پھر مرد آواز سے اور عورتیں آہستہ تین بار تلبیہ پڑھیں۔
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ
میں حاضر ہوں، اے اللّٰہ ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ۔ بیشک سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اور سب نعمتیں تیری ہی عطا کردہ ہیں اور بادشاہی تیرے ہی لئے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔
پھر درود شریف پڑھ کر دعا مانگیں۔ میقات پر یا اس سے قبل احرام کی نیت ضروری ہے۔ نیت اور تلبیہ پڑھنے سے احرام کی پابندیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ (احرام کے مسائل آگے تحریر ہیں)
۴۔ حرم شریف میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں اندر رکھیں اور مسجد میں جانے کی دعا پڑھ کر اعتکاف کی نیت کر لیں۔
۵۔ نظریں نیچی رکھتے ہوئے چلیں اور جب خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑھے تو ٹھہر جائیں اور کعبہ شریف پر نظر جمائے رکھیں اور تین بار لَا اِلَہَ اِلَّاللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ کہیں پھر درود پڑھ کر دعا مانگیں۔ پہلی نظر میں جو دعا کی جائے، قبول ہوتی ہے۔ یہ دعا بہتر ہے کہ ‘‘مولیٰ ! میں جو دعائیں مانگوں وہ سب قبول فرما۔‘‘
۶۔ حجر اسود کی سیدھ میں پہنچ کر تلبیہ پڑھنا بند کر دیں اور مرد اضطباع کریں یعنی احرام کی اوپر والی چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیں ۔ پھر طواف کی نیت کریں خیال رہے حجر اسود کی سیدھ میں دائیں طرف مسجد کی دیوار پر سبز ٹیوب لائٹ ہر وقت روشن رہتی ہے
۷۔ اب حجر اسود کی سیدھ میں اس طرح کھڑے ہوں کہ آپ کا سینہ حجر اسود کی طرف ہو۔ پھربِسْمِ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ وَاللهُ أَكْبَرُ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ پڑھ کر استلام کریں یعنی دونوں ہاتھ اٹھا کر حجر اسود کی طرف چھونے کا اشارہ کر کے انہیں چوم لیں۔ پھر اسی جگہ کھڑے کھڑے دائیں طرف مڑ جائیں اور طواف شروع کر دیں۔
۸۔ طواف کے پہلے تین پھیروں میں صرف مرد حضرات رمل کریں یعنی اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوئے تیزی سے چلیں۔ ہر وہ طواف جس کے بعد سعی کرنی ہو، اس میں رمل ضروری ہے۔
۹۔ پورے طواف میں با وضو رہنا ضروری ہے خواہ طواف نفلی ہو۔ دورانِ طواف وضو ٹوٹ جائے تو اگر چار پھیروں سے کم کئے ہوں تو جہاں سے چھوڑا وہیں سے شروع کریں یا چاہیں تو نئے سرے سے شروع کریں۔ اگر چار سے زائد چکر کر لئے تو اب جہاں سے چھوڑا تھا، وہیں سے طواف کرنا ہوگا۔
۱۰۔ دوران طواف، دیکھ کر دعائیں پڑھنے کے بجائے درود شریف ، تیسرا کلمہ استغفار اور کوئی بھی مسنون دعا پڑھتےرہیں۔ نیز اپنی زبان میں بھی جو دعائیں مانگنا چاہیں، مانگتے رہئے۔ رکن یمانی سے حجر اسود تک
رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ
پڑھیے یہاں دعا پر اٰمین کہنے کیلئے ستر ہزار فرشتے مقرر ہیں رکنِ یمانی کی طرف نہ اشارہ کریں نہ اپنے ہاتھ چو میں۔
۱۱۔ طواف کے دوران ہر بار جب حجر اسود کی سیدھ میں پہنچیں تو پاؤں موڑے بغیر صرف سینہ اور منہ حجر اسود کی طرف کریں اور استلام کریں۔ سات چکر پورے کر کے آٹھویں بار استلام کریں۔ دورانِ طواف کہیں ٹھہر نا نہیں چاہئے۔
۱۲۔ پھر دونوں شانے ڈھانپ کر مقام ابراہیم سے قریب ترکسی بھی جگہ
وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى
پڑھ کر دو رکعت نماز طواف ادا کریں۔ اگر مکروہ وقت ہو تو بعد میں نماز ادا کی جائے، یہ نماز طواف کے واجبات سے ہے۔
اذان فجر سے طلوع آفتاب تک، ظہر سے قبل ضحوہ کبریٰ کا وقت اور نمازِ عصر سے غروب آفتاب تک نفل کیلئے مکروہ وقت ہے۔

