Hajj Book

Total Pages: 10

Page 1 of 10

حج و عمرہ طریقہ مع ضروری مسائل

علامہ سیّد شاہ تراب الحق قادری علیہ الرحمہ 

مکتبہ انوار القرآن

عزم نو پبلشرز

پیش لفظ

الحمد لك يا الله والصلوة والسلام علیک یا رسول الله

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًاؕ-وَ  مَنْ  كَفَرَ  فَاِنَّ  اللّٰهَ  غَنِیٌّ  عَنِ  الْعٰلَمِیْنَ

ترجمہ: اور اللّٰہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ، اور جو منکر ہو تو اللّٰہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے۔

فرمان الہی ہے:

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِؕ ۔

حج اور عمرہ کو اللّٰہ کے لئے پورا کرو۔

حج ایک عظیم الشان عبادت ہے جو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے اور عمرہ کرنا ہمارے آقا و مولی اور صحابہ کرام کی سنت مبارکہ ہے۔

 

رسول کریم کا ارشاد ہے،

حج اور عمرہ کیا کرو، یہ محتاجی اور گناہوں کو ایسا دور کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے ، چاندی اور سونے کے میل کو دور کرتی ہے۔

بہت خوش نصیب ہیں وہ جو عمرہ یا حج کی سعادت پاتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے بیت اللّٰہ شریف اور گنبد خضرا کا روح پرور نظارہ کرتے ہیں۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ عمرہ و حج کو صحیح طریقہ سے ادا کیا جائے اور اس مقدس سفر کے ہر ہر لمحہ کو قیمتی سمجھ کر رب تعالیٰ اور رسول کریم کی رضا میں بسر کیا جائے۔ کوشش کیجئے کہ جب آنکھ اُٹھے خانہ کعبہ کا دیدار ہو یا گنبد خضراء کا جلوہ پیش نظر رہے۔

 

آقا و مولی کا ارشاد ہے کہ رب تعالیٰ نے فرمایا:

ہر زیارت کرنے والے کا اُس پر حق ہے جسکی زیارت کو جائے۔ میرے گھر کی زیارت کرنے والوں کا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں دنیا میں انہیں عافیت دوں گا اور جب مجھ سے ملیں گے تو ان کی مغفرت فرمادوں گا۔

حج و عمرہ کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ہم گناہگار ان مقدس مقامات پر جا کر دعا مانگیں جہاں رب تعالیٰ نے جلیل القدر انبیاء علیہم السلام پر خاص نعمتیں اور رحمتیں نازل فرمائی ہیں، تاکہ انکے صدقے میں ہم گناہگار بھی نوازے جائیں۔

 

استاذی و مرشدی قبلہ شاہ صاحب حفظہ اللّٰہ کی تالیف ” حج و عمرہ ، مختصر مگر جامع ہے۔ عازمین حرمین پڑھیں اور عمل کریں۔نیز مؤلف،مرتب اور معاونین کو بھی دعائے خیر میں یاد رکھیں ۔

محمد آصف قادری

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم الصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم

‘‘عمرہ‘‘

احرام ۔۔۔۔۔۔شرط ہے۔

طواف ۔۔۔۔۔۔۔رکن ہے۔

سعی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واجب ہے۔

بال منڈوانا یا کتروانا ۔۔۔۔۔واجب ہے۔

عمرہ کا طریقہ

۱۔ بغل کے اور زیر ناف بال صاف کریں اور ناخن کاٹ لیں۔ پھر وضو اور غسل کر کے جسم پر اور احرام پر خوشبو لگا لیں ۔

۲۔ مرد حضرات دو بغیر سلی چادریں لیں۔ ایک چادر بطور تہبند ناف کے اوپر باندھ لیں کہ ٹخنے ظاہر رہیں اور دوسری چادر اس طرح اوڑھ لیں کہ دونوں کندھے ڈھک جائیں۔ اگر مکروہ وقت نہ ہو تو سر ڈھانپ کر دو رکعت نماز احرام کی نیت سے پڑھیں۔ گھر ہی سے احرام باندھنا بہتر ہے اگر چہ نیت ائیرپورٹ (AIRPORT)پر یا جہاز میں سوار ہو کر بھی کی جاسکتی ہے۔

۳۔ مرد اپنے سر سے کپڑا ہٹا کر عمرہ کی نیت کریں۔

 

اَللّٰهُمَّ اِ نِّیْۤ اُرِيْدُ الْعُمْرَةَ فَيَسِّرْ هَا لِیْ وَ تَقَبَّلْهَا مِنِّیْ وَ اَعِنِّیْ عَلَيْهَا وَ بَارِكْ لِیْ فِيْه

اے اللّٰہ ! میں عمرہ کا ارادہ کرتا ہوں ۔ اسے میرے لئے آسان کردے اور اسے میری طرف سے قبول فرما۔ اس کے ادا کرنے میں میری مدد فرما اور اسے میرے لئے بابرکت بنا۔

Share:
Next →
keyboard_arrow_up