میرا تمام مال اور میری تمام اولاد سب اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ا اور اہلبیت کی رضا کے لیے وقف ہے۔ یہ سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا راضی ہو گئیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ ()
حضرت ابوبکرص کا حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رضا مندی چاہنا بالکل ویسے ہی ہے جیسے کوئی کسی جاں بہ لب مریض سے معافی کا خواستگار ہو کر اس کی رضا مندی اور دلجوئی چاہتا ہے اور مریض اپنے راضی ہونے کا اظہار کرتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقعی حقیقت میں کوئی ناراضگی تھی۔فدک کے مسئلہ میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حضرت ابوبکرص سے راضی رہنا تو شیعہ حضرات کی کتب سے بھی ثابت ہے۔
شیعہ عالم کمال الدین میثم البحرانی لکھتے ہیں،حضرت ابوبکرص نے جب یہ فرمایا،’’میں اللہ کو گواہ بنا کر عہد کرتا ہوں کہ فدک کے معاملے میں وہی کچھ کروں گاجس طرح رسول کریم ﷺکیا کرتے تھے‘‘، یہ سن کر حضرت سیدہ راضی ہو گئیں اور اس بات پر عمل پیرا رہنے کا پختہ وعدہ کر لیا۔()
ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو حضرت علیص نے حضرت ابوبکرص کو خبر نہ دی۔ اس کی وجہ شارحین نے یہ لکھی کہ حضرت ابوبکر صکی زوجہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کے لیے پہلے ہی سے وہاں موجود تھیں بلکہ انہیں غسل وکفن بھی آپ ہی نے دیا۔ اس لیے حضرت علی صنے اطلاع نہیں دی کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اطلاع کر دی ہوگی۔ بلکہ بعض روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر صنے ہی حضرت سیدہ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
طبقاتِ ابن سعد میں امام شعبی اور امام ابراہیم نخعی رحمہما اللہ سے دو روایتیں موجود ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کی نماز جنازہ حضرت ابوبکر نے پڑھائی۔
الحمدللہ! ان دلائل سے ثابت ہو گیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوبکر صکے درمیان کسی قسم کی ناراضگی نہیں تھی اور وہ رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ کے مظہر تھے۔
اب آخر میں ایک دلچسپ واقعہ پیشِ خدمت ہے جسے امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں تحریر کیا ہے۔
جب بنو عباس کا پہلا خلیفہ سفاح پہلا خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوا تو ایک شخص قرآن پاک گلے میں لٹکائے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا، اے خلیفہ! میرے اور میرے دشمن کے درمیان اس قرآن کے مطابق فیصلہ کر۔ خلیفہ نے پوچھا، تیرا دشمن کون ہے؟ وہ بولا، میرا دشمن ابوبکر ہے جس نے اہلبیت کو فدک نہیں دیا۔ خلیفہ نے پوچھا، کیا ابوبکر نے تجھ پر ظلم کیا؟ اس نے کہا، ہاں۔ پھرپوچھا،کیا اس کے بعد والوں نے بھی ظلم کیا؟ اس نے کہا، ہاں۔ خلیفہ نے پوچھا، کیا عثمان نے بھی؟ کہا، ہاں۔ پوچھا، کیا علی نے بھی ظلم کیا؟ اب اس پر سکتہ طاری ہو گیا اور وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔
حق یہ ہے کہ جس طرح حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان ث نے فدک کی آمدن کو صرف کیا، حضرت علی شیرِخدا صنے بھی اپنے دورِ خلافت میں انہی کی پیروی کی اور ازراہِ وراثت کسی کو اس میں سے کچھ نہ دیا۔ اگر فدک وراثت ہوتا تو حضرت علی صپر اس کی تقسیم فرض تھی لیکن سیدنا علیص اور بعد کے ائمہ اہلبیت نے سیدنا ابوبکر، سیدناعمر اور سیدناعثمان ثکے طریقے کی پیروی کر کے یہ ثابت کردیا کہ حدیث ’’لا نورث ما ترکنا صدقۃ‘‘ حق ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کب بیعت ہوئے؟
امام بخاری اور امام مسلم نے ابن شہاب زہری کی سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی صنے چھ ماہ تک حضرت ابوبکر صسے بیعت نہیں کی۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہو گیا تو حضرت علیص نے حضرت ابوبکر سے بیعت کر لی۔
Page 106 of 134

