Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 101 of 134
(4)۔ ان دلائل کے با وجود اگر کوئی یہ کہے کہ رسول کریم ﷺنے جو لکھنا تھا وہ حضرت عمرص کے ڈر سے زبانی بیان نہیں فرمایا (معاذاللہ )تو یہ شانِ رسالت میں کھلی گستاخی ہے ۔ نیز اس طرح لازم آئے گا کہ حضورِ اکرم ا نے دینی احکام امت تک نہیں پہنچائے ۔ پھر یہ بھی لازم آئے گا کہ مذکورہ آیت قرآ نی کے برخلاف دین مکمل نہ ہو سکا اور ناقص رہ گیا (معاذاللہ)۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کا ہے اس کے بعد چار دن حضور ﷺ ظاہری حیات کے ساتھ رہے اور اس دوران یقیناً اہلبیت اطہار کے ساتھ علیحدہ بھی رہے لیکن آپ نے پھر لکھنے کا ارادہ نہیں فرمایا اور نہ ہی زبانی کوئی وصیت فرمائی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جو وصیت لکھنا تھی وہ زبانی فرمادی اور آپ کو یہ اطمینان بھی ہو گیاکہ صحابہ کرام قرآن کریم اور آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا رہیں گے اس لیے مزید کچھ لکھ کر دینے کی ضرور ت ہی نہ رہی ۔
روافض کا ایک اعتراض یہ ہے کہ حضرت عمرص نے نبی کریم ﷺ کے کلام کو ہذیان سے تعبیر کر کے شان رسالت میں گستاخی کی ہے ۔ جواب میں دو باتیں عرض ہیں :
اول یہ کہ حضرت عمرص کی طرف ایسا بیان منسوب کرنا بہتان اور جھوٹ ہے۔ جس لفظ پر اعتراض ہے وہ حضرت عمر ص نے کہا ہی نہیں ۔ اس حوالے سے جتنی بھی روایتیں ہیں سب میں پہلے یہی ہے ، قاَلَ عُمَر یا قالَ یعنی’’ حضرت عمر نے کہا ‘‘،اور پھر دوسرے قول سے پہلے ہے ، قَالُوْا۔’’ لوگوں نے کہا یابعض نے کہا ‘‘۔ اگر یہ قول حضرت عمرص کا ہوتا تو ابن عباسص اس کوبھیقَالَ عُمَرکہہ کر بیان فرماتے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ جس لفظ پر اعتراض ہے وہ ’’ھَجَرَ‘‘ ہے اس کے مشہور معنی ہذیان کے ہیں یا چھوڑنے کے ۔ اگر بالفرض یہ لفظ کسی نے توہین کے لئے بولا تھا تو توہین کا لفظ سننے والے اور سن کر خاموش رہنے والے دونوں کافر ہو جاتے ہیں ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت علی شیرِ خدا ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عباس اور دیگرجید صحابہث کے سامنے گستاخی اور توہین کی گئی ہو اور یہ حضرات سن کر خاموش رہے ہوں ؟ ہرگز نہیں۔ ثابت ہوا کہ یہ لفظ توہین کے لئے نہیں تھا ۔
حدیث کے مطابق سیدنا عمرص نے فرمایا ، نبی کریم ﷺ شدید بیمار ہیں اس لئے ان کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں ،ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے جو ہمیں کافی ہے ۔ تو بعض صحابہ آپ کے ہمنوا ہو گئے اور بعض کہنے لگے کہ قلم دوات اور کاغذ لایا جائے تا کہ حضور ﷺ لکھ دیں ۔ انہی حضرات نے استفہامِ انکاری کے طور پر یہ کلام کیا ۔
امام نووی رحمہ اللہ شرح صحیح مسلم میں اس کی شرح میں لکھتے ہیں ،’’ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، حدیث میں اَھْجَرَ رَسُوْلُ اللہ ا جو صحیح مسلم وغیرہ میں آیا ہے وہ استفہام کے طور پر ہے۔یعنی جو لوگ اس کے قائل تھے کہ حضور ﷺ کے ارشاد پر عمل کر کے لکھنے کا سامان لایا جائے اور حضور ﷺ سے لکھوا لیا جائے ، وہ استفہام انکاری کے طور پر کہتے ہیں ، کیا نبی کریم ﷺ ہذیان میں مبتلا ہو سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ۔ لہٰذا جب آپ سے ہذیان سر زد نہیں ہو سکتا تو ہمیں آپ کے ارشاد پر عمل کر کے لکھوانا چاہئے ‘‘۔
اگر ھَجَرَ کے معنی چھوڑنے کے لئے جائیں تو مفہوم یہ ہو گا کہ جب حضور ﷺ نے کاغذقلم منگوایا تو حاضرین نے سمجھ لیا کہ یہ جدائی کی طرف اشارہ ہے وہ بے قرار ہو کر کہنے لگے ، ’ ’سرکار سے دریافت کرو، کیا حضور ﷺ نے ہمیں چھوڑ دیا کہ ایسا ارشاد فرما رہے ہیں‘‘۔ مستقبل قریب میں جس کا ظہور ہونا ہو، اسے ماضی سے تعبیر کرنا عام بات ہے اس لئے ماضی کا صیغہ استعمال ہو ا۔()
Share:
keyboard_arrow_up