Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 108 of 134
حضرت ابوبکرص نے فرمایا، اے رسولُ اللہ اکے چچا زاد اور داماد! کیا آپ مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنا چاہتے ہیں؟ حضرت علیص نے کہا، اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ! مجھے ملامت نہ کریں۔ پھر انہوں نے بیعت کر لی۔
پھر حضرت ابوبکرص نے مجمع میں حضرت زبیرص کو نہ پایا تو لوگ انہیں بھی بلا کر لائے۔ آپ نے ان سے بھی فرمایا، اے رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد اور آپ کے مددگار! کیا آپ مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنا چاہتے ہیں؟
انہوں نے بھی کہا، اے رسولُ اللہ اکے خلیفہ ! مجھے ملامت نہ کریں۔ پھر انہوں نے بھی سیدنا ابوبکر صکی بیعت کر لی۔
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو روایت کر کے فرمایا، یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمہما اللہ کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔()
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ، شرح بخاری میں فرماتے ہیں، امام ابن حبان اور دیگر محدثین نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوسعید خُدری ص وغیرہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی صنے شروع ہی میں حضرت ابوبکر صسے بیعت کر لی تھی اور یہ روایت بخاری ومسلم کی اس روایت سے زیادہ صحیح اور اس پر راجح ہے۔
اگر بخاری و مسلم کی مذکورہ روایت کو تسلیم کیا جائے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ حضرت فاطمہرضی اللہ عنہا کی تیمارداری میں مشغول رہنے کی وجہ سے چونکہ حضرت علی صاکثر وقت حضرت ابوبکر ص کی مجلس سے غیر حاضر رہے تھے اس لیے لوگوں کے اطمینان کی خاطر آپ نے دوبارہ آ کر بیعت کی تجدید کی۔()
سیدنا علیص سیدنا ابوبکرص کو خلافت کا اصل حقدار جانتے تھے، یہ بات متعدد روایات سے ثابت ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفص سے روایت ہے کہ حضرت علی ص اور حضرت زبیرص نے کہا، ہمیں اس بات سے تکلیف پہنچی کہ ہمیں خلافت کے مشورے میں شریک نہیں کیا گیا حالانکہ ہم خوب جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ص ہی خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ آپ رسولُ اللہ ا کے یارِ غار ہیں، ہم ان کے شرف وبزرگی کو پہچانتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ ظاہری میں آپ کو نمازوں کی امامت کا حکم فرمایا تھا۔()
اس بات کی تائید سیدنا امام حسن صکی اس روایت سے بھی ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی صنے فرمایا:
’’ جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا تو ہم نے خلافت کے متعلق غور کیا۔ ہم نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر ص کو نمازوں کے لیے ہم سب کا امام بنا یا تھا۔ پس ہم اپنی دنیا یعنی خلافت کے معاملے میں اس شخص سے راضی ہو گئے جس پر ہمارے آقا و مولیٰ ا ہمارے دین کے معاملے میں راضی تھے‘‘۔()
چندشبہات کا ازالہ
روافض یہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے نو ہجری میں پہلے حضرت ابوبکرص کوحج کا امیر بنایاتھا پھر آپ کو معزول کر کے حضرت علیص کو امیر حج مقرر فرمادیا۔
یہ بات بالکل غلط ہے۔ دراصل اس وقت تک کعبہ میں مشرکین برہنہ طواف کیا کرتے تھے۔اس لیے نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکرص کو امیرِ حج بنا کر بھیجا اور انہیں حج کے تحریری احکام بھی عطا فرمائے۔ پھر ان کے بعد حضرت علی صکو بھیجا تاکہ وہ مشرکین کو سورہ توبہ کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنا دیں۔
جب سیدنا علیص سیدنا ابوبکرص کے قریب پہنچے تو آپ نے پوچھا، امیر بن کر آئے ہو یا مامور؟ حضرت علی صنے عرض کی، میں مامور ہوں۔آٹھ ذوالحجہ کو سیدنا ابوبکرصنے حج کا خطبہ دیا اور لوگوں کو حج کے مسائل سکھائے۔ دس ذوالحجہ کو سیدنا علیص نے لوگوں کو سورہ توبہ کی آیات سنائیں اور حضور ﷺ کے احکام پہنچائے۔ ()
عربوں میں معروف رواج تھا کہ جب کوئی معاہدہ کرنا یا توڑنا ہو تا تو یہ کام یا تو صاحبِ معاملہ خود کرتا یا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار، تاکہ شک وشبہ نہ رہے۔اسی لیے نبی کریم ﷺ نے مشرکوں سے برأت کا اعلان کرنے کے لیے حضرت علیص کو بھیجا۔
Share:
keyboard_arrow_up