Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 104 of 134
فَدَک، مدینہ منورہ سے تین منزل کے فاصلے پر ایک علاقہ تھا جس میں کھجور کے باغات، زرعی زمینیں اور چشمے تھے۔ فدک، خیبر اور بنو نُضیر کے بعض علاقے اموالِ فئے میں سے تھے اور آقا ومولیٰ انے ان کی آمدن کو اپنی، اہلِ بیت کی اور دیگر مسلمانوں کی ضروریات کے لیے وقف فرما دیا تھا جیسا کہ بخاری و مسلم اوردیگر کتبِ احادیث سے ثابت ہے۔
یہ امر مسلمہ ہے کہ جو چیز وقف ہو وہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی، نہ وہ کسی کو ہبہ کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس میں وراثت جاری ہو سکتی ہے۔سرکارِ دوعالم افدک کی آمدن کو جن مصارف میں خرچ فرماتے تھے سیدنا صدیقِ اکبرص اور دیگر خلفائے راشدین نے بھی اس آمدن کو انہی مصارف میں خرچ کیا۔ شیعہ حضرات کا کہنا یہ ہے کہ باغِ فدک کی وارث صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں اور سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک کی وراثت سے محروم کر کے بڑا ظلم کیا (العیاذباللہ)۔
اولاً یہ بات ثابت شدہ ہے کہ فدک اموالِ فئے میں سے تھا اس لیے اس پر وراثت کا حکم نافذ نہیں ہو سکتا تھا۔
ثانیاً یہ کہ بالفرض فدک اگر حضور ﷺ کی میراث ہوتا تو پھر وراثت کا حق صرف حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی کا نہ ہوتا بلکہ امہاتُ المؤمنین ، حضرت عباس ثاور دیگر ورثاء بھی حصہ دار ہوتے۔ پس صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وراثت کا حقدار قرار دینا اور دیگر ورثاء کو محروم کر دینا قرآنی آیات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صکے پاس کسی کے ذریعہ پیغام بھیجا اور حضور کی میراث کا مطالبہ کیا جو مدینے اور فدک میں بطور فے اور خیبر کے خمس میں سے حضور ﷺ کو ملا تھا۔اس پر حضرت ابوبکر صدیق صنے فرمایا،
اِنَّ رَسُوْلُ اللہ ﷺ قَالَ، لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ اِنَّمَا یَاْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ ﷺ فِیْ ھٰذَا الْمَالِ وَاِنِّیْ وَاللہ لاَ اُغَیِّرُ شَیْئاً مِنْ صَدَقَۃِ رَسُوْلِ اللہﷺ عَنْ حَالِھَا الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھَا فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللہ ﷺ۔ وَلَاَعْمَلَنَّ فِیْھَا بِمَا عَمِلَ بِہٖ رَسُوْلُ اللہ ﷺ ۔
رسولُ اللہ اکا ارشاد ہے،ہم کسی کو وارث نہیں بناتے، جو مال ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔البتہ آلِ رسول ا اس مال میں سے کھاتے رہیں گے۔(پھر فرمایا) خدا کی قسم! میں حضور کے صدقہ(خرچ کرنے کے طریقے) میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا۔جس طرح وہ عہدِ نبوت میں خرچ ہوتا تھا اسی طرح اب بھی خرچ ہوگا اور میں ان اموال میں ایسا ہی کروں گاجس طرح رسول کریم ﷺ کیا کرتے تھے‘‘۔()
آپ غور فرمائیے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر ص سے فدک کا مطالبہ ہوا تو آپ نے حدیثِ رسول سنائی اور یہ بھی فرمایا کہ اس کی آمدن آلِ رسول ا پر صرف ہو گی اور جس طرح میرے آقا ومولیٰ ااسے خرچ فرماتے تھے، میں اُ ن کی اتباع میں اسی طرح خرچ کروں گا۔ کیا اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات ہے؟ یقیناً ہرگز نہیں۔
بعض منکرین اندھے تعصب میں یہ افترا کرتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت ابوبکر ص نے اہلبیت کا حق غصب کرنے کے لیے خود سے گھڑ لی(معاذ اللہ)۔ حق یہ ہے کہ یہ حدیث متعدد اکابر صحابہ کرام سے مروی ہے۔
حضرت مالک بن اوس صسے مروی ہے کہ حضرت عمر صکے پاس حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص آئے، پھر حضرت علی اور حضرت عباس بھی آ گئےث۔ آپ نے پہلے اولُ الذکر صحابہ سے دریافت کیا، ’’کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسولُ اللہ انے یہ فرمایا تھا کہ ’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے‘‘۔سب نے کہا، ہاں رسولُ اللہ انے یہ فرمایا ہے۔ اس کے بعد حضرت عمرص نے حضرت علی وحضرت عباس رضی اللہ عنہماسے مخاطب ہو کر فرمایا، میں آپ دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا آپ دونوں جانتے ہیں کہ رسولُ اللہ انے یہ بات فرمائی ہے؟ ان دونوں حضرات نے اقرار کیا، بیشک رسولُ اللہ ا نے یہ فرمایا ہے۔()
Share:
keyboard_arrow_up