مسجد عائشہ سے عمرہ:
مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران جب چاہیں، تنعیم نامی جگہ واقع مسجد عائشہ چلے جائیں اور وہاں دو نفل پڑھ کر عمرہ کی نیت کر کے مسجد حرام میں آجائیں پھر اوپر تحریر شدہ طریقے کے مطابق عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیں۔
حج کا بیان
۱۔ آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھ کر نیت کرنا شرط ہے
۲۔ وقوف عرفات رکن ہے۔
۳۔ وقوف مزدلفہ واجب ہے۔
۴۔ رمی جمار (شیطان کو کنکریاں مارنا) واجب ہے۔
۵۔ قربانی (قارن اور متمتع پر) واجب ہے۔
۶۔ سر منڈانا یا کترانا واجب ہے۔
۷۔ طوافِ زیارت رُکن ہے۔
۸۔ سعی واجب ہے۔
۹۔ طوافِ وداع واجب ہے۔
نوٹ : طوافِ و داع اہل مکہ، اہل حِل اور اہل میقات پر واجب نہیں، یہ طواف صرف حج کرنے والے آفاقی پر واجب ہے نہ کہ عمرہ کرنے والے پر۔
طواف وداع کے وقت عورت اگر حیض و نفاس والی ہو تو بغیر طواف کے وطن روانہ ہوسکتی ہے۔
احکام:
۱۔ شرط کے چھوٹنے سےحج نہیں ہوگا،
۲۔ رکن کے چھوٹنے سےحج نہیں ہوگا،
۳۔ واجب کے چھوٹنے سے دم اور کبھی صدقہ لازم آئے گا اگر کوئی واجب غلطی سے یا قصداً رہ جائے تو دم لازم آئے گا یعنی ایک بکرا یا دنبہ حدود حرم میں ذبح کرنا ہوگا۔ اگر چھوٹے ہوئے واجب کو وقت مقررہ میں ادا کر دیا جائے تو دم ساقط ہو جائے گا۔
حج ان خاص افعال کا نام ہے جو مخصوص اوقات میں مقررہ دنوں میں حج کی نیت سے احرام کی حالت میں ادا کئے جاتے ہیں ۔
ان افعال میں مِنٰی میں قیام، وقوف عرفات ، وقوف مزدلفہ ، رمئِ جمرات ، ہَدِی یعنی قربانی حلق یا قصر، طواف زیارت ، سعی اور طوافِ وداع شامل ہیں۔
صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللّٰہ حج وعمرہ کے سفر کے آداب میں لکھتے ہیں،
جس کا قرض لیا ہو یا امانت پاس ہو ادا کر دے، جن کے مال ناحق لئے ہوں واپس کر دے، اگر پتہ نہ چلے تو اتنا مال فقیروں کو دیدے۔
جس کی بے اجازت سفر مکروہ ہے جیسے ماں باپ، شوہر، انہیں رضا مند کرے۔
اس سفر سے مقصود صرف اللّٰہ اور رسول ﷺ ہوں، رِیا، شہرت اور فخر و غرور سے جدارہے۔
عورت کے ساتھ جب تک شوہر یا مِحرَم بالغ قابل اطمینان نہ ہو جس سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے، سفر حرام ہے، اگر کرے گی تو حج ہو جائے گا مگر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔
توشہ یعنی خرچ مالِ حلال سے لے ورنہ قبول حج کی امید نہیں۔
حج کے فضائل، احادیث میں:
نبی کریم ﷺنے فرمایا،
جس نے حج کیا اور نہ فحش کلام کیا اور نہ فسق کیا تو گناہوں سے پاک ہو کر ایسے واپس ہوا جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔
آقا و مولیٰ ﷺکا ارشاد ہے،
عمرہ سے عمرہ تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو درمیان میں ہوئے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔
آپ ﷺکا فرمان ہے،
رمضان میں عمرہ میرے ساتھ حج کے برابر ہے۔
یہ بھی فرمایا ،
حج کرنے والے اللّٰہ کے مہمان ہیں، اللّٰہ نے انہیں بلایا وہ حاضر ہوئے ، انہوں نے مانگا اس نے عطا کیا۔
آپ ﷺکا ارشاد ہے،
حاجی اپنے گھر والوں میں سے چارسو کی شفاعت کرے گا اور گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے گا جیسا اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔
یہ بھی فرمایا ،
حاجی کی مغفرت ہو جاتی ہے اور حاجی جس کے لئے استغفار کرے اس کی بھی۔
یہ بھی فرمایا ،
جسے حج کرنے سے نہ کسی حاجت نے روکا ، نہ ظالم حاکم نے اور نہ کسی شدید مرض نے، اور وہ حج کئے بغیر مر گیا، تو وہ چاہے یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر ۔
حج کی اقسام:
حج کی تین قسمیں ہیں۔
1۔ افراد، 2۔ قراَن اور تمتع ۔ 3۔ حجِ افراد:
افراد کے معنی اکیلے یا تنہا کے ہیں ۔ شرعی اصطلاح میں صرف حج کی نیت سے احرام باندھ کر حج کے افعال ادا کرنا اور عمرہ ساتھ نہ ملانا حجِ افراد کہلاتا ہے۔ ایسے حاجی کو مُفِرد کہتے ہیں، اس پر قربانی واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔

