Fazail e Sahaba wa Ahlebait

Total Pages: 134

Page 109 of 134
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ یہ اعلان کرنے میں حضرت علیص تنہا نہیں تھے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ صفرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکرص نے ایک جماعت کے ساتھ یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی برہنہ طواف کرے۔
ترمذی وحاکم وبیہقی کی روایت میں ہے کہ حضرت علیص یہ اعلان کرتے اور جب وہ تھک جاتے تو حضرت ابوبکرص یہ اعلان کرتے۔
ان دلائل سے معلوم ہوا کہ اس سال امیرِ حج سیدنا ابوبکرص ہی تھے اور سیدنا علیص عربوں کے مذکورہ رواج کو پورا کرنے آئے تھے۔ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوبکرص نے اپنے مقرر کردہ اعلان کرنے والوں کو معزول نہیں کیا بلکہ ان کو سیدنا علیص کا شریکِ کار بنا دیا۔
روافض کا دوسرا شبہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے مرض الوصال میں حضرت ابوبکرصکو پہلے امام مقرر فرمایا تھا مگر بعد میں امامت سے معزول کر دیا تھا۔لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔
صحیح بخاری میں حضرت انس صسے مروی ہے کہ پیر کے دن حضرت ابوبکرص صحابہ کونماز فجر پڑھا رہے تھے کہ اچانک رسول کریم ﷺنے سیدہ عائشہ رضی ا للہ عنہا کے حجرے کا پردہ اٹھا کر لوگوں کو صفیں باندھے دیکھا تو تبسم فرمایا۔
حضرت ابوبکرص اس خیال سے پیچھے ہٹنے لگے کہ شایدآقا ومولیٰا نماز میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے ہاتھ مبارک کے اشارے سے فرمایا ، اپنی نماز پوری کرو۔ پھر آپ نے حجرے کا پردہ گرا دیا ۔اور اسی روز چاشت کے وقت آپ کا وصال ہو گیا۔
اس حدیث پاک سے ثابت ہو گیا کہ سیدنا ابوبکرص حضور ﷺ کے وصالِ ظاہری تک امامت فرماتے رہے اور اس بارے میں کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا اور اسی بات کو سیدنا علیص نے آپ کی خلافت کی دلیل سمجھ کر آپ سے بیعت کی جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکا۔ ایک روایت کے مطابق آپ ا کی بیماری کے ایام میں سیدنا ابوبکرص نے سترہ (۱۷) نمازوں کی امامت فرمائی۔
حضرت ابن عباس رضی ا للہ عنہما سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰا نے اپنی امت میں سے سوائے حضرت ابوبکر صکے کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھی البتہ ایک سفر میں حضرت عبدالرحمن بن عوف صکے پیچھے ایک رکعت ادا فرمائی ہے۔یہ سیدنا ابوبکرصکا ایسا اعزاز ہے جو دیگر خلفائے راشدین میں سے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔
روافض یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت علیص اور ائمہ اہلبیتث نے سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی جو تعریف کی ہے وہ محض تقیہ کے طور پر ہے یعنی جو وہ لوگوں سے کہتے تھے، ان کے دل میں اس کے برعکس ہوتا تھا۔(معاذ اللہ)
بلاشبہ ایسا عقیدہ شیرِخدا اور ائمہ اہلبیتث پر عظیم بہتان ہے۔ امام دار قطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوجحیفہ محبت کی بناء پر حضرت علی ص کو اس امت کا افضل ترین شخص کہا کرتا۔ حضرت علی صکو یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوجحیفہ لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے بہت مغموم ہے تو آپ نے اسے گھر بلا کر فرمایا، میں تجھے اس امت کے افضل ترین شخص کے بارے میں بتاؤں؟ وہ حضرت ابوبکرص ہیں پھر حضرت عمرص ۔
ابوجحیفہص کہتے ہیں کہ جب سے حضرت علی صنے یہ بات مجھ سے بالمشافہ کہی، میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کر لیا کہ جب تک میں زندہ ہوں ، ان کی اس حدیث کو نہیں چھپاؤں گا۔
جو کوئی حضرت علیص کی اس بات کو تقیہ کہتا ہے وہ بے عقل اور کذاب ہے۔یہ بات آپ نے علیحدگی میں اپنے زمانۂ خلافت میں کہی ہے پھر آپ نے اسے کوفہ کے منبر پر بھی بیان فرمایا ہے اور کوفہ میں آپ اہلِ بصرہ کی جنگ سے فراغت کے بعد تشریف لائے ہیں۔ یہ بات نہایت قوی اور زبردست نافذ ہونے والا حکم ہے کیونکہ یہ بات آپ نے حضراتِ شیخین کے وصال کے طویل عرصہ بعد فرمائی ہے۔
Share:
keyboard_arrow_up