روافض کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ حضرت عمر ص کے انکار کی وجہ سے دین کا ایک اہم حکم تحریر ہو نے سے رہ گیا ۔ اس کے جواب میں چند باتیں پیش ہیں:
(1)سرکار دو عالم ا جو لکھنا چاہتے تھے ان میں تین باتیں ممکن ہیں:
اول یہ کہ آپ جتنے احکام بیان فرما چکے تھے اس میں اضافہ فرمانا چاہتے تھے ۔
دوم یہ کہ سابقہ احکام کو منسوخ کرنا چاہتے تھے ۔
سوم یہ کہ سابقہ احکام ہی کی تاکید فرمانا چاہتے تھے ۔
چونکہ اس واقعہ سے تین ماہ قبل دین اسلام کی تکمیل کے حوالے سے یہ آیت نازل ہوچکی تھی ،
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً۔
یعنی ’’ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے دینِ اسلام کو پسند کیا ‘‘۔ ()
اب نیا حکم نازل ہونے سے یا کوئی پہلا حکم منسوخ ہونے سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی اس لئے پہلے دونوں احتمال تو ممکن ہی نہیں۔ یقینی بات یہ ہے کہ آپ سابقہ احکام ہی میں سے کسی کی تاکید فرمانا چاہتے تھے ۔ اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے حضرت عمر صنے ’’ عِنْدَنَا کِتٰبُ اللہ حَسْبُنَا‘‘ عرض کیا ۔
(2)۔صحیح بخاری کتاب الجہاد باب جوائز الوفود کی روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب لوگوں میں تکرار ہوئی تو سرکارِدوعالم انے فرمایا، ’’ مجھے چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو ‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور تم مجھے اپنے اختلافات طے کرنے کی طرف بلاتے ہو ، تم جاؤ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ پھر آپ نے زبانی تین باتوں کی وصیت فرمائی ۔
آپ نے فرمایا، ’’ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دینا ، وفود کو اسی طرح عطیات دینا جس طرح میں دیتا تھا ‘‘۔ تیسری وصیت راوی کو بھول گئی ۔
محدثین کرام نے بیان کیا ہے کہ تیسری وصیت یہ تھی کہ اسامہ کے لشکر کو لڑائی کے لئے بھیج دینا اور میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا ۔
اس حدیث سے معلوم ہو گیا کہ جو باتیں آپ لکھنا چاہتے تھے وہ آپ نے بیان فرما دیں ۔ یہ باتیں آپ پہلے بھی فرما چکے تھے ، اب دوبارہ فرماناتاکید کے طور پر تھا۔اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ لکھنے کا سامان منگوانے کا ارشاد حکم نہ تھا بلکہ مشورے کے طور پر تھا ورنہ آپ فرماتے، ضرور لاؤ۔ اگر آپ لکھنا ہی چاہتے تو آپ کو کون روک سکتا تھا۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضور ﷺ کی زبان وحیء الٰہی کی ترجمان ہے اس لئے جب لکھنے کا سامان کاغذ قلم لانے کو ارشاد فرمایا تو اسے موقوف کیوں کیا ۔ جواب یہ ہے کہ اگر حضور ﷺ کا لکھنے کا ارادہ فرمانا اللہ کی جانب سے تھا تو اس ارادے کا تبدیل فرمانا بھی یقینا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھا ۔ اس لئے حضور ﷺ نے جو لکھنا تھاوہ لکھنے کی بجائے زبانی ارشاد فرما دیا ۔
(3)۔ روافض کہتے ہیں کہ حضور ﷺ حضرت علیص کی خلافت لکھنا چاہتے تھے جو بعض صحابہ کرام نے لکھنے نہیں دی۔مگر اس دعوے کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ جبکہ ہم اہلسنت کہتے ہیں کہ آقا ومولیٰ احضرت ابوبکرص کی خلافت لکھنا چاہتے تھے اور اس کی دلیل صحیح مسلم کی یہ مشہور حدیث ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے اپنے مرض میں مجھ سے فرمایا،’’اپنے اباجان ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں۔ مجھے ڈر ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا کہ وہ میں ہوں جبکہ اﷲ تعالیٰ اور مسلمان نہیں مانیں گے مگر ابو بکر کو ‘‘۔ ()
Page 100 of 134

