اسی روایت میں مذکور ہے کہ ’’حضرت علیص نے کلمۂ شہادت پڑھ کر فرمایا، اے ابوبکر! ہم آپ کی فضیلت کو پہچانتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے (یعنی خلافت ومرتبہ)اسے بھی جانتے ہیں اور اسے آپ سے چھیننا نہیں چاہتے لیکن آپ نے خود ہی یہ (حکومت) حاصل کر لی(یعنی ہمیں مشورہ میں شریک نہیں کیا) حالانکہ رسولُ اللہ ا سے قرابت کی بناء پر ہم بھی اس (مشورے) میں اپنا حق سمجھتے تھے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرص کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
حضرت ابوبکر صنے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! رسولُ اللہ اکے قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں سے زیادہ محبوب ہے اور جن اموال کی وجہ سے میرے اور تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے، میں نے ان میں سے کسی حق کو ترک نہیں کیا۔ میں نے رسولُ اللہ اکو جو جو کام کرتے ہوئے دیکھا میں نے انہیں ترک نہیں کیاہے۔
حضرت علی صنے حضرت ابوبکر صسے کہا، میں دوپہر کے بعد بیعت کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ ظہر کے بعد حضرت ابوبکر صنے منبر پر کلمۂ شہادت پڑھا اور حضرت علی صکا بیعت میں تاخیر کرنے کا عذر بیان کیا۔
پھر حضرت علی صنے کلمۂ شہادت پڑھ کر حضرت ابوبکرص کے حق کی عظمت بیان کی اور یہ بتایا کہ ان کی تاخیر کا سبب یہ نہیں کہ وہ حضرت ابوبکرص کے خلاف خلافت میں رغبت رکھتے تھے اور نہ وہ حضرت ابوبکرص کی اس فضیلت کا انکار کرتے تھے جو رب تعالیٰ نے انہیں دی ہے بلکہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس حکومت (کے مشورے) میں ہمارا بھی کچھ حق ہے جس سے انہوں نے ہمیں محروم کر دیا (یعنی ہمارے مشورے کے بغیر خلیفہ کا انتخاب کر لیا)اس سے ہمیں دکھ پہنچا۔
اس بیان سے مسلمان خوش ہو گئے اور سب نے کہا، آپ نے درست فرمایا۔ حضرت علی صنے جب اس معروف کام کو اختیار کر لیا تومسلمان پھر ان کی طرف مائل ہو گئے۔()
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے متعلق اپنی تحقیق یوں بیان کی ہے، ’’زہری کی یہ روایت منقطع ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے وصال تک حضرت علیص نے بیعت نہیں کی تھی۔اور حضرت ابو سعید خُدری صکی روایت صحیح ہے کہ حضرت علیص نے بھی عام بیعت کے وقت ہی حضرت ابوبکرص سے بیعت کر لی تھی۔
مذکورہ روایت سے شاید زہری کی مراد یہ ہو کہ حضرت علیص بیعت کرنے کے بعد چھ ماہ تک گھر میں (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری میں) مصروف رہے اور اس کے بعد دوبارہ حضرت ابوبکرص کے پاس گئے اور بیعت کے تقاضے پورے کیے‘‘۔()
امام بیہقی رحمہ اللہنے حضرت ابو سعید خُدری صکی جس روایت کا ذکر کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے، آپ نے فرمایا،
جب رسول کریم ﷺ کا وصال ہوا تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا، اے مہاجرین! جب رسول اللہ ﷺ تم میں سے کسی شخص کو کہیں کا عامل بناتے تو ہم میں سے بھی ایک شخص کو اس کے ساتھ عامل بناتے۔اس لیے ہم یہ چاہتے ہیں کہ خلافت کے لیے بھی دو شخص مقرر کیے جائیں ، ایک تم میں سے ہو اور ایک ہم میں سے۔ پھر دوسرے انصاری مقررین نے بھی اسی طرح کی تقاریر کیں۔ ان کے بعد حضرت زید بن ثابت انصاری صکھڑے ہوئے اور فرمایا،
رسول اللہ ﷺ مہاجرین میں سے تھے لہٰذا ان کا خلیفہ بھی مہاجرین میں سے ہونا چاہیے اور جس طرح ہم رسول کریم اکے انصار تھے اس طرح ہم ان کے خلیفہ کے بھی انصار ومددگار رہیں گے۔یہ کہہ کر حضرت ابوبکر صدیق صکا ہاتھ پکڑا اور فرمایا، یہ تمہارے صاحب اور امیر ہیں، اِن سے بیعت کر لو۔ پھر سب نے بیعت کر لی۔
جب حضرت ابوبکرص منبر پر بیٹھ گئے اور لوگوں پر نظر ڈالی تو حضرت علیص نظر نہیں آئے۔آپ نے ان کے متعلق دریافت کیا۔بعض انصاری انہیں بلا کرلائے۔
Page 107 of 134

