جب رکن عراقی کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھیں !
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الشَّکِّ وَالشِّرْكِ وَالشَّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْاهْلِ وَالْوَلَدِ
جب میزاب رحمت کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھیں !
اللّٰهُمَّ أَظِلَّنِي تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِكَ يَوْمَ لَا ظِلِّ إِلَّا ظِلُّكَ وَلَا بَاقِيَ إِلَّا وَجْهُكَ وَاسْقِنِي مِنْ حَوْضِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمُ شَرْبَةً هَنِيئَةً لَّا أَظْمَاُ بَعْدَهَا أَبَدًا
جب رکن شامی کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے!
اللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ حَجَاً مَّبْرُورًا وَسَعْياً مَّشْكُورًا و ذَنْباً مَّغْفُورًا وَّتِجَارَةً لَّنْ تَبُورَيَا عَالِمَ مَافِي الصُّدُورِ أَخْرِجْنِي مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ
روضہ رسول ﷺ پر حاضری:
رب تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں رسول کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے،
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا
اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب ( ﷺ)!تمہارے حضور حاضر ہوں پھر اللّٰہ سے معافی چاہیں اور رسول بھی انکی شفاعت فرمائے تو ضرور اللّٰہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
روضہ اقدس پر حاضری کے متعلق چند احادیث:
آقا و مولیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا!
۱۔ جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔
۲۔ جس نے میری حیات ظاہری کے بعد حج کیا اور پھر میری زیارت کی گویا اس نے میری حیات ظاہری میں میری زیارت کی۔
۳۔ جو سفر کر کے میری زیارت کو آیا، وہ قیامت میں میرا پڑوسی ہوگا اور جو مدینہ شریف میں یہاں کی مشکلات پر صبر کریگا، میں قیامت میں اس کا شفیع اور گواہ ہوں گا۔
۴۔ جس نے حج کیا پھر میری مسجد آکر میری زیارت کی اس کے لئے دو مقبول حج لکھ دئے گئے۔
۵۔ جس نے میری زیارت کا ارادہ کیا پھر میری زیارت کو آیا،وہ قیامت کے دن میری پناہ میں ہو گا۔
ان احادیث مبارکہ کو ذہن نشین کرتے ہوئے اپنے آقا و مولی ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کے ارادے سے سفر شروع کیجئے ۔ راستے میں درود و سلام زبان پر جاری رہے اور دل عشق رسول ﷺ کی کیفیت سے سرشار ہو ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے یہ اشعار بھی کیف و سرور پیدا کرنے میں معاون ہوں گے ۔
حاجیو آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبہ کا کعبہ دیکھو
آبِ زمزم تو پیا خوب بجھائیں پیاسیں
آؤ جودِ شہ کوثر کا بھی دریا دیکھو
رکن شامی سے مٹی وحشتِ شامِ غربت
اب مدینہ کو چلو صبح دل آرا دیکھو
دھوم دیکھی ہے درِ کعبہ پہ بیتابوں کی
اُن کے مشتاقوں میں حسرت کا تر پنا دیکھو
واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایایاں
سیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو
خوب آنکھوں سے لگایا ہے غلاف کعبہ
قصر محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو
غور سے سن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے مرے پیارے کا روضہ دیکھو
حاضری کے آداب:
امام مالک رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
یہ کہنا مکروہ ہے کہ ہم نے حضور ﷺکی قبر مبارک کی زیارت کی بلکہ بارگاہ خیر الانام میں حاضری دینے والوں کو یہ کہنا چاہئے کہ ہم نے بارگاہ نبوی ﷺ کی زیارت کی۔
علماء فرماتے ہیں،
آقائے دو جہاں ﷺ کے ادب و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں حاضری کو بارگاہِ نبوی میں حاضری کہا جائےکیونکہ زائر اس مقدس ذات گرامی ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہے جو اسے دیکھتے ہیں ، اسکا کلام سنتے ہیں ، اسکے سلام کا جواب دیتے ہیں اور اسے خوب جانتے پہچانتے ہیں۔

