اگر حدیثِ قرطاس سے اور حدیث ’’من کنت مولاہ فعلی مولا ہ‘‘ سے مراد حضرت علی صکی خلافتِ بلا فصل ہوتی تو آپ یہ نہ فرماتے، فَمَنَعْنَاہاَ لاَ یُعْطِیْنَاہَا النَّاسُ۔’’اگر حضور ﷺ نے منع فرما دیاتو لوگ ہمیں کبھی خلافت کا حق نہیں دیں گے‘‘بلکہ آپ فرماتے، ’’حضور ﷺ تو مجھے کئی مرتبہ اپنا خلیفۂ بلا فصل بنا چکے ہیں اس لیے حضور ﷺ سے اس معاملے کی دوبارہ توثیق کرا لیتے ہیں، کوئی مضائقہ نہیں‘‘ لیکن انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی کیونکہ وہ آقا و مولیٰ ا کے ارشاداتِ عالیہ کو زیادہ سمجھنے والے ہیں۔
حق یہ ہے کہ اسی لیے حضرت علیص یہ اندیشہ بیان فرما رہے ہیں کہ حضور ﷺ ہمیں خلافت کا امر دینے سے منع بھی فرما سکتے ہیں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بابِ مدینۃ العلم یہ جان چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ، رسولِ کریم ا اور صحابہ کرام حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ص کو خلافت کے منصب پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سمجھنا اس لیے بھی دشوار نہیں تھا کہ آقا ومولیٰ ا نے مرضِ وصال میں نمازوں کی امامت کے لیے حضرت ابوبکر صدیقص کومقرر فرما کے گویاانہیں اپنا خلیفہ بنا دیا تھا۔
اگر خلفائے راشدین کے معاملے میں غور کیا جائے تو یہ بات بھی بالکل واضح ہوتی ہے کہ حضرت علی صکے خلیفۂ بلا فصل منتخب ہونے کی صورت میں خلفائے ثلاثہ رسول کریم ﷺکی خلافت ونیابت کے منصب پر فائز ہی نہ ہو پاتے اور حضرت علی صکے عہدِ خلافت ہی میں وصال پا جاتے۔
چونکہ رب تعالیٰ اور اس کے رسول ا کی رضا اس میں تھی کہ وہ تینوں حضرات خلیفۂ رسول ا ہونے کی نعمت سے سرفراز ہوں اس لیے رب کریم نے صحابہ کرام کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اسی ترتیب سے خلیفہ کا انتخاب کریں جس ترتیب سے وہ دنیا سے وصال فرمانے والے ہیں تاکہ وہ تینوں حضرات بھی محبوبِ خدا اکے خلیفہ ونائب ہونے کا شرف حاصل کرلیں۔
مسئلہ فَدَکْ کی حقیقت:
مسلمانوں کو جو اموال و املاک کفار سے لڑائی کے بعد حاصل ہوتے ہیں اُنہیں مالِ غنیمت کہتے ہیں اور جو بغیر لڑائی کے حاصل ہوں اُنہیں مالِ فئے کہتے ہیں۔ مالِ غنیمت کے احکام سورۃ الانفال کی آیت ۴۱ میں یوں بیان ہوئے ہیں،
وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءِِ فَاَنَّ لِلہ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ وَمَا اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا ۔
’’اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا‘‘۔()
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مالِ غنیمت کے پانچ حصے کیے جائیں جس میں سے چار حصے لڑنے والے مجاہدین میں تقسیم کر دیے جائیں اور پانچواں حصہ اس آیت میں مذکورمصارف کے لیے وقف کر دیا جائے۔
مالِ فئے کے احکام سورۃ الحشر کی آیت ۷ میں بیان ہوئے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہوا،
مَا اَفَآءَ الله عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ۔()
’’جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے‘‘۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مالِ فئے کسی کی شخصی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ، حضور کے رشتہ داروں ، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔
Page 103 of 134

