زیارت کے وقت مندرجہ ذیل آداب کا خیال رکھنا چاہئے۔
حاضری کے وقت خالص زیارت اقدس کی نیت کریں یہاں تک کہ مسجد شریف کی نیت بھی شریک نہ کریں۔
راستے بھر درود و سلام کی کثرت کریں اور جس قدر مدینہ طیبہ قریب آتا جائے، ذوق و شوق زیادہ ہوتا جائے۔
جب حرم مدینہ نظر آئے تو بہتر یہ ہے کہ پیدل ہو جائیں، سر جھکائے آنکھیں نیچی کئے درود و سلام کی کثرت کریں اور ہو سکے تو ننگے پاؤں چلیں۔ حاضری سے قبل تمام ضروریات سے جلد فارغ ہو جائیں تاکہ بوقت حاضری دل انکے خیال میں نہ الجھے۔
مسواک اور وضو کریں اور غسل کر سکیں تو بہتر ہے۔ پھر بہترین سفید کپڑے پہنیں، سرمہ اور خوشبو بھی لگائیں۔
پہلے مسجد نبوی شریف میں داخل ہو کر دو رکعت تحیۃ المسجد اور پھر دو رکعت ادائے شکر کے لئے پڑھیں کہ رب کریم نے اپنے حبیب لبیب ﷺ کے در اقدس پر پہنچا دیا۔ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ ، پاؤں، دل سب خیالِ غیر سے پاک کرکے خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہ اقدس کی طرف چلیں۔
کمال ادب میں ڈوبے ہوئے ، گردن جھکائے ، آنکھیں نیچی کئے لرزتے کانپتے، گناہوں کی ندامت سے پسینہ پسینہ ہوتے حضور پُر نور ﷺ کے عفو و کرم کی امید رکھتے، حضور ﷺ کے پاؤں مبارک کی سمت سے یعنی بابِ بقیع سے مواجہہ اقدس میں حاضر ہوں ۔
(آج کل زائرین کو باب السلام سے حاضری کا موقع دیا جاتا ہے)۔ سنہری جالی مبارک میں چہرہ انور کے مقابل ایک چاندی کی کیل لگی ہوئی ہے، اسکے سامنے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر قبلہ کو پیٹھ اور مزارِ پُر انوار کو منہ کرکے نماز کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے ہوں۔
پھر نہایت ادب و خشوع سے آقا و مولی ﷺ کی خدمت اقدس میں سلام عرض کریں۔
السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه الصَّلٰوةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِى يَا رَسُولَ اللهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِي يَا حَبِيبَ اللهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِى يَا خَيْرَ خَلْقِ اللهِ اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدِى يَا شَفِيْعَ الْمُذْنِبِين
اگر کسی نے بارگاہ نبوی میں سلام عرض کرنے کو کہا ہے تو اس کی طرف سے بھی سلام عرض کریں۔ پھر اپنے لئے ، اپنے والدین ، اولاد، عزیزوں ، دوستوں اور سب مسلمانوں کے لئے حضور ﷺ سے شفاعت مانگیں۔
اَسْئَلُكَ الشَّفَاعَةَ يَا رَسُولَ الله ﷺ
میرے آقا میں آپ سے شفاعت کا طلب گار ہوں۔
مجرم بلائے آئے ہیں جاؤُکَ ہے گواہ
پھر رد ہوں کب یہ شان کریموں کے در کی ہے
تجھ سے چھپاؤں منہ تو کروں کس کے سامنے
کیا اور بھی کسی سے توقع نظر کی ہے
پھر اپنے دائیں طرف ایک ہاتھ ہٹ کر سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں سلام عرض کریں،
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَزِيرَ رَسُولِ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه
پھر مزید ایک ہاتھ دائیں طرف ہٹ کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں سلام عرض کریں ۔
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِين ۔السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا عِزَّ لْإِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِينَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهٗ
پھر بالشت بھر بائیں طرف ہٹ کر سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللّٰہ عنہما کے درمیان کھڑے ہو کر دونوں پر سلام عرض کریں اور شفاعت کی درخواست کریں۔
السَّلَامُ عَلَيْكُمَا يَا خَلِيفَتَىْ رَسُولِ اللهِ السَّلامُ عَلَيْكُمَا

