Hajj Book

Total Pages: 10

Page 9 of 10

يَا وَزِيرَىْ رَسُولِ اللهِ اَسْئلُكُمَا الشَّفَاعَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ

 

پھر دوبارہ آقا کے چہرہ اقدس کے سامنے کھڑے ہو کر درود و سلام عرض کریں اور خوب دعائیں مانگیں۔

 

علماء کے نزدیک قبر اطہر اور زمین کا وہ حصہ جو سرکار دو عالم  کے جسم اقدس سے لگا ہوا ہے وہ تمام زمین و آسمان حتی کہ کعبہ و عرش و کرسی سے بھی افضل ہے۔

 

فقہاء و محدثین کرام نے لکھا ہے،

 

يقف كما يقف في الصلوة

یعنی حضور کے سامنے ایسا کھڑا ہو جیسا نماز میں کھڑا ہو۔

اگر بعض نا سمجھ منع کریں اور آقا و مولیٰ کی طرف سے منہ موڑنے کو کہیں تب بھی محبوب خدا کی طرف سے ہرگز منہ نہ موڑیں اگرچہ دونوں ہاتھ چھوڑ کر حالت قیام کی طرح مؤدبانہ کھڑے رہیں۔

 

صحابہ و تابعین رضی اللّٰہ عنہ جب روضہ اقدس پر حاضر ہوتے:

تو قبلے کی طرف پیٹھ کر کے منہ آقا کی طرف کرتے۔

 

ارشاد قرآنی ہے:

فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ

’’تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ الله (اللّٰہ کی رحمت) ہے‘‘۔

 

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے تو ایسے انہماک سے مودب کھڑے ہوتے کہ دیکھنے والوں کو شبہ ہو جاتا ، کہ وہ شاید نماز پڑھ رہے ہیں۔

 

مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ علیہ  نے آداب زیارت میں یہ بھی تحریر فرمایا،

 

خبردار! جالی شریف کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ یہ خلاف ادب ہے بلکہ چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاؤ۔ یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کو اپنے حضور بلایا، اپنے مواجہہ اقدس میں جگہ بخشی، ان کی نگاہ کرم اگرچہ ہر جگہ تمہاری طرف تھی، اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے۔ (بہار شریعت ، انور البشارة )

بارگاہ نبوی کے ادب کا خیال رکھو، یہ وہ عظیم بارگاہ ہے جہاں آواز بلند کرنے سے تمام اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگ باب بقیع کے قریب ہی موبائل فون پر اونچی آواز میں باتیں کرتے ہیں جو کہ سخت بے ادبی ہے۔

 

مسجد نبوی میں ایک متبرک جگہ ریاض الجنة ہے جس کے متعلق آقا و مولی کا ارشاد گرامی ہے،

 

میری قبر اور میرے منبر کی درمیانی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ۔

 

رياض الجنۃ میں محراب نبوی میں بلکہ مسجد نبوی کے ہر ستون کے پاس جس قدر ہوسکے نوافل ادا کریں۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ایک سانس بھی بیکار نہ جانے دو۔ ضروریات کے سوا زیادہ سے زیادہ وقت مسجد نبوی میں نماز و تلاوت اور درود و سلام میں گزارو۔

 

شہر میں خواہ شہر سے باہر جہاں کہیں گنبد مبارک پر نظر پڑے فوراً ادھر منہ کر کے درود و سلام عرض کرو ۔ بے اس کے ہرگز نہ گز رو کہ خلافِ ادب ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ رسول کریم نے فرمایا ،

میری مسجد میں جس کی چالیس نمازیں فوت نہ ہوں، اس کے لئے نفاق سے آزادی لکھی جاتی ہے۔

 

حدیث پاک میں ہے کہ:

مسجد قباء میں دو رکعت نفل کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے۔

 

جنت البقیع کی زیارت کریں او ر دعا مانگیں ۔ یہاں سیدنا عباس ، سیدنا عثمان، ازواج و بناتِ رسول ، سیدنا ابراهیم بن رسول سیدنا حسن اور کثیر صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ  آرام فرما ہیں۔

 

خصوصاً سیدنا امیرحمزہ رضی اللّٰہ عنہ  قبولیت دعا کے لئے اکسیر ہے۔ شہدائے احد کی بھی زیارت کریں اور وہاں دعا مانگیں۔

 

الوداعی حاضری:

جب مدینہ طیبہ سے واپسی کا ارادہ ہو تو مسجد نبوی میں دو نفل پڑھ کر مواجہہ اقدس میں حاضر ہوں اور آقا ومولیٰ کی بارگاہِ بیکس پناہ میں درود و سلام پیش کر کے یوں عرض کریں:

 

اے اللّٰہ تعالیٰ کے رسول میرے آقا و مولی ! میں آپ سے شفاعت و رحمت کا طالب ہوں۔ میرے آقا! میری اس حاضری کو آخری حاضری نہ بنائیے گا بلکہ میرے لئے یہاں دوبارہ حاضر ہونا آسان بنادیجئے گا۔ میرے آقا! کرم کیجیے کہ مجھے، میرے والدین، میرے اہل و عیال اور عزیز و اقارب کو رحمت و مغفرت صحت و تندرستی اور سکون سلامتی نصیب ہو اور یہ گناہگار دوبارہ آپ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف پائے پھر حضور کی محبت و جدائی میں رنجیدہ ہوں اور ہو سکے تو آنسو بہائیں اور یہ عرض کریں:

Share:
keyboard_arrow_up