Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 102 of 134
خلیفۂ بلا فصل کون؟
روافض کہتے ہیں کہ رسول کریم انے حضرت علیص کو اپنا وصی بنایا تھا یعنی یہ وصیت کی تھی کہ میرے بعد یہ خلیفہ ہونگے۔اس خودساختہ بات کی صحابہ کرام اور خود حضرت علیص نے بھی پُرزور تردید فرمائی۔عمدۃ القاری شرح بخاری میں ہے کہ سیدنا علی ص سے دریافت کیا گیا، کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کے لیے کوئی عہد فرمایا ہے جو دوسروں سے نہیں فرمایا ہے؟ فرمایا، نہیں،قسم ہے اُ س ذات کی جس نے دانہ پیدا کیااور بچہ تخلیق کیا! ہمارے پاس سوائے اللہ کی کتاب اور اس صحیفے کے کچھ نہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت جحیفہ ص نے پوچھا، اس صحیفہ میں کیا ہے؟ حضرت علی صنے فرمایا، دیت اور قیدیوں کے چھڑانے کے احکام اور یہ کہ کافر کے عوض مسلمان نہیں قتل کیا جائے گا۔
اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوگوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ حضرت علیص وصی تھے؟ ام المؤمنین نے فرمایا، حضور ﷺ نے کب اُن کے بارے میں وصیت کی؟میں حضور ﷺ کو اپنے سینے سے سہارا دیے ہوئے تھی۔ حضور ﷺ نے پانی کاطشت طلب فرمایا اور میری گود ہی میں وصال فرما گئے۔ پس حضور ﷺ نے کب اُن کے بارے میں وصیت کی۔ ()
خلاصہ یہ ہے کہ آقا ومولیٰ انے حضرت علی صکے بارے میں کوئی وصیت نہیں فرمائی۔اس کی تائید میں ایک اور اہم دلیل ملاحظہ فرمائیے۔
حضرت علی ص کا ارشاد ہے، قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیاہے! اگر رسول کریم نے میرے لیے کوئی عہد کیا ہوتا (کہ خلافت مجھے ملے گی) تو خواہ میرے پاس اس چادر کے سوا کچھ نہ ہوتا ، میں اس کے لیے ضرور کوشش کرتا اور ابوقحافہ کے بیٹے (ابوبکرص) کو منبر پر ایک سیڑھی بھی نہ چڑھنے دیتا لیکن رسول کریم ﷺ نے میرے اور ان کے مقام کو دیکھا اور انہیں کہا ،’’ لوگوں کو نماز پڑھاؤ‘‘ اور مجھے چھوڑ دیا۔ پس ہم اُن سے اپنی دنیا کے لیے اس طرح راضی ہو گئے جیسے رسول کریم ﷺ اُن سے ہمارے دین کے لیے راضی ہوئے۔ ()
ہمارے دعوے کی تائید میں صحیح بخاری کی یہ حدیث بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسص فرماتے ہیں کہ حضرت علی ص رسول کریم ﷺ کے مرضِ وصال میں حضور ﷺ کے پاس سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا ، حضور کیسے ہیں ؟ فرمایا ، بحمداللہ ! اچھے ہیں ۔ حضرت عباسص نے حضرت علیص کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا ،
تم تین دن بعد غیروں کے تابع ہو گے ۔ بخدا میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول کریم ﷺ اس بیماری میں وصال فرمائیں گے ۔ بے شک میں خاندان عبدالمطلب کے چہرے پہچان لیتا ہوں کہ موت کے وقت کیسے ہوتے ہیں۔ تم ہمیں نبی کریم ﷺ کے پاس لے چلو تاکہ حضور ﷺ سے پوچھیں کہ امر خلافت کس کے پاس ہو گا ۔ اگر آپ نے ہمارے متعلق فرمایا تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر آپ نے کسی اور کے متعلق فرمایا تو وہ بھی ہمیں معلوم ہو جائے گا۔ ہم عرض کریں گے کہ آپ ہمارے لئے وصیت فرما دیں ۔
یہ سن کر حضرت علیص نے فرمایا ،’’خدا کی قسم !اگر ہم نے رسولُ اللہ ا سے اس کا سوال کیا اور حضور ﷺ نے منع فرمایا تو لوگ ہمیں کبھی خلافت نہیں دیں گے۔ خدا کی قسم! ہم رسولُ اللہ ا سے اس کا سوال نہیں کریں گے‘‘۔()
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ نے کسی کو اپنا جانشین اور خلیفہ نہیں بنایا تھا بلکہ خلیفہ کے انتخاب کا حق اپنے صحابہ کو دیا تھا۔
اس حدیث سے روافض کے باطل دعووں کی نفی بھی ثابت ہو رہی ہے جو کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت علیص کو خلیفہ بلا فصل بنا دیا تھا اور آپ کی خلافت کے لیے وصیت فرما دی تھی لیکن (معاذ اللہ ) صحابہ کرامث نے انھیں محروم کر دیا ۔
Share:
keyboard_arrow_up