Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 105 of 134
صحیح بخاری کتاب الفرائض میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس باب میں حضرت عمر، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد، حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ ث سے بھی روایات مذکور ہیں۔()
اس طرح اس حدیث کے مندرجہ ذیل راوی ہوئے۔
1۔ حضرت ابوبکر ، 2۔ حضرت عمر ، 3۔ حضرت عثمان ، 4۔ حضرت علی ، 5۔ حضرت عباس ، 6۔حضرت عائشہ ، 7۔ حضرت طلحہ ، 8۔ حضرت زبیر ، 9۔حضرت عبدالرحمن بن عوف ، 10۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ، 11۔ حضرت ابوہریرہ ۔ ث
ان میں سے آٹھ صحابہ کرام عشرہ مبشرہ ہیں۔ اب خاندانِ اہلبیت کی ایک اہم گواہی ملاحظہ کیجیے۔ حضرت زید بن علی بن حسین بن علی ثنے فرمایا، اگر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جگہ ہوتا تو میں بھی فدک کے متعلق وہی فیصلہ کرتا جو حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔()
شیعہ حضرات کی مشہور و معتبر کتاب اصول کافی میں امام جعفر صادق صنے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا، ’’علماء انبیاء کے وارث ہیں ۔ بیشک انبیاء کسی کو درہم و دینار (یعنی مال) کا وارث نہیں بناتے بلکہ علم کا وارث بناتے ہیں‘‘۔()
کیا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہوئیں؟
شیعہ حضرات بخاری کی ایک روایت سے یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فدک نہ ملنے پر سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئی تھیں اور زندگی بھر ان سے قطع تعلق کیے رکھا۔ یہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اسوۂ جمیلہ پر عظیم بہتان ہے۔
رسول کریم ﷺ نے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کو حرام کیا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا دنیاوی مال نہ ملنے کے غم میں چھ ماہ تک حضرت ابوبکرص سے ناراض رہی ہوں ، جبکہ حضرت ابوبکرص نے فدک کی آمدن دینے سے قطعاً انکار نہیں کیا بلکہ حدیثِ رسول اسنا کر یہ فرمایا کہ اس کی آمدن آلِ رسول اپر خرچ کی جائے گی۔کوئی مومن یہ سوچ بھی نہیں سکتاکہ حدیثِ رسول ا سن کر حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہوئی ہوں۔
اب ہم اس روایت کے الفاظ پر غور کرتے ہیں۔ فَوَجَدَتْ فَاطِمَۃُ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍ فِیْ ذٰلِکَ فَہَجَرَتْہُ فَلَمْ تُکَلِّمْہُ حَتّٰی تُوُفِّیَتْ ۔
’’حضرت فاطمہ اس پر حضرت ابوبکر سے ناراض ہو گئیں اور ان سے اس کے متعلق کلام نہ کیا یہاں تک کہ انتقال کر گئیں‘‘۔()
دوسری روایت کے الفاظ ہیں،فغضبت فاطمۃ وہجرت ابابکر۔ ’’پس ناراض ہوئیں فاطمہ اور ابوبکر سے اس معاملے میں بات کرنا چھوڑ دی‘‘۔()
یہ بات قابلِ غور ہے کہ فَوَجَدَت یا فَغَضَبَتْ کے الفاظ نہ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہیں اور نہ ہی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بلکہ یہ بعد کے راویوں میں سے کسی کی قیاس آرائی ہے۔ راوی نے ظاہری واقعہ سے جو نتیجہ اخذ کیا وہ اس نے بیان کر دیا۔راوی کا عادل اور ثقہ ہونا اپنی جگہ لیکن نتیجہ اخذ کرنا غلط فہمی پر مبنی ہے۔
حضرت ابوبکر صسے حدیثِ رسول سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا خاموش ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ حدیثِ رسول ا سن کر مطمئن ہو گئیں۔ اور ترکِ کلام کی حقیقت یہ ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکرص سے اس مال کے بارے میں پھر گفتگو نہ کی۔
اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو عمرو بن شیبہ سے مروی ہے،
فلم تکلمہ فی ذلک المال ۔ حضرت سیدہ رضی اللہ عنہا نے اس مال کے بارے میں پھر کبھی کوئی گفتگو نہ کی۔()
ویسے بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتیں اور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد ان کی جدائی کے غم میں تو آپ علیل اور گوشہ نشین ہو گئی تھیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور ان کی رضا مندی چاہتے ہوئے فرمایا،
Share:
keyboard_arrow_up