Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 99 of 134
یہ حدیث صحیح بخاری میں اس کے علاوہ سات جگہ وارد ہے اور حدیثِ قرطاس کے عنوان سے مشہور ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وصال سے چار دن قبل نبی کریم ﷺ نے کچھ لکھنے کے لئے حاضرین سے قلم دوات منگوایا ۔ آپ کے مرض کی شدت کے پیش نظر حضرت عمر ص نے فرمایا،’’ ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘۔ اس پر اختلاف ہوا ،کچھ کہتے تھے کہ لکھنے کا سامان لاؤ اور کچھ کہتے تھے کہ نہ لاؤ ۔ ان کی باہم تکرار کو حضور ﷺ نے پسند نہیں فرمایا اور ارشاد فرمایا،’’ میرے پاس سے اٹھ جاؤ‘‘۔
اس حدیث کی بناء پر روافض اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عمر ص نے حضور اکرم ﷺ کا حکم نہ مان کر وحیٔ خدا کو رد کر دیا۔ (معا ذاللہ)
اس اعتراض کے جواب میں چند باتیں مندرجہ ذیل ہیں ۔
1۔ شارح بخاری علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مسند امام احمد میں ہے کہ یہ خطاب عام لوگوں سے نہ تھا بلکہ خاص حضرت علیص سے فرمایا تھا کہ لکھنے کا سامان لاؤ۔ ()
ایک روایت دوسری کی تفسیر ہوتی ہے۔ ثابت ہوا کہ ان روایات میں خطاب اگرچہ عام ہے مگر یہاں بھی مخاطب حضرت علی ص ہی ہیں اس لئے رسول اکرم ا کے اس ارشاد کی تعمیل حضرت علی ص کے ذمے تھی نہ کہ حضرت عمر ص کے۔
2۔ اگر کوئی بیمار بزرگ کسی مصلحت کے باعث مشقت برداشت کرنا چاہے تو اس کے عزیز و اقارب اور خدام اسے منع کر دیتے ہیں،یہ منع کرنا ادب اور شفقت و محبت ہی کے باعث ہوتا ہے۔حضرت عمر ص نے بھی حضور اکرم ﷺ کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے آپ کے آرام کی خاطر منع کیا جو یقیناً لائق تحسین ہے اس کی دلیل ان کے الفاظ ہیں، ’’اِنَّ النَّبِیَّ ﷺ غَلَبَہٗ الْوَجَعُ وَ عِنْدَنَا کِتَابُ اللہ حَسْبُنَا‘ ‘۔ نبی کریم ﷺ پر بیماری کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے جو ہمارے لئے کافی ہے ‘‘۔
3۔حضرت عمرص اپنی باطنی فراست اور قوت اجتہاد سے سمجھ گئے تھے کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد حکم کے طور پر نہیں اور حضور ﷺ اپنی تکلیف کے باجود محض کمالِ شفقت و رحمت سے تحریر لکھنا چاہتے ہیں اس لئے آپ نے صحابہ سے فرمایا ، حضور ﷺ کو زحمت نہ دو، ان پر بیماری کا غلبہ ہے ۔ محبت کی وجہ سے بعض امور سے انکا ر مستحسن و پسندیدہ ہے ۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ مشرکین نے صلح حدیبیہ کے موقع پر صلح نامے میں تحریر الفاظ ’’رسول اللہ ﷺ ‘ ‘ پر اعتراض کیا اور اس کے بجائے محمد بن عبداللہ لکھنے کا مطالبہ کیا ۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علیص کو حکم دیا کہ اس تحریر سے ’’رسول اللہ ﷺ ‘‘ کے الفاظ نکال دو ۔ حضرت علی صنے کہا،لَا اَمْحُوْکَ اَبَدًا۔’’ میں یہ الفاظ کبھی نہیں مٹاؤں گا‘‘۔یہاں تک کہ وہ الفاظ خود رسول کریم ﷺ نے مٹائے ۔
اس حدیث کی بناء پر کو ئی یہ کہے کہ حضرت علی صنے رسول کریم ﷺ کے حکم کو تسلیم نہیں کیا بلکہ انکار کیا لہٰذا انہوں نے رسول کا حکم نہ مان کر وحیٔ خدا کو رد کر دیا (معاذاللہ)تو ایسا شخص کم عقل ، گمراہ اور بد مذہب ہے ۔ حضرت علیص کا مقصد یہ تھا کہ جب میں آپ کو دل و جان سے رسول مانتا ہوں تو پھر میں اپنے ہاتھوں سے رسولُ اللہ کے الفاظ کیونکر مٹا سکتا ہوں ۔ حقیقت یہی ہے کہ جس طرح حضرت علیص نے رسول کریم ﷺ سے کامل محبت کی وجہ سے انکار کیا، اسی طرح حضرت عمر صنے بھی رسول کریم ﷺ سے کامل محبت اورہمدردی ہی کی بناء پر انکار کیا ۔
4۔ اگر مذکورہ ارشاد کو حکم مان لیا جائے تو جب حضرت عمرص نے عرض کیا ’’ ہمارے لئے کتابُ اللہ کافی ہے ‘‘ اور حضور ﷺ نے دوبارہ لکھنے کا سامان طلب نہیں فرمایا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عمرص کی بات مقبول ہو گئی اور اب وہ حکم باقی نہیں رہا ، ورنہ یقینا حضور ﷺ دوبارہ وہی ارشاد فرماتے۔
Share:
keyboard_arrow_up