کا استنباط کیا ہے تو امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ پر اعتراض کیوں کر کیا جاسکتا ہے؟

امام علی بن مدینی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں ،

امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ سے روایت کرنے والے سب ثقہ حضرات ہیں جیسا کہ امام ثوری، ابن مبارک، حماد بن زید، ہشام، وکیع، عباد بن عوام،اور جعفر بن عون آپ سے روایت کرنے والے ہیں ۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

Share:
keyboard_arrow_up